احمد ہمیش ۔نثری شاعری اور افسانہ نگار

اردو کے ممتاز افسانہ نگار، نثری شاعری کے بانی ہونے کے دعویدار اور نقاد احمد ہمیش  یکم جولائی ۱۹۴۰ءکو ریاست اتر پردیش (بھارت) کے ضلع  کے ایک چھوٹے سے گاؤں بانسپار میں پیدا ہوئے۔ احمد ہمیش  صرف دس برس کے تھے جب اُن کی والدہ کا انتقال ہوگیا۔ جلد ہی اُن کے والد نے دوسری شادی کر لی۔ احمد ہمیش کے بقول، اُن کی سوتیلی والدہ کا رویہ اُن سے اور اُن کے بہن بھائیوں سے ناروا تھا، جس کے باعث وہ اٹھارہ برس کی عمر میں گھر چھوڑ کر پاکستان آگئے۔۱۹۷۰ء ءکے قریب وہ کراچی منتقل ہوگئے اور زندگی کے آخری ایام تک وہیں مقیم رہے۔ وہ کچھ عرصہ ریڈیو پاکستان کراچی کے ہندی پروگرام سے وابستہ رہے، مگر انھیں وہاں مستقل ملازمت نہ مل سکی۔ بعد ازاں، ریڈیو سروس کے اسلام آباد منتقلی کے بعد اُنھوں نے گزر بسر کے لیے مختلف ملازمتیں اختیار کیں۔

احمد ہمیش  کراچی میں  ۸ ستمبر  ۲۰۱۳ء  کو  انتقال کر گئے۔ اُن کی عمر ۷۳برس تھی۔ اُن کے پسماندگان میں بیوہ شہناز ہمیش، بیٹی انجلا ہمیش اور بیٹا فرید احمد شامل ہیں۔ اُن کی نمازِ جنازہ مسجد بابا مور، نارتھ کراچی میں ادا کی گئی ،جب کہ تدفین سخی حسن قبرستان میں ہوئی۔

پاکستان آ کر اُنھوں نے شاعری کا آغاز کیا۔ اُن کی پہلی نظم ’’اوریہ بھی ایک ڈائری‘‘سن ۱۹۶۲ءمیں ماہنامہ نصرت میں شائع ہوئی، جسے اُن کے دعوے کے مطابق اردو میں نثری شاعری کا نقطۂ آغاز قرار دیا جاتا ہے۔احمد ہمیش کو پاکستان میں نثری نظم کا اولین شاعر مانا جاتا ہے۔ اُنھوں نے خود ایک انٹرویو میں کہا تھا

‘‘میں نے ۱۹۶۰ءمیں اردو میں نثری نظم کی بنیاد رکھی۔ میری لکھی ہوئی نثری نظمیں ۱۹۶۲ءمیں شائع ہوئیں، جن میں پہلی نظم ‘یہ بھی ایک ڈائری’ تھی، جو ماہنامہ نصرت میں شائع ہوئی۔’’

اُن کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ احمد ہمیش نے ۱۹۶۰ءمیں نثری نظم کہنی شروع کی اور اُن کی پہلی نظم ۱۹۶۲ءمیں منظرِ عام پر آئی۔

احمد ہمیش کو پاکستان میں نثری نظم کا پہلا شاعر تصور کیا جاتا ہے۔ احمد ہمیش نے ۱۹۶۰ءمیں ہندی شاعری کے زیر اثر اردو میں نثری نظم لکھنا شروع کیا۔ اس سلسلے میں انھوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ۱۹۶۰ءمیں میں نے اردو میں نثری نظم کی بنیاد رکھی۔ میں نے جو نثری نظمیں ۱۹۶۰ء میں کہیں وہ ۱۹۶۲ء میں شائع ہوئیں۔ میری پہلی نثری نظم تھی’’ یہ بھی ایک ڈائری ‘‘ماہنامہ نصرت میں شائع ہوئی ۔ احمد ہمیش کے اس بیان سے معلوم ہوا کہ انھوں نے ۱۹۶۲ءمیں نثری نظمیں کہنا شروع کیں مگر اُن کی پہلی نظم ” یہ بھی ایک ڈائری ۱۹۶۲ءمیں شائع ہوئی ۔ ان کی پہلی نثری نظم ”  یہ بھی ایک ڈائری ‘‘ دیکھیے

تربیتی پر شاد ۔ ۔ سرل سبھاؤ کو اپنے باپ کے نام سے جانتا ہے

مانتا بھی نہیں

اور نہیں نہیں میں  گپت وشا کا پہرا اس کے کمرے میں دو ٹکرے کر دینے والی  سازش بار بار دہرائی ہوئی پھیکی تھپکی سے اس پر کار سلادیتی ہے کہ پھر کائر، دبلا تر ترپا کھی اپنے میلے انڈے سینے سے پہلے سوکھے پروں کو دونوں اور پھیلائے  بنا بھول جائے ڈوبتے  سمے کو جب بوڑھا پاگل پن چھن چھن پروان چڑھتے اور بس نہ چلے پراکرت جب مہا سنگھ  گھومتے اڑتے نشانوں میں گھلی ملی اچھائیوں برائیوں کو لے آتی ہے تو اس مرکز پر جو کبھی نہ بدلے تو نیلی  جہالت سے سرا سر  نیلی جہالت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ماہنامہ نصرت ، لاہور، ۱۹۶۲ء)

یہ نظم احمد ہمیش کی  فکری پیچیدگی اور نثری نظم کے اس مخصوص لہجے کی نمائندہ ہے جس نے اردو شاعری میں ایک بالکل نیا راستہ کھولا۔یہ نظم روایتی شاعری کی جمالیات سے ہٹ کر تجرید، علامت، اور شعوری ابہام پر قائم ہے، جہاں معنی قاری کے براہِ راست فہم سے زیادہ اُس کے احساس اور فکری تجربے پر منحصر ہیں۔نظم کا بنیادی محور وجودی الجھن، باطنی بغاوت اور فکری بیداری ہے۔ نظم کو ایک ہی معنی میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ ہر قاری کے لیے معنی مختلف ہیں۔ نظم براہِ راست محسوسات کی بجائے خیالات کے باطن میں اترتی ہے۔اردو میں نثری نظم کی ایک ابتدائی، مگر جرات مندانہ کوشش ہے۔یہ نظم روایتی معنوں میں “حسنِ بیان” یا “ردیف و قافیہ” پر انحصار نہیں کرتی، بلکہ انسانی ذہن کی شکست و ریخت، داخلی ٹوٹ پھوٹ، اور فکری بغاوت کو اپنی اصل قوت بناتی ہے۔احمد ہمیش نے اس نظم میں دکھایا کہ نثر بھی شاعری کے جمالیاتی اور فکری امکانات کو اپنی گرفت میں لے سکتی ہے — اور یہی ان کی شاعری کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

بعض ناقدین ان نظموں کو ہندی نظموں کے تراجم  گردانتے ہیں اور  بعض تو احمد ہمیش کو سرے سے شاعر ہی نہیں مانتے ۔۱۹۷۰ء کے بعد جب پاکستان میں نثری نظم پر گفتگو  کا سلسلہ شروع ہوا تو احمد ہمیش کی نظموں کی طرف بھی دھیان گیا۔

احمد ہمیش کی فکری اور ادبی شخصیت کی تشکیل میں ہندی اور سنسکرت ادبیات نے گہرا اور دیرپا اثر چھوڑا۔ اُن کی شاعری میں ہندی، سنسکرت اور گجراتی الفاظ اس قدر قدرتی روانی سے شامل ہوتے ہیں کہ وہ زبان کے باطن میں جذب ہو کر ایک نئی تہذیبی رنگت پیدا کرتے ہیں۔ بعض مقامات پر احمد ہمیش نے شعوری طور پر قدیم اور پیچیدہ الفاظ استعمال کیے، جس سے اُن کے فن پاروں میں فکری گہرائی اور لسانی گمبھیرتا پیدا ہوئی، اگرچہ بظاہر وہ کچھ بھاری یا رمز آلود محسوس ہوتے ہیں۔

درحقیقت، یہ اسلوبی حربے اُن کے لیے محض توجہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں تھے بل کہ رفتہ رفتہ وہ اُن کے شعری تجربے کا بنیادی جزو بن گئے۔ وقت کے ساتھ اُن کے اندر ایک تخلیقی تپش اور معنوی حرارت پیدا ہوئی جس نے اُن کے اظہار کو ایک انوکھا آہنگ بخشا۔

احمد ہمیش نے زندگی کے تضادات، دکھوں اور انسانی نفسیات کو نہایت قریب سے محسوس کیا۔ اسی لیے اُن کی شاعری میں زندگی کی تلخی، سوالات اور داخلی کرب کی جھلک نمایاں ہے۔ اُن کی مشہور “تجدید” سیریز کی نظمیں نہ صرف اُنہیں ادبی شناخت اور شہرت کا سبب بنیں بلکہ اردو نثری شاعری میں اُنہیں وقار اور انفرادیت کا بلند مقام عطا کیا۔

مثال دیکھیں

افسانہ’’ساتویں کہانی‘‘

میں سناؤں گا نہیں، بلکہ یہ چاہوں گا کہ چند منتخب لوگ میرے ساتھ اس طرح چلیں، گویا پہاڑ پر چڑھ رہے ہوں اور ایک طرح کے تیز ، اٹل قدمی بہاؤ کے دور اندیش اعتماد سے اُتریں۔ وہ پاک وجود‘ زمین پر سطحی نہیں چلتے تھے ۔ بلکہ نشیب تک میں بھی زمین پر چلتے ہوئے با شعور ‘پیش میں ان کی حکایت تو تمام اُمتوں کو یا رہوگی ۔ فیصلہ کن ۔ دراصل اُن کا مطلب تھا۔ فتح ۔ یا دماغ میں ہاتھ ٹولنے کا عمل کہ خدا کی غیر مرئی آنکھیں کہاں کہاں کھل سکتی ہیں ۔ اُنھوں نے اشارہ کیا۔ خدا کی تمام غیر مرئی آنکھیں کھل گئیں ۔ زمین کی پھسلن ۔ اس لیئے نہیں کہ تمام رشتوں کی کیچوئی لطافت پھسلتی ہے ۔ اُن کے منہ سے مٹی خارج ہوتی ہے۔ مٹی میں مختلف کیمیکلز  ملائے جاتے ہیں ، گھر ترکیب کیئے جاتے ہیں ۔ گھر کی ترکیب میں محاورتی گرہیں لگانا۔ صدیوں سے کچھ فارمولائی نام ۔۔۔۔۔(مجموعہ:مکھی،ص۴۶)

 اس افسانے کا اسلوب اور فکری لہجہ احمد ہمیش کی تخلیقی دنیا سے خاص مماثلت رکھتا ہے — ایک تجریدی اور علامتی بیانیہ ہے، جو بظاہر کسی قصے یا واقعے کی بجائے شعور کی درونی حرکت کو بیان کرتا ہے۔ اس میں واقعاتی ترتیب کے بجائے فکری بہاؤ اور روحانی تجربے کا تسلسل غالب ہے۔افسانہ دراصل ایک روحانی سفر یا وجودی ارتقا کی علامت ہے۔
ان کے زیادہ تر افسانے روایتی پلاٹ، کردار اور مکالمے سے عاری ہیں۔ ان کی ساخت علامتی نثر (Symbolic Prose) پر مبنی ہے، جہاں زبان فکر کا پیرہن اوڑھ لیتی ہے۔جملے غیر متصل مگر فکری وحدت رکھتے ہیں۔نثر میں شاعرانہ گہرائی اور رمزیت پائی جاتی ہے۔زبان میں تجرید، ابہام، اور روحانی کشمکش کا تاثر نمایاں ہے۔احمد ہمیش جیسے نثری فنکاروں کے ہاں یہ اسلوب روایت سے انحراف نہیں بلکہ اظہار کی ایک نئی جہت ہے — وہ حقیقت کو براہِ راست نہیں کہتے، بلکہ اسے معنی کے تہہ در تہہ پردوں میں پیش کرتے ہیں۔عبید اللہ علیم ،احمد ہمیش کے بارے میں لکھتے ہیں

’’احمد ہمیش پاگل،دیوانہ،برخود غلط۔آخ تھو۔ ہر لمحہ پر ساعت کسی نئے ڈارمے کی ڈرامائی حالت میں مگن۔ اتنا الجھا ہوا کہ دھاگے کو کھینچو وہیں ٹوٹ  رہ جائے۔ عجیب شخص ہے نہ یہ کہیں بند ہے نہ کھلتا ہے۔ یہ میرا دوست  ہے  اور بڑا قدیمی۔ ۱۹۶۰ء۔۱۹۶۲ء سے بل کہ اس سے بی پہلے اس کی ایسی نظمیں پڑھنے اور سننے کے عذاب اور ثواب سے گزر رہا ہوں جو سرسری نگاہ میں ایک کارستانی نظر آتی ہیں مگر اب جب پلٹ کے دیکھتا ہوں تو اس کے نقشِ قدم میں بہت اس کی ایجاد ہے۔(  مارچ ۱۹۹۲ء )‘‘۱۱سہ ماہی تشکیل ،حصہ چہارم،جلد ۵، شمارہ ۱۵،اکتوبر تا دسمبر ۱۹۹۴ء،ص۵۴

ہمیش کے افسانے قاری کو کسی خارجی دنیا میں نہیں لے جاتے بلکہ اندر کی دنیا میں جھانکنے پر مجبور کرتے ہیں۔یہ ایک ایسے انسان کی کہانی ہے جو خدا کی پوشیدہ آنکھوں کو دیکھنے، یا یوں کہیں، اپنے اندر کے خدا کو پہچاننے کی جستجو میں ہے۔یہ افسانے اردو کی تجریدی نثر کا ایک تجرباتی نمونہ ہے، جو روایت سے ٹوٹ کر فکر، وجدان، اور کائناتی شعور کی نئی تعبیر پیش کرتےہیں ۔ان میں کہانی نہیں، بلکہ فکری کشف ہے،کردار نہیں، بلکہ شعور کی لہریں ہیں اور پلاٹ نہیں، بلکہ معنی کی مسلسل تکوین ہے۔یہی وہ طرزِ بیان ہے جس نے احمد ہمیش کو اردو نثر میں ایک منفرد فکری اور اسلوبی آواز عطا کی۔یہی حال ان کی اکثر نظموں میں بھی ملتا ہے ۔

جسم کا نظام

جسم کی بھی ایک جمہوریت ہے

جو ہر کس و ناکس  میں بے نام تقسیم ہو کے

آدمی کو بے اثر کر دیتی ہے

جسم کی بھی ایک آمریت ہے

جو کسی ایک میں جل بجھ کے

سب کے لیے راکھ بن جاتی ہے

ہمیش نظمیں،جسم کا نظام،۱۹۹۶ء،ص۶۷

احمد ہمیش کی نثری شاعری دراصل فکر، وجدان اور شعور کی باطنی سرزمین پر لکھی گئی ایک مسلسل تلاش کا نام ہے۔ ان کی شاعری میں روایتی حسنِ بیان یا سطحی جذباتیت کے بجائے فکری ارتکاز، علامتی تہہ داری اور شعوری بیداری غالب ہے۔ وہ نظم کو اظہارِ خیال کا ذریعہ نہیں بناتے بلکہ اسے تفکر، تجزیے اور تجربے کا آئینہ بنا دیتے ہیں۔احمد ہمیش کی نثری شاعری انسان، خدا، جسم اور شعور کے پیچیدہ تعلقات کو علامتی انداز میں پیش کرتی ہے۔ ان کے ہاں ’’جسم ‘‘محض حیاتیاتی پیکر نہیں، بلکہ طاقت، شناخت اور معنی کی تجربہ گاہ ہے۔ وہ جسم کو جمہوریت بھی کہتے ہیں، جہاں احساسات اور خواہشات برابر تقسیم ہیں، اور آمریت بھی، جہاں کسی ایک جذبے یا قوت کی مرکزیت پورے وجود کو راکھ کر دیتی ہے۔

یہی تضاد دراصل احمد ہمیش کی پوری شاعری کا جوہر ہے ۔وہ ہمیشہ دو انتہاؤں کے درمیان موجود انسان کو موضوع بناتے ہیں ۔جہاں روشنی اور اندھیرا، ایمان اور انکار، علم اور جہالت، جمہوریت اور آمریت — سب بیک وقت زندہ اور متصادم رہتے ہیں۔احمد ہمیش نے نثری شاعری میں لسان کو تخلیقی تجربہ بنایا۔ان کی زبان کسی بندش یا عروض کی پابند نہیں، بل کہ خیال کے بہاؤ کے ساتھ خود اپنی ہی ساخت تشکیل دیتی ہے۔وہ ہندی، سنسکرت، گجراتی اور اردو کے الفاظ کو ایک ہی صوتی دائرے میں برتتے ہیں، جس سے زبان میں تہذیبی گہرائی اور فکری تنوع پیدا ہوتا ہے۔

احمد ہمیش کی نثری شاعری اردو ادب میں تخلیقی شعور کی ایک نئی جہت ہے۔انھوں نے نظم کو ایک ایسے فکری مکاشفے میں تبدیل کیا جس میں شاعری، فلسفہ اور تجرید ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔ان کی شاعری کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ وہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے، سمجھنے پر نہیں۔یہ شاعری کسی نتیجے پر نہیں پہنچتی، بل کہ قاری کو نتائج سے ماورا ایک احساسِ جستجو عطا کرتی ہے۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ احمد ہمیش کی نثری شاعری اردو ادب میں شعور کی وہ آواز ہے جو معنی کی تلاش میں مسلسل سفر کر رہی ہے  اور شاید کبھی نہیں رکے گی۔

کتب

مکھی(۷ افسانے)،احمد ہمیش،نیشنل فائن پرنٹنگ پریس،حیدر آباد،جولائی،۱۹۶۸ء

نظمیں،احمد ہمیش،تشکیل پبلشرز  ،کراچی،۲۰۰۵ء

کہانی مجھے لکھتی ہے،احمد ہمیش،تشکیل پبلشرز،مئی ۱۹۹۸ء

عصرِ  حاضر کی بہترین کہانیاں(جلد اول) ،مرتبہ:شوکت عابد،مظہر رضوی،الباقریہ پبلیکیشنز، کراچی،جنوری،۱۹۸۰ء

تشکیل،ماہنامہ،مدیر احمد ہمیش،انجلا ہمیش،تشکیل پبلیکیشنز،۱۹۶۳۔۲۰۰۰ء

رسوا کیا مجھے (خطوط کا مجموعہ)،تشکیل پبلشرز ،کراچی

مکر چاندنی (سوانح)، تشکیل پبلشرز ،کراچی

داستان امیر حمزہ اور طلسم ہوش ربا کا تعارف ،تجزیہ ،کہانی اور کرداروں کا مطالعہ

داستانِ امیر حمزہ اردو ادب کی عظیم اور کلاسیکی داستانوں میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ داستانِ امیر حمزہ کا سب سے مشہور اور مقبول حصہ طلسمِ ہوشربا ہے اُردو ادب میں ایک مستقل داستان کی حیثیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں

باغ و بہار  کا خلاصہ، تنقیدی جائزہ ،کردار نگاری اور پی ڈی ایف کتب

باغ و بہار‘‘ اردو کلاسیکی نثر کا ایک شاہکار ہے، جس کا خلاصہ، تنقیدی جائزہ اور کردار نگاری آج بھی ادب کے طلبا اور محققین کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس کتاب میں میر امن دہلوی کی روایت کردہ داستان نہ صرف اسلوبِ بیان کی خوبصورتی دکھاتی ہے بل کہ کرداروں کی نفسیاتی پرتیں بھی واضح کرتی ہےزیرِ نظر تحریر میں ’’باغ و بہار پی ڈی ایف‘‘اور اس داستان سے متعلق پی ۔ڈی ۔ایف مواد بھی شامل کردیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں

مثنوی قطب مشتری کا خلاصہ،اسلوب اور ملا وجہی کا تعارف

’’قطب مشتری‘‘ محمد قلی قطب شاہ اور مشتری کے عشق کی داستان ہے اور اسی مناسبت سے اس کا نام ’’قطب مشتری‘‘ رکھا گیا ہے۔ یہ ’’مشتری‘‘ وہی ہے جو بھاگ متی کے نام سے مشہور تھی اور اپنے رقص و موسیقی اور حسن و جمال کی وجہ سے شہرت رکھتی تھی۔

مزید پڑھیں

امام بخش ناسخؔ

شیخ امام بخش، جنھیں دنیائے ادب میں ناسخؔ کے تخلص سے شہرت حاصل ہوئی، اردو شاعری کے ان درخشاں ستاروں میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے لکھنؤ کی ادبی فضا کو جِلا بخشی۔

مزید پڑھیں

ہمارے بارے میں

ذوقِ ادب  ایک آن لائن ادبی دنیا ہے جہاں اردو کے دلدادہ افراد کو نثر و نظم کی مختلف اصناف، کلاسیکی و جدید ادب، تنقید، تحقیق، اور تخلیقی تحریریں پڑھنے اور لکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد اردو زبان و ادب کے فروغ، نئی نسل میں مطالعہ کا ذوق بیدار کرنے اور قاری و قلم کار کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنا ہے۔

Contact

+923214621836

lorelsara0@gmail.com

Scroll to Top