آغا بابر کی کتاب ’’چاکِ گریباں‘‘ جدید اردو افسانے کی اس روایت سے جڑی ہوئی ہے جس میں انسان کو محض ایک سماجی اکائی کے طور پر نہیں ، ایک نفسیاتی اور جذباتی وجود کے طور پر پیش کیا گیاہے۔آغا بابر نے اس مجموعے کے افسانوں میں زندگی کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے کرداروں کو پیش کیا ہے، جو اپنے اپنے داخلی تضادات، محرومیوں اور خواہشات کے ساتھ قاری کے روبرو آتے ہیں۔
آغا بابر کے افسانوں کا امتیاز یہ ہے کہ وہ کرداروں کے جذبات کو پردۂ اخفا میں نہیں رکھتے۔ چاہے وہ جنسی آسودگی یا نا آسودگی ہو، ذہنی انتشار ، خاندانی الجھنیں ہوں یا معاشرتی دباؤ۔مصنف نے ان تمام پہلوؤں کو نہایت جرأت مندی اور فنی توازن کے ساتھ بیان کیا ہے۔
آغا بابر کی جزئیات نگاری محض منظر کشی تک محدود نہیں بل کہ کردار کے باطن میں اتر کر اس کے لاشعوری خوف، خواہشات اور دبی ہوئی سچائیوں کو آشکار کرتی ہے۔ افسانہ ’’ایک خط جو سنسر ہو گیا‘‘ اظہارِ رائے پر قدغن، سماجی جبر اور فرد کی بے بسی کا علامتی استعارہ بن جاتا ہے، جب کہ ’’محبت مسبب‘‘ انسانی تعلقات میں مفاد، جذبے اور خود فریبی کی پیچیدگیوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ افسانہ نگار نے کرداروں کے داخلی تصادم، ذہنی خلفشار، گھریلو نا آسودگی اور معاشرتی دباؤ کو نہایت بے باکی اور جزئیات نگاری کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ’’چاکِ گریباں‘‘ جدید اردو افسانے میں انسانی جبلّت، سماجی منافقت اور دبے ہوئے جذبات کی علامتی اور حقیقت پسندانہ عکاسی کا اہم مجموعہ ہے۔
یوں ’’چاکِ گریباں‘‘ محض افسانوں کا مجموعہ نہیں بل کہ عصری انسان کے داخلی انتشار اور معاشرتی سچائیوں کی دستاویز ہے۔ یہ کتاب اردو افسانے کے سنجیدہ قارئین اور محققین کے لیے ایک اہم ادبی حوالہ کی حیثیت رکھتی ہے۔