امام بخش ناسخؔ

شیخ امام بخش، جنھیں دنیائے ادب میں ناسخؔ کے تخلص سے شہرت حاصل ہوئی، اردو شاعری کے ان درخشاں ستاروں میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے لکھنؤ کی ادبی فضا کو جِلا بخشی۔ ان کے والد کے بارے میں تذکرہ نگاروں نے گوناگوں آراء پیش کی ہیں، تاہم اکثریت اس امر پر متفق ہے کہ وہ شیخ خدا بخش خیمہ دوز کے فرزند تھے۔ شیخ خدا بخش لاہور سے تجارتی اغراض کے تحت فیض آباد آئے اور یہی شہر ناسخؔ کی جائے پیدائش قرار پایا، جہاں وہ ۱۰ اپریل ۱۷۷۲ء کو پیدا ہوئے۔ متمول گھرانے سے تعلق کے باعث ناسخؔ کو ابتدائی عمر ہی سے تعلیم و تربیت کے بہترین مواقع میسر آئے، جس سے ان کی ذہنی اور اخلاقی تشکیل اعلیٰ معیار پر ہوئی۔

ناسخؔ اپنی جسمانی وجاہت، مضبوطی اور متانت کے باعث ایک باوقار شخصیت کے حامل تھے۔ ان کا گٹھا ہوا جسم، تروتازہ چہرہ اور خشخشی داڑھی ان کے وقار میں اضافہ کرتی تھی۔ وہ باقاعدہ ورزش کے عادی تھے اور دن میں صرف ایک وقت بھرپور غذا لیتے۔ ذوقِ طعام میں انہیں آموں اور دودھیا بھٹوں سے خاص رغبت تھی، جب کہ اعلیٰ درجے کے حقے منگوانے کا بھی شوق رکھتے تھے۔

جب فیض آباد کی علمی و ادبی رونقیں رفتہ رفتہ لکھنؤ منتقل ہوئیں اور یہ شہر دارالخلافہ کے طور پر ابھرا، تو ناسخؔ بھی اسی قافلے کے ہم راہ لکھنؤ پہنچے۔ یہاں انھوں نے نہ صرف درس و تدریس میں حصہ لیا بل کہ شاعری کی طرف بھی سنجیدہ میلان پیدا ہوا۔ عربی و فارسی کی تعلیم حافظ وارث علی اور علمائے فرنگی محل سے حاصل کی۔ شاعری میں انھوں نے کسی استاذ کی شاگردی اختیار نہیں کی بل کہ اپنی فطری صلاحیت، ذوقِ مطالعہ اور مسلسل ریاضت سے خود اپنا اسلوب پیدا کیا۔ ابتدائی مشاعروں میں وہ محض سامع کی حیثیت سے شریک ہوتے رہے، لیکن بعد ازاں ان کے کلام نے اہلِ ذوق کو اپنی طرف متوجہ کر لیا اور ان کا نام ادب کی محفلوں میں نمایاں ہونے لگا۔

ناسخؔ کی شخصیت صرف شعری کمالات تک محدود نہ تھی بل کہ وہ ایک بلند اخلاق، خوش گفتار اور صاحبِ وقار انسان کے طور پر بھی معروف تھے۔ ان کے حلقۂ احباب میں امراء، دانشور، علما اور صوفیائے کرام سبھی شامل تھے۔ ان کی مجلس علم و معرفت کا گہوارہ سمجھی جاتی تھی، جہاں شاگردوں اور مخلصین کا ہجوم رہتا۔

زمانے کے نشیب و فراز نے انہیں متعدد بار لکھنؤ سے جدا کیا، اور وہ الہٰ آباد، بنارس، پٹنہ اور کانپور میں بھی مقیم رہے۔ تاہم ان کی وابستگی ہمیشہ لکھنؤ ہی سے رہی۔ آخرکار وہ ۱۸۳۸ء میں اسی شہر میں وفات پا گئے اور اپنے ہی گھر میں مدفون ہوئے۔

ان کی تصانیف میں تین دیوانوں کا ذکر ملتا ہے، جن میں دو دستیاب ہیں اور تیسرے کا سراغ اب تک نہیں ملا۔ ان کے دیوانوں میں غزلیں، رباعیات اور تاریخی قطعات شامل ہیں، جو ان کے فکری عمق، لسانی نفاست اور فنی مہارت کا آئینہ دار ہیں۔ ناسخؔ نے نہ صرف لکھنوی شاعری کو عروج بخشا بل کہ اردو زبان کے ارتقا میں بھی ایک ماند نہ پڑنے والا نقش چھوڑا۔

دور ہے یار اپنی نظروں سے تصور میں قریب

گھر تو ویران ہے مگر بزم خیال آباد ہے

سیہ بختی میں کب کوئی کسی کا ساتھ دیتا ہے

کہ تاریکی میں سایہ بھی جدا رہتا ہے انساں سے

دن سیہ، رات سیہ،، ماه سیہ، سال سیاه

دل سیہ، سخت سیہ، نا مۂ  اعمال سیاه

 ایک  میں اور ہیں یہ چار بلائیں کالی

خط سیہ ، زلف سیہ، چشم سیہ ،خال سیاه

اے اجل ایک دن آخر تجھے آنا ہے ولے

آج آتی شب فرقت میں تو احساں ہوتا

زلف کو دیجیے کیا مارِ  سیہ سے تشبیہ

سایۂ  زلف سے ہو جاتے ہیں اژدر پیدا

 ہوں وہ مے کش کہ نہ مستی میں کہوں ر از کبھی

لاکھ قلقل کہے شیشہ مجھے مے خانے میں

ہم خواب میں واں پہنچے تدبیر اسے کہتے ہیں

وہ نیند جو چونک اٹھے تقدیر اسے کہتے ہیں

 وہ مجھ سے گزیراں تھا ،کل  اس کو میں گھراپنے

باتوں میں  لگا لایا تقریر اسے کہتے ہیں

کبھی کہسار پر جانا، کبھی وادی میں آرہنا

رہا وحشت میں بھی عالم ترقی و تنزّل کا

وہ مستِ ناز اگر کرے نظارہ آب کا

لبریز ہو شراب سے شیشہ حباب کا

کسی خورشید رو کو جذبِ دل نے آج کھینچا ہے

کہ نورِ صبح صادق ہے غبار اپنے بیاباں کا

کس کی ہم جستجو کو نکلتے تھے

نہیں پاتے کہیں سُراغ اپنا

کب سے ناسخ ؔ کی جستجو تھی مجھے

آج وہ خانماں خراب ملا

کلیات ناسخؔ

Urdu book ‘‘Glossary & idioms of Nasikh" a classic Urdu poet name "Amam Bakhsh Nasikh" compiled by Prof Dr Orang Zeb Alamger
لغات و محاوراتِ ناسخ ۔مرتبہ۔پروفیسر ڈاکٹر اورنگ زیب عالم گیر
Urdu poetry book "Intkhab e Nasikh" a classic Urdu poet name "Amam Bakhsh Nasikh" compiled by Rasheed Hasan Khan
انتخابِ ناسخ۔رشید حسن خاں
Urdu poetry book "Kulyaat e Nasikh" a classic Urdu poet name "Amam Bakhsh Nasikh"
کلیات ناسخ

کلاسیکی ادب کا مطالعہ کریں

ہمارے بارے میں

ذوقِ ادب  ایک آن لائن ادبی دنیا ہے جہاں اردو کے دلدادہ افراد کو نثر و نظم کی مختلف اصناف، کلاسیکی و جدید ادب، تنقید، تحقیق، اور تخلیقی تحریریں پڑھنے اور لکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد اردو زبان و ادب کے فروغ، نئی نسل میں مطالعہ کا ذوق بیدار کرنے اور قاری و قلم کار کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنا ہے۔

Contact

+923214621836

lorelsara0@gmail.com

Scroll to Top