آنند نرائن ملّا کی شاعری اور خدمات

اردو ادب کی تاریخ میں آنند نرائن ملا کا نام اس روشن مینار کی طرح ہے جو مشترکہ تہذیبی شعور، لسانی وابستگی اور فکری بصیرت کی علامت بن کر ہمیشہ تاباں رہے گا۔ ان کی زندگی اور شخصیت محض ایک شاعر یا قانون دان کی نہیں بل کہ ایک ایسے دانش ور کی تھی جس نے اردو کو اپنے وجود کا لازمی حصہ سمجھا۔ ان کا یہ مشہور جملہ “میں اپنا مذہب چھوڑ سکتا ہوں لیکن اردو کو نہیں چھوڑ سکتا” دراصل ان کی تہذیبی وفاداری، زبان سے عشق اور فکری وسعت کا نچوڑ ہے۔

آنند نرائن ملا ۱۹۰۱ءمیں لکھنؤ کے ایک معزز کشمیری برہمن گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جسٹس جگت نرائن ملا لکھنؤ کے ممتاز وکیل اور بااثر سماجی شخصیت تھے۔ علمی و ادبی ماحول نے آنند نرائن کے فکری خدوخال کو گہری بصیرت عطا کی۔ گھر میں اردو، فارسی اور انگریزی تینوں زبانوں کا چلن تھا، جس نے ان کے ذوقِ لسانیات کو جِلا بخشی۔ ان کی ابتدائی تعلیم فرنگی محل میں ہوئی جہاں برکت اللہ رضا فرنگی محلی جیسے استاد نے ان کی ذہنی تربیت کی۔ ۱۹۲۱ءمیں انھوں نے کیننگ کالج سے بی اے اور ۱۹۲۳ءمیں لکھنؤ یونیورسٹی سے ایم اے کیا، اس کے بعد وکالت کے پیشے سے وابستہ ہو گئے۔

ملا نے وکالت کے میدان میں غیر معمولی لیاقت کا مظاہرہ کیا۔ ان کی ذہانت، توازنِ فکر اور انصاف پسندی نے انھیں ممتاز مقام عطا کیا۔ ۱۹۵۴ءمیں وہ الہ آباد ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے۔ عدالتی فیصلوں میں انسانی اقدار کے احترام نے ان کے فیصلوں کو اخلاقی وقار دیا۔ ان کی وہ تاریخی رائے”میں نے بہت سے ڈاکو دیکھے، مگر ہندوستانی پولیس سے بڑا ڈاکو کوئی نہیں”نہ صرف ان کے حوصلے کی علامت ہے بل کہ سماجی نظام پر ایک تنقیدی تبصرہ بھی۔ ۱۹۶۱ءمیں سبکدوشی کے بعد انھوں نے سیاست میں قدم رکھا، ۱۹۶۸ءمیں لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے اور بعد ازاں دو مرتبہ راجیہ سبھا کے رکن رہے۔

آنند نرائن ملا کی ادبی زندگی کا آغاز انگریزی شاعری سے ہوا۔ انگریزی ادب کے طالب علم ہونے کے باعث ان پر مغربی فکر و فلسفہ کا اثر تھا۔ تاہم لکھنؤ کے شعری ماحول نے انہیں اردو کی طرف مائل کیا۔ ابتدا میں غالب اور اقبال کے فارسی کلام کا ترجمہ کیا، پھر اردو شاعری میں قدم رکھا۔ ۱۹۲۵ءمیں ان کی پہلی اردو نظم شائع ہوئی اور وہ فوراً اہلِ نظر کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ترجمے کے بارے میں انھوں نے لکھا ہے

کالج کے اندر انگریزی میں کچھ کچھ  نظم کرنے کی عادت ہو گئی  چناں چہ میر انیس کی چند رباعیوں کا  انگریزی زبان  میں ترجمہ کیا ،جو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا ۔۔۔۔۔۱۹۲۷ء میں صحت خراب ہوگئی  ڈاکٹروں نے مشورہ  دیا کہ بستر پر لیٹا  رہنا ہے  پڑے پڑے دل  گھبرایا کرتا تھا۔ اس لیے کتابیں دیکھا کرتا تھا اس زمانے میں  علامہ اقبال کا ایک مجموعہ پیام مشرق میں طبع  ہوا تھا۔ اس کی ایک نظم لالہ طور کا ترجمہ انگریزی میں لیٹے لیٹے  کر ڈالا جو حلقہ احباب میں پسندیدگی کی نظر سے دیکھا  گیا(۱)اوراق گل،مرتبہ احمد ہاشمی ،ایچ آر خاں رام پور اسٹیٹ ،۱۹۴۴ء،ص ۳۲۲
ان کی شاعری میں فکری گہرائی، حب الوطنی، انسان دوستی، اخلاقی بصیرت اور تہذیبی ہم آہنگی نمایاں ہے۔ اقبال سے متاثر ہو کر انھوں نے شاعری کو محض جذباتی اظہار نہیں بل کہ فکری اور اصلاحی وسیلہ بنایا۔ ان کا شعری نظریہ انسان اور سماج کی تطہیر و تعمیر پر مبنی تھا۔

شعری کارنامے اور فنی امتیازات

آنند نرائن ملا کے شعری مجموعے — جوئے شیر ۱۹۴۹ء،کچھ ذرے کچھ تارے ۱۹۵۹ء، میری حدیثِ عمرِ گریزاں۱۹۶۳ء، سیاہی کی ایک بوند ۱۹۷۳ء، کربِ آگہی۱۹۷۷ء، اور جادۂ ملا ۱۹۸۸ء ان کے فکری و فنی ارتقاء کے گواہ ہیں۔

نثری تصانیف میں ’’یاد چکبست،  مضامین نہرو، کچھ نثر میں بھی(۱۹۷۵ء)‘‘کے نام سے شایع ہوئیں۔
ان کی شاعری میں غزل کا حسن اور نظم کی فکری وسعت دونوں موجود ہیں۔ وہ روایتی موضوعات کو نئے فکری زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ چند اشعار ان کے تخلیقی آہنگ کا نمونہ ہیں:

خموشی ساز ہوتی جا رہی ہے
نظر آواز ہوتی جا رہی ہے

میرے سر میں ابی ملا یہ خلل باقی ہے

آج گم نام ہوں لیکن ابھی کل باقی ہے

نقش پا سے ابھی روشن نہ سہی راہ ادب

میری تابانی کردار و عمل باقی ہے

وہ کون ہیں جنھیں توبہ کی مل گئی فرصت
ہمیں گناہ بھی کرنے کو زندگی کم ہے

ملاؔ بنا دیا ہے اسے بھی محاذِ جنگ
اک صلح کا پیام تھی اردو زباں کبھی

آج ہے سرتیج و ملا پر نظر

روح اردو ڈھونڈتی ہے ایسے لعل و گوہر

ان کے اشعار میں زندگی کی معنویت، انسان کے داخلی کرب اور تہذیبی کشمکش کی عکاسی ملتی ہے۔ وہ عشق کو بھی اخلاقی اور فکری تجربے کے طور پر برتتے ہیں۔۔ ایک ایسا عشق جو انسان کو بہتر بناتا ہے۔

اردو زبان کی بقا اور ترویج کے لیے آنند نرائن ملا نے عملی خدمات انجام دیں۔ وہ انجمن ترقی اردو (ہند) کے صدر (۱۹۶۹ء تا ۱۹۸۳ء) رہے۔ ان کی قیادت میں انجمن نے علمی و ادارتی سطح پر بے مثال ترقی کی۔ وہ حکومتِ ہند کے ترقیِ اردو بورڈ کے نائب صدر، اتر پردیش اردو اکادمی کے صدر، اور فخرالدین علی احمد یادگاری کمیٹی برائے ترقی اردو کے بانی صدر بھی رہے۔ ان کی خدمات نے اردو کو نہ صرف ادارتی سطح پر مستحکم کیا بل کہ اسے نئی فکری سمت بھی دی۔

شاعری کے ساتھ ملا نے نثر میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انھوں نے پنڈت جواہر لال نہرو کے انگریزی مضامین کو اردو میں منتقل کیا، غالب اور اقبال کے فارسی اشعار کے تراجم کیے۔ ان کی نثر میں فکر کی سنجیدگی، زبان کا بانکپن اور اسلوب کی سادگی نمایاں ہے۔ ترجمے کے فن میں انھوں نے اصل کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے اردو کی لطافت اور بیان کی قوت کو برتا۔

آنند نرائن ملا کی شخصیت کو ایک جہت میں محدود کرنا ممکن نہیں۔ وہ شاعر بھی تھے، مفکر بھی، قانون دان بھی اور سماجی رہنما بھی۔ ان کی شاعری اقبال کے فکری تسلسل کی ایک جدید تعبیر ہے، جس میں اخلاقی صداقت اور انسان دوستی مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی شاعری اور نثر دونوں میں “جمال” اور “خیال” کا امتزاج ہے۔

ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو محض ایک زبان نہیں بل کہ ایک تہذیب ہے جو مذہبی، لسانی اور ثقافتی حدود سے بالاتر ہے۔ ان کی فکر نے اردو ادب کو ایک ہمہ گیر انسان دوستی کی بنیاد پر استوار کیا۔

اعزازات،انعامات اور آخری ایام

 ممبر مجلس عاملہ ساہتیہ اکیڈمی (اردو مشاورتی بورڈ ) ۱۸۶۳ء پانچ سال کےلیے۔

 نائب امیر جامعہ اردو علی گڑہ ۲۵ ۔کتوبر ۱۹۶۶ء سے ۲۸ جولائی ۱۹۷۳ ء تک چھ سال۔

 نائب صدر انجمن ترقی اردو ہند دہلی اپریل ۱۹۶۸ء۔

 ممبر مجلس عاملہ ساہتیہ ا کا دمی ( اردو مشاورتی بورڈ ) ۱۹۶۸ ء مزید پانچ سال کے لیے ۔

 صدرانجمن ترقی اردو د بل ۹ جولائی ۱۹۷۲ ءتا جون ۱۹۸۲ ء دس سال۔

 صدر پارلیمانی اردو کمیٹی مئی ۱۹۷۳ء۔

 چیئر مین اتر پردیش اردوا کا دمی لکھنو ۱۹۷۳ء۔

 چیئر مین فخر الدین علی احمد میموریل کمیٹی لکھنو نومبر ۱۹۷۶ء۔

 نائب صدروا یکٹنگ پریسیڈنٹ ترقی اردو بورڈ بھارت سرکار ۱۹۸۳ء۔

 نائب صدرانجمن ترقی اردو ہند دہلی مئی ۱۹۸۹ء۔

 نائب چیئر مین اتر پردیش اردو اکیڈمی لکھنو جولائی ۱۹۸۹ء۔

غیراد بی اعزازات و انعامات

 چیئر مین ہند و پاک ٹریبونل ۱۹۴۶ ء تا مارچ ۱۹۵۲ء۔

 ممبر سینٹرل بار آف سپریم کورٹ دہلی ۔

  ممبر اودھ بار ایسوسی ایشن لکھنو ۔

 اعزاز منجانب آل انڈیا کانگریس کمیٹی ( شعبہ قانون ) اگست ۱۹۸۹ء۔

ان اعزازات کے علاوہ ملا کو ادبی اکادمیوں نے جو انعامات دیئے وہ اس طرح ہیں:

 یوپی حکومت غالب ایوارڈ (مشترکہ طور پر ملا اور فراق کو دیا گیا) برائے مجموعہ ” کچھ ذرے کچھ تارے‘‘(ملا) ۱۹۵۹ء

 ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ( پانچ ہزار روپیہ نقد ) برائے مجموعہ ” میری حدیث عمر گریزاں (ملا ) ۱۹۶۵ء ۔

 اتر پردیش اردو اکادمی ایوارڈ برائے اعتراف ملا کی مجموعی ادبی خدمات ۔

 بہار اردو اکادمی ایوارڈ برائے اعتراف ملا کی مجموعی ادبی خدمات۔

 دہلی ادوا کادمی ایوارڈ برائے اعتراف ملا کی مجموعی ادبی خدمات ۔

 ادبی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ایوارڈ دہلی برائے اعتراف ملا کی مجموعی ادبی خدمات ۱۹۸۰ء۔

 غالب انسٹی ٹیوٹ ( ایٹلس غالب ایوارڈ دہلی برائے اعتراف ملا کی مجموعی ادبی خدمات ۱۹۸۶ء۔

 کلہن ایوارڈ منجانب کشمیری پنڈت ایسوسی ایشن دہلی برائے اعتراف ملا کی مجموعی ادبی خدمات۔

 حسرت موہانی ایوارڈ منجانب عالمی اردو کا نفرنس دہلی برائے اردو غزل ۱۹۸۸ء۔

 ہریانہ اردو اکادمی ایوارڈ پچاس ہزار روپیہ نقد

 فخر الدین علی احمد ایوارڈ لکھنو برائے خدمات اردو شعر و ادب ۱۹۸۹ء۔

 علامہ اقبال سمان حکومت مدھیہ پردیش ایک لاکھ روپیہ نقد ۱۹۹۱ء

وہ ۱۲جون ۱۹۹۷ءکو دہلی میں وفات پا گئے، مگر اپنے پیچھے وہ فکری ورثہ چھوڑ گئے جو اردو کی بقا، انسانی اخلاقیات، اور ہندوستانی تہذیب کے استحکام کا استعارہ ہے۔

آنند نرائن ملا کی زندگی ایک عہد کی نمائندہ داستان ہے۔ ایک ایسا عہد جس میں زبان، تہذیب اور انسانیت کے رشتے نئی معنویت اختیار کر رہے تھے۔ ان کی شاعری اور خدمات آج بھی اس بات کی یاد دلاتی ہیں کہ اردو محض الفاظ کی زبان نہیں بل کہ انسانیت کی آواز ہے، اور آنند نرائن ملا اس آواز کے سب سے باوقار ترجمانوں میں سے ایک تھے۔

آنند نرائن ملّا کی شخصیت اور فن پر مقالہ پڑھیں

دیگر شعراء کی تصانیف کا مطالعہ کریں

ہمارے بارے میں

ذوقِ ادب  ایک آن لائن ادبی دنیا ہے جہاں اردو کے دلدادہ افراد کو نثر و نظم کی مختلف اصناف، کلاسیکی و جدید ادب، تنقید، تحقیق، اور تخلیقی تحریریں پڑھنے اور لکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد اردو زبان و ادب کے فروغ، نئی نسل میں مطالعہ کا ذوق بیدار کرنے اور قاری و قلم کار کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنا ہے۔

Contact

+923214621836

lorelsara0@gmail.com

Scroll to Top