سیرت النبی پروگرام، پاکستان کے لیے ستارہ امتیاز (۱۹۸۳ء)
تعلیمی نصاب کی ترقی کے لیے نشان امتیاز ، پاکستان(۱۹۸۸ء)۔۔۔۔۔۔۔(۱)
عابد اللہ غازی نے ۱۹۸۳ءمیں سکوکی، الینوائے، امریکہ میں اقراء انٹرنیشنل ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی تاکہ امریکی مسلمان بچوں کو ان کے عقیدے کے بارے میں سکھایا جا سکے۔
’’ ۱۹۸۳ءسے، اقراء( IQRA) اسلامی نصاب اور تعلیم میں سب سے بڑا نام رہا ہے۔ ہم نے اسلامی ویک اینڈ اسکولوں اور کل وقتی اسکولوں دونوں کے لیے اسلامی نصاب کے حل تیار کیے ہیں۔ ہمارا اسلامی علوم کا نصاب عربی زبان، قرآن، سیرت، عقیدہ، فقہ، اخلاق اور اسلامی تاریخ پر مشتمل ہے۔ ہر گریڈ میں اسلامی علوم کی نصابی کتب، ورک بک اور اساتذہ کے کتابچے آتے ہیں۔‘‘۔۔۔۔۔۔(۲)
انھوں نے تقریباً ۱۰۰نصابی کتابیں اور غیر افسانوی، افسانہ اور شاعری کی ضمنی “افزودگی” کتابیں شائع کیں۔ وہ امریکہ میں بک کلب اور بک شاپ بھی چلاتے تھے۔ انھوں نے خود کو ۱۹۸۷ء میں اقراء چیریٹیبل سوسائٹی سے جوڑا۔ اس گروپ کے سربراہ اب بھی عابد اللہ غازی ہیں۔ وہ اور ان کی اہلیہ تسنیمہ غازی بھارت میں پیدا ہوئے، مزید تعلیم حاصل کرنے اور اعلیٰ ڈگریاں حاصل کرنے کے لیے امریکہ آئے۔ بعد میں انھوں نے اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ امریکہ میں آباد ہونے کا فیصلہ کیا۔
’’ ڈاکٹر غازی اسلامی نصاب پر تقریباً ۱۵۰متنی اور معاون کتابوں کے مصنف اور ایڈیٹر تھے جو اپنی اہلیہ ڈاکٹر تسنیمہ غازی کے ساتھ مل کر خاص طور پر مغربی ممالک میں رہنے والے یا انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھنے والے مسلمان بچوں کے لیے تیار کیے گئے تھے۔ وہ اردنی رائل اکیڈمی کی طرف سے منتخب دنیا کے ۵۰۰بااثر مسلمانوں میں شامل تھے۔‘‘۔۔۔۔۔۔(۳)
ابو عمار زاہدُالراشدی ایک کالم میں ڈاکٹر عابد اللہ غازی کا تعارف یوں کرواتے ہیں:
’’ ڈاکٹر صاحب کا تعلق بھارت سے ہے۔ ان کے پردادا مولانا محمد عبید اللہؒ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے داماد تھے اور علی گڑھ یونیورسٹی میں شعبہ اسلامیات کے پہلے سربراہ تھے۔ وہ تعلیمی ذوق کے بزرگ تھے مگر ان کے فرزند اور ڈاکٹر عبید اللہ غازی صاحب کے دادا مولانا منصور انصاری کا شمار تحریک آزادی کے نامور رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ وہ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے شاگرد تھے اور ان کی خاص جماعت کے رکن تھے۔ اور حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے قریبی ساتھیوں میں انہیں دست راست کی حیثیت حاصل تھی۔حضرت شیخ الہندؒ کے حکم پر کابل ہجرت کی اور مولانا سندھیؒ کے ساتھ مل کر نہ صرف ہندوستان کی تحریک آزادی کے لیے کام کیا بلکہ برطانوی استعمار کی عسکری یلغار کے خلاف افغانستان کے استقلال اور آزادی کی جنگ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔‘‘۔۔۔۔۔(۴)
جب کہ حسین عبیوہ لکھتے ہیں:
“He is a unique person given that in him are blended the moderation of his traditional Islamic upbringing, deep appreciation of the rich diversity of South Asian traditions and an inherent appreciation of the humanistic heritage of the West and practical experience of involvement in interfaith dialogue, almost from his youth in India. His teacher, Professor Habib at Aligarh wrote in 1959 about his student, “Abidullah Ghazi is the very best of the students that this University has produced, both from the perspective of academics and social service.” Prominent Indi- an educator Syed Hamid described him in one his articles as, “a, man of millennium”……..(5)
پروفیسر نوالحسن نقوی فرماتے ہیں:
’’ غازی صاحب کی شخصیت ایک ایسا آئینہ ہے جس میں قدیم اور جدید ، مشرق اور مغرب دونوں کے رنگ ایک ساتھ جھلکتے ہیں ۔ اسے ان کی خوش قسمتی ہی کیسے کہ قدیم و جدید تعلیم کے شہرہ آفاق اداروں سے فیض اٹھانے کا انھیں بھر پور موقع ملا۔ سرسید کے ادارے نے ان کے دل میں کچھ کرنے کی تڑپ پیدا کی ۔ ملک سے دور شکاگو میں بیٹھ کر انھیں ساری دنیا کی سیاست کو جاننے اور عالم اسلام کی کوتاہیوں کو سمجھنے کا موقع ملا۔ آج وہ جس مقام پر ہیں اس تک پہنچنے میں انھیں آگ کے کئی دریاؤں کو پار کرنا پڑا۔ اس تجربے نے انھیں بہت کچھ سکھایا۔‘‘۔۔۔۔۔۔(۶)
وہ چائے کی پیالی پہ یاروں کے جلسے
وہ سردی کی راتیں وہ زلفوں کے قصے
کبھی تذکرے حسن شعلہ رخاں کے
محبت ہوئی تھی کسی کو کسی سے
ہر اک دل وہاں تھا نظر کا نشانہ
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
بہت اپنا انداز تھا لاابالی
کبھی تھے جلالی کبھی تھے جمالی
کبھی بات میں بات یوں ہی نکالی
سر راہ کوئی قیامت اٹھا لی
کسی کو لڑانا کسی کو بچانا
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
کبھی سچی باتوں کو جھوٹا بتایا
کبھی جھوٹی باتوں کو سچ کر دکھایا
کبھی راز دل کہہ کے اس کو چھپایا
کبھی دوستوں میں یوں ہی کچھ اڑایا
بتا کر چھپانا چھپا کر بتانا
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
کبھی بزم احباب میں شعلہ افشاں
کبھی یونین میں تھے شمشیر براں
کبھی بزم واعظ میں تھے پا بہ جولاں
بدلتے تھے ہر روز تقدیر دوراں
جہاں جیسی ڈفلی وہاں ویسا گانا
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
زمانہ تھا وہ ایک حیوانیت کا
وہ دور ملامت تھا شیطانیت کا
ہمیں درد تھا ایک انسانیت کا
اٹھائے علم ہم تھے حقانیت کا
بڑھے جا رہے تھے مگر باغیانہ
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
مقابل میں آئے جسارت تھی کس کو
کوئی روک دے بڑھ کے ہمت تھی کس کو
پکارے کوئی ہم کو طاقت تھی کس کو
کہ ہر بوالہوس کو تھے ہم تازیانہ
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
خیالات پر شوق کا سلسلہ تھا
بدل دیں زمانے کو وہ حوصلہ تھا
ہر اک دل میں پیدا نیا ولولہ تھا
ہر اک گام احباب کا قافلہ تھا
ادھر دعویٰ کرنا ادھر کر دکھانا
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
وہ شہہ راہ میرس کے پر پیچ چکر
وہ شمشاد بلڈنگ پہ اک شور محشر
وہ مبہم سی باتیں وہ پوشیدہ نشتر
وہ بے فکر دنیا وہ لفظوں کے دفتر
کہ جن کا سرا تھا نہ کوئی ٹھکانہ
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
کسی کو ہوئی تھی کسی سے محبت
کوئی کر رہا تھا کسی کی شکایت
غرض روز ڈھاتی تھی تازہ قیامت
کسی کی شباہت کسی کی ملامت
کسی کی تسلی کسی کا ستانا
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
کوئی غم زدہ تھا کوئی ہنس رہا تھا
کوئی حسن ناہید پر مر مٹا تھا
کوئی چشم نرگس کا بیمار سا تھا
کوئی بس یوں ہی تاکتا جھانکتا تھا
کبھی چوٹ کھانا کبھی مسکرانا
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
وہ ہر جنوری میں نمائش کے چرچے
وہ پر شوق آنکھیں وہ حیران جلوے
وہ چکر پہ چکر تھے بارہ دری کے
وہ حسرت کہ سو بار مل کر بھی ملتے
ہزاروں بہانوں کا وہ اک بہانا
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
وہ رخ آفتابی پہ ابرو ہلالی
وہ تمثال سیمیں وہ حسن مثالی
شگوفوں میں کھیلی گلابوں میں پالی
وہ خود اک ادا تھی ادا بھی نرالی
نگاہیں بچا کر نگاہیں ملا کر
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
وہ ہرچند مجھ کو نہیں جانتی تھی
مگر میری نظروں کو پہچانتی تھی
اگرچہ مرے دل میں وہ بس گئی تھی
مگر بات بس دل کی دل میں رہی تھی
مگر آج احباب سے کیا چھپانا
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
وہ اک شام برسات کی دن ڈھلا تھا
ابھی رات آئی نہ تھی جھٹپٹا تھا
وہ باد بہاری سے اک گل کھلا تھا
دھڑکتے ہوئے دل سے اک دل ملا تھا
نظر سن رہی تھی نظر کا فسانہ
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
جوانی اداؤں میں بل کھا رہی تھی
کہانی نگاہوں میں لہرا رہی تھی
محبت محبت کو سمجھا رہی تھی
وہ چشم تمنا جھکی جا رہی تھی
قیامت سے پہلے قیامت وہ ڈھانا
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
ہمیں بیتی باتیں جو یاد آ رہی تھیں
وہ مخمور نظریں جو شرما رہی تھیں
بہت عقل سادہ کو بہکا رہی تھیں
بڑی بے نیازی سے فرما رہی تھیں
انہیں یاد رکھنا ہمیں بھول جانا
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
اب وہ امنگیں نہ دل میں مرادیں
اب رہ گئیں چند ماضی کی یادیں
یہ جی چاہتا ہے انہیں بھی بھلا دیں
غم زندگی کو کہاں تک دعا دیں
حقیقت بھی اب بن گئی ہے فسانہ
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
علی گڑھ ہے بڑھ کر ہمیں کل جہاں سے
ہمیں عشق ہے اپنی اردو زباں سے
ہمیں پیار ہے اپنے نام و نشاں سے
یہاں آ گئے ہم نہ جانے کہاں سے
قسم دے کے ہم کو کسی کا بلانا
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
محبت سے یکسر ہے انجان دنیا
یہ ویران بستی پریشان دنیا
کمال خرد سے یہ حیران دنیا
خود اپنے کیے پر پشیمان دنیا
کہاں لے کے آیا ہمیں آب و دانہ
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ