آدم اور خُدا

افسانوی مجموعہ از محمد امین الدین

 

محمد امین الدین ،جو  ہم عصر پاکستانی افسانہ نگاروں میں ممتاز اور اہم مقام  رکھتے  ہیں ، ان کی مختصر افسانو ں کی کتاب ’’آدم اور خُدا‘‘  ۲۰۱۵ ء میں شایع ہوئی۔ محمد امین الدین معاصر اردو افسانہ نگاری میں ایک ایسا نام ہے جن کے افسانے فکری گہرائی، روحانی مکالمے اور لسانی انفرادیت کے حامل ہیں۔ ان کی کتاب ’’آدم اور خدا‘‘ اردو فکشن میں نہ صرف وجودی اور روحانی سوالات کو جنم دیتی ہے بل کہ ایک ایسا اسلوب بھی متعارف کراتی ہے جو سادہ، بامعنی اور علامتی ہے۔افسانوں کا آغاز ایک ایسے افسانے سے ہوتا ہے جس میں  آدم اور خدا کے بیچ فلسفیانہ گفت و شنید اور فکری نشوونما اُن کا موضوعی محور ہے جب کہ  آدم اور خدا کے بیچ فلسفیانہ گفت و شنید اور فکری نشوونما روحانی جہت کو ظاہر کرتا ہے۔ دیگر افسانوں کیں ادبیانہ اسلوب واضح ہے جہاں مختصر، معنی خیز کہانیاں  ملتی ہیں ، جن میں فلسفہ اور روزمرہ کی بُنیاد یکجا ہوتی ہے۔

آدم اور خدا ایک ایسا ادبی مجموعہ ہے جہاں افسانہ نگاری کو روحانی اور فلسفیانہ سوچ کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ مصنف نے زندگی کی روزمرہ حقیقتوں کے بیچ معنویت تلاش کرتے ہوئے دل و دماغ کو فکر میں مبتلا کیا ہے۔ جہاں آغاز  میں کتاب کے افسانوں کا محور بنیادی طور پر انسان اور وجود کے معاملے میں خدا کی فکر، وجود اور کردار کے گرد گھومتا ہے۔ افسانوں میں آدم اور خدا کی نمائش نہ صرف علامتی ہے بل کہ فکر انگیز مکالمات کے ذریعے انسانی روح کی گہرائیوں کا آئینہ بھی ہے۔ اگرچہ کتاب نے روحانی تفکر کو کامیابی سے ادبی شکل دی، مگر خاموش رہ جانے والے سوالات—جیسے سماجی ربط، تاریخی پس منظر یا فلسفہِ انسانی کا زیادہ تنوع—کا حوالہ دیا جا سکتا ہے تاکہ مزید گہرائی میں داخل ہوں۔

 ۔’’تم ایک اجنبی دنیا میں ہو۔ اسے اپنے اندر سے کسی نے آواز دے کر یاد دلایا، مگر اسے لگا کہ آنکھیں کھول کر باہر کی دنیا کا سامنا کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔

تب اس نے اپنی آنکھیں کھول دیں۔

تیز روشن دار چمک اس کی منتظر تھی۔ اس نے گھبرا کر فورا ً آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے جسم کے رگ وپے میں ٹھنڈی لہر دوڑ گئی۔ رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ ایسا لگا جیسے سرد ہوا کا جھونکا اس کے  بدن میں سرائیت کر گیا ہو۔ وہ حیران تھا۔ میں نے کیا دیکھا ہے؟ ایک دوسرے میں پیوست ہوتی ہوئی چمکیلی کرنیں شاید نہیں، ایک دوسرے کو کاٹتے ہوے چمکیلے گولے …. یا ایک سے دوسری میں گم ہوتی روشنی یا پھر ہزاروں ٹکڑوں میں بٹی ہوئی میری زندگی میرا جسم .۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘۔۔(آدم اور خُدا)

آدم اور خدا نہ صرف اردو افسانہ نگاری کا ایک اہم اضافی ہے بل کہ ادبی اور فکری طور پر بھی اہلِ علم اور مطالعہ پسند افراد کے لیے غور و فکر کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس میں مصنف نے اپنی روحانی اور فکری پہلو کو افسانوی حسن کے ساتھ پیش کیا ہے۔

اس کتاب کے پہلے اور سب سے بہترین افسانے ’’آدم اور خدا‘‘کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ افسانہ پورے مجموعے کا فکری محور ہے۔ اس میں آدم اور خدا کا مکالمہ نہ صرف علامتی ہے بل کہ انسانی وجود اور اس کے سوالات کا آئینہ بھی ہے۔ افسانے میں انسان اپنی تخلیق، اپنی بے بسی اور کائنات میں اپنی حیثیت پر سوال کرتا ہے۔ ’’آدم‘‘ دراصل ہر انسان کی نمائندگی کرتا ہے جو اپنے خالق سے جواب چاہتا ہے۔افسانے میں مکالماتی انداز غالب ہے۔ جملے چھوٹے مگر معنویت سے بھرپور ہیں۔ سوال و جواب کی شکل میں کہانی قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔یہ افسانہ اردو ادب میں انسان اور خدا کے رشتے کو ایک تخلیقی اور علامتی پیرائے میں پیش کرتا ہے۔ وجودی فکر  اور روحانی سوالات کا امتزاج اسے فلسفیانہ رنگ دیتا ہے۔

مصنف کے  ہاں فلسفیانہ علامتیں اور روحانی مکالمات نمایاں ہیں۔وہ کہانی کو محض قصہ گوئی نہیں سمجھتے بل کہ  اسے فکری مکاشفہ  کا ذریعہ بناتے ہیں۔’’آدم اور خدا‘‘ جیسے افسانے وجودی فکر کی نمائندگی کرتے ہیں، جب کہ’’ ساٹن پر پڑی سلوٹیں، مصورہ،  آگ سے برف کی ملاقات، چائے کے دو خالی مگ‘‘سماجی شعور ، معاشرتی اقدار کی گرتی دیواروں اور رشتوں کے کھوکھلے پن کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس طرح کتاب ایک ہمہ گیر ادبی کائنات تخلیق کرتی ہے جہاں انسان، خدا، معاشرہ اور روحانیت سب یکجا ہیں۔

’’ اب کیٹ واک کہاں کر کے دکھاؤں؟“

میں چونک کر پلٹا، اور انھیں دیکھ کر حیران رہ گیا ۔ انھیں دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ پچاس سال سے زیادہ عمر کی ہیں۔ انھوں نے مجھے دیکھا اور ایک ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے کہا۔

پتھر کی مورتیوں پر ایسے کپڑے اچھے نہیں لگتے۔

کوئی احمق ہی ہو گا جو آپ کو پتھر کہے گا۔ میں نے ان کا سر تا پا جائزہ لیتے ہوے کہا۔

گذشتہ دس گیارہ ماہ کے دوران اس اپارٹمنٹ کے کچھ اور فلیٹ آباد ہو گئے تھے، اور چوکیدار بھی آگیا تھا، تاہم گیلری کے سامنے کا منظر اب بھی پہلے جیسا ویران ہی تھا۔ میں ایک ماہر فیشن ڈیزائنر کی مانند فائبر کی ڈمی کو پہنائے ہوئی میکسی کی طرح، چاروں طرف سے جائزہ لینے لگا۔ وہ فائبر کی مورتی کی طرح گردن تا نے سیدھی کھڑی ہوئی تھیں۔ میں ان کی پشت پر چلا گیا اور پھر ہاتھ بڑھا کر ان کے کندھے پر بندھی باریک ڈوری کی گرہ دھیرے سے کھول دی۔ ساٹن پھسلتی ہوئی نیچے آ گری۔

فلیٹ کے اندر سے آتی ہوئی روشنی میں میں انھیں دیکھ سکتا تھا۔ دھیرے دھیرے وہ میری طرف پلیٹیں اور پھر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولیں۔

مجھے چھونے سے پہلے میرے ایک سوال کا جواب دو۔

کیا ؟ وہ میرے سامنے بے لباس تھیں ، مگر میری آنکھیں صرف دکھائی دینے والی بے قراری اور بے بسی کو دیکھ رہی تھیں، جو کسی بھی لمحے ان کی آنکھوں سے آنسو کی صورت میں چھلکنے والی تھی۔‘‘۔۔۔۔۔۔(ساٹن پر پڑی سلوٹیں)

اگر افسانہ نگار کے لسانی اسلوب پر روشنی ڈالی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ افسانے میں سوال و جواب کی شکل میں زبان استعمال کی گئی ہے، جو قاری کو فلسفیانہ مکالمے کا حصہ بنا دیتی ہے۔افسانہ نگار کے الفاظ بظاہر سادہ ہیں لیکن ان میں گہرا فکری وزن چھپا ہوا ہے، مثلاً آدم کے سوالات عام انسانی تجربے سے جڑے ہیں مگر ان کے جوابات قاری کو  سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔اہم الفاظ اور جملے بار بار آتے ہیں تاکہ ایک لَے اور معنوی زور پیدا ہو۔ زبان میں “روشنی” اور “اندھیرا” بار بار بطور علامت استعمال ہوئے ہیں۔ یہ محض بصری لفظ نہیں بل کہ پورے فکری پس منظر کو روشن کرتے ہیں۔

میں دفتر کے مقررہ وقت سے آدھا گھنٹہ پہلے ہی اٹھ گیا تھا، اور اب شارع فیصل سے گلشن جانے والی سڑک پر مڑ رہا تھا۔ ویسے تو ایک مطلق العنان بادشاہ کے نام سے منسوب آنت کی طرح لمبی اس شارع پر گاڑی چلاتے ہوئے ڈرائیور خود بھی کچھ دیر کے لیے حکمرانوں کی طرح خود سر اور انا پرست ہو جاتا ہے۔ مگر شہر میں دل کی شریان کی طرح جاتی ہوئی اس سڑک کے بارے میں اب کچھ لوگوں کو معلوم ہو گیا ہے کہ غصے کے کلسٹرول سے اس کو بلاک کر کے پورے شہر کے وجود کو مفلوج کیا جا سکتا ہے۔ دائیں طرف مڑتے ہوے پل پر چڑھتے ، خوف اور اترتے ہوئے شکر ادا کرنا واجب ہے، کیوں کہ ٹھیکے دار نے اس کے سلیب میں اتنے بڑے بڑے سوراخ ڈال دیتے ہیں کہ اتنے سوراخوں والا کوئی لباس پہنے تو بالکل ننگا ہی نظر آئے۔ سماج کے اس برہنہ کردار پر لعنت بھیجتے ہوئے میں نے سوچا چلو جان چھوٹی۔۔۔۔( بے حسی کو وائبریشن دو)

اسی طرح مصنف قاری کے سامنے تاریکی اور روشنی کا منظر اس طرح بُنتا ہے کہ قاری کو دیکھنے، چھونے اور محسوس کرنے کا تجربہ ہوتا ہے۔الفاظ کے تضاد کا استعمال، انسانی نفسیات کی منظر کشی،اور زبان میں ایسے جملے شامل ہیں جو سکوت اور خاموشی کی کیفیت کو براہِ راست قاری تک پہنچاتے ہیں۔ یہاں لمبے اور پیچیدہ جملوں کے بجائے چھوٹے اور مؤثر جملے استعمال ہوئے ہیں جو  نہ صرف کردار کے داخلی کرب کو ابھارتے ہیں بل کہ  طنزیہ نشتر کی کیفیت بھی پیش کرتے ہیں۔

میں ابھی بند کر دیتا ہوں ۔ بوڑھے نے گھگھیاتے ہوئے اپنے بے بس ہاتھوں کو یہ سوچ کر لبرایا کہ جس طرح اس کا بیٹا ہاتھ کے اشاروں کو سمجھ لیتا ہے، یہ نوجوان بھی جو بیٹے جیسا ہی ہے، سمجھ لے گا۔

’’یہ ایسے نہیں مانے گا۔ پیٹرول کا ڈبادو۔“ نوجوان نے اپنے ساتھ والے کو آواز دی۔

 بوڑھے نے ہاتھ جوڑتے ہوئے التجا کی۔ مگر اتنی دیر میں لڑکا پیٹرول سے بھرا ڈبا دکان کے اندر اچھال چکا تھا۔ کھلا ہوا ؤ با لہراتا ہوا دکان کے اندر کتابوں سے بھری دیواروں پر ناچتے فوارے کی طرح گرا۔ لمحوں میں کسی طرف سے پھینکی ہوئی جلتی دیا سلائی اُڑ کر دکان کے اندر جا گری۔

بوڑھے کی التجا حلق میں پھنس کر رہ گئی۔ کسی کو نہ سنائی دینے والی بہت ہی کمزور آواز میں وہ بولا۔

’’یہاں درجنوں قرآن مجید رکھے ہیں۔‘‘ بوڑھے کی آواز چاروں طرف پھیلے شور میں دب کر رہ گئی تھی۔ دین محمد اینڈ سنز بک اسٹور کی کتابوں کا پیوں کے کاغذ اور شعلوں نے ایک دوسرے کو بہت ہی تیزی سے گلے لگایا تھا۔۔۔۔( فائربرگیڈ درگار ہے)

 افسانہ نگار نے جا بجا افسانوں میں علامتی لفظیات کا استعمال کیا ہے جس سے  مکالماتی  اور سوال و جواب  کا اسلوب مذید معنی خیز ہو گیا ہے۔

سوال و جواب کا  انداز ملاحظہ ہو

بوڑھا در بیچے کی جانب رخ کیے کھڑا ہوا تھا۔ اچانک اسے اپنے پیچھے آہٹ محسوس ہوئی۔

اس نے پلٹ کر دیکھا۔ اس کی بیوی چائے کے دو منگ ہاتھ میں لیے کھڑی ہوئی تھی۔ وہ بولا ۔ گھر میں پانی تو تھا نہیں ۔ تم نے چائے کیسے بنائی ؟

کیا مطلب؟ بیوی نے درمیانی تپائی پر منگ رکھتے ہوئے حیرت سے کہا۔ اور پھر برسوں سے سنتی چلی آئی بوڑھے کی بے ربط باتوں کو دھیان میں لاتے ہوے بولی ۔ کھڑکی بند کیوں نہیں کر دیتے۔ کمرے میں گرد جمع ہونے کی وجہ سے مجھے زیادہ مشقت کرنا پڑتی ہے۔ اب مجھ سے اتنی جھاڑ پونچھ نہیں ہوتی ۔“

میری چیزوں سے گرد صاف مت کیا کرو۔ میں اب اس کا عادی ہونا چاہتا ہوں۔“ بوڑھے نے خود کو مٹی سے بھری اندھیری قبر میں محسوس کرتے ہوئے مزید کہا۔ پلمبر اب تک کیوں نہیں آیا ؟

آپ کسی پلمبر کی بات کر رہے ہو؟ بیوی نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے مزید کہا۔ ” آج سے ہم پھیکی چائے پیا کریں گے ۔“

د تم مجھے برسوں سے پھیکی چائے ہی پلا رہی ہو ۔ بوڑھا برسوں کا حساب لگانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولا ۔

پلمبر کو آپ نے کب بلوایا ؟ ابھی پچھلے مہینے ہی تو وہ سارے پائپ تبدیل کر کے گیا ہے ۔“

بیوی جو بوڑھے کی عادتوں کا حساب کتاب برسوں سے سنبھالتی چلی آرہی تھی، نے بوڑھے کے پہلے سوال کا جواب دیا۔

میں تو دیر سے اُسے گلی میں تلاش کر رہا ہوں ۔ تم نے مجھے روکا کیوں نہیں ۔“ اس بار بوڑھے نے خیال کی ڈور کو مضبوطی سے تھام لیا تھا۔۔۔۔ (چائے کے دو خالی مگ)

یہ بھی پڑھیں۔

داستان امیر حمزہ اور طلسم ہوش ربا کا تعارف ،تجزیہ ،کہانی اور کرداروں کا مطالعہ

داستانِ امیر حمزہ اردو ادب کی عظیم اور کلاسیکی داستانوں میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ داستانِ امیر حمزہ کا سب سے مشہور اور مقبول حصہ طلسمِ ہوشربا ہے اُردو ادب میں ایک مستقل داستان کی حیثیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں

باغ و بہار  کا خلاصہ، تنقیدی جائزہ ،کردار نگاری اور پی ڈی ایف کتب

باغ و بہار‘‘ اردو کلاسیکی نثر کا ایک شاہکار ہے، جس کا خلاصہ، تنقیدی جائزہ اور کردار نگاری آج بھی ادب کے طلبا اور محققین کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس کتاب میں میر امن دہلوی کی روایت کردہ داستان نہ صرف اسلوبِ بیان کی خوبصورتی دکھاتی ہے بل کہ کرداروں کی نفسیاتی پرتیں بھی واضح کرتی ہےزیرِ نظر تحریر میں ’’باغ و بہار پی ڈی ایف‘‘اور اس داستان سے متعلق پی ۔ڈی ۔ایف مواد بھی شامل کردیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں

مثنوی قطب مشتری کا خلاصہ،اسلوب اور ملا وجہی کا تعارف

’’قطب مشتری‘‘ محمد قلی قطب شاہ اور مشتری کے عشق کی داستان ہے اور اسی مناسبت سے اس کا نام ’’قطب مشتری‘‘ رکھا گیا ہے۔ یہ ’’مشتری‘‘ وہی ہے جو بھاگ متی کے نام سے مشہور تھی اور اپنے رقص و موسیقی اور حسن و جمال کی وجہ سے شہرت رکھتی تھی۔

مزید پڑھیں

امام بخش ناسخؔ

شیخ امام بخش، جنھیں دنیائے ادب میں ناسخؔ کے تخلص سے شہرت حاصل ہوئی، اردو شاعری کے ان درخشاں ستاروں میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے لکھنؤ کی ادبی فضا کو جِلا بخشی۔

مزید پڑھیں

ہمارے بارے میں

ذوقِ ادب  ایک آن لائن ادبی دنیا ہے جہاں اردو کے دلدادہ افراد کو نثر و نظم کی مختلف اصناف، کلاسیکی و جدید ادب، تنقید، تحقیق، اور تخلیقی تحریریں پڑھنے اور لکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد اردو زبان و ادب کے فروغ، نئی نسل میں مطالعہ کا ذوق بیدار کرنے اور قاری و قلم کار کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنا ہے۔

Contact

+923214621836

lorelsara0@gmail.com

Scroll to Top