داستان امیر حمزہ اور طلسم ہوش ربا کا تعارف ،تجزیہ ،کہانی اور کرداروں کا مطالعہ
داستانِ امیر حمزہ اردو ادب کی عظیم اور کلاسیکی داستانوں میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ داستانِ امیر حمزہ کا سب سے مشہور اور مقبول حصہ طلسمِ
معروف افسانہ نگار، شاعر اور مترجم اسد محمد خان ۲۶ستمبر ۱۹۳۲ءکو بھوپال (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۵۰ءمیں وہ ہجرت کر کے پاکستان آئے اور مستقل طور پر کراچی میں سکونت اختیار کی، جہاں سے انھوں نے اپنی تعلیم مکمل کی۔ علمی و ادبی سفر کے آغاز میں انھوں نے ریڈیو پاکستان کے لیے گیت، ڈرامے اور فیچر لکھے، بعد ازاں ٹیلی وژن سے بھی وابستہ ہوئے۔ ان کی تخلیقی خدمات میں افسانہ نگاری، شاعری اور تراجم نمایاں حیثیت کے حامل ہیں۔اسد محمد خان کی تخلیقات اُن کے وسیع مشاہدے، انسانی نفسیات کے شعور اور اظہار کی متنوع صلاحیت کی عکاسی کرتی ہیں۔ اُن کے ہاں تاریخ، تخیل اور معاصر معاشرتی زندگی سے جڑی پیچیدہ حقیقتوں کو جدید فنی اسلوب اور تکنیکی ہنر کے ذریعے پیش کرنے کا گہرا شعور ملتا ہے۔
ان کی ادبی شہرت کا آغاز اُن کے پہلے افسانوی مجموعے “کھڑکی بھر آسمان” سے ہوا، جس میں تیرہ افسانے اور اڑتیس نظمیں شامل تھیں۔ اس مجموعے کے افسانے “باسودے کی مریم”، “مئی دادا” اور “ترلو چن” اردو افسانہ نگاری کی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔یہ تینوں کرداری افسانے ہیں جن میں باسودے کی مریم اور مئی دادا جیسے کردار اپنی وفاداری، سادگی اور انسانی عظمت کے باعث ناقابلِ فراموش بن جاتے ہیں۔ ان افسانوں میں جاگیردارانہ پس منظر رکھنے والے خاندانوں کے قدری نظام، انسانی رشتوں اور اخلاقی تربیت کو علامتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ان کرداروں کو یادگار بنانے میں اسد محمد خان کی کردار نگاری، فضا سازی اور مکالمہ نگاری کا نمایاں کردار ہے۔
مبین مرزا لکھتے ہیں
ایک بار میں نے اسد محمد خاں سے دریافت کیا، کیا پہلی بار میں ہی کہانی ایسی گتھی ہوئی صورت میں اُتر آتی ہے؟ انھوں نے نہایت سادگی اور متانت سے اپنے مخصوص انداز میں جواب دیا: ’’نہیں ، ہر گز نہیں ۔ بھائی جان! بڑی جان لگانی پڑتی ہے۔ کبھی تو سولہ سترہ بار ڈرافٹ کرتا ہوں ، تب کہیں جا کر کہانی کی صورت دیکھنے کو ملتی ہے۔‘‘ ٹھیک کہتے ہیں اسد محمد خاں ، بالکل ٹھیک ۔ جو کہانی وہ لکھتے ہیں ، وہ اس سے کم ریاضت کے بغیر ممکن بھی نہیں ۔
باسودے کی مریم اردو افسانوی ادب میں ایک نادر و منفرد اضافہ قرار دی جا سکتی ہے، جب کہ “ترلو چن” کراچی کی جھگی بستیوں اور کچی آبادیوں میں بسنے والے انسانوں کے دکھ درد اور تخلیقی مداوے کی علامت ہے۔
اسد محمد خان کا فن مذہب کے نام پر ہونے والی منافقت، طبقاتی استحصال اور انسانی اقدار کی پامالی کے خلاف ایک تخلیقی احتجاج کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ان کے افسانے نہ صرف عہدِ حاضر کی سماجی و اخلاقی حقیقتوں کی تصویر ہیں بل کہ اردو افسانے کے فنی ارتقاء میں ایک نئے باب کی حیثیت رکھتے ہیں۔
میں پٹھانوں کے قبیلے اور کزئی خاندان میر عزیز خیل میں ۲۶۔ستمبر ۱۹۳۲ء کو شہر بھوپال میں پیدا ہوا۔ ریاست بھوپال کے بانی خان معظم سردار دوست محمد خاں ( آٹھ راست واسطوں سے) میرے جدّہیں ۔ والد، میاں عزت محمد خاں صاحب کی تعلیم بھو پال ، اور کچھ عرصہ ٹیگور کے شانتی نکیتن میں ہوئی تھی۔ وہ مقامی ہائی اسکول میں مصوری کی تعلیم دیتے رہے۔ دادا جاگیردار از مین دار تھے، تاہم انھوں نے کاشت کاری سے اور مزار عین سے معلق رہ کر ر جاگیرداری کی برکات سے خود کو بچائے رکھا۔ والدہ و منور جہاں بیگم صاحبہ غالب کے شاگرد نواب یار محمد خاں شوکت کی پوتی تھیں ۔ نانا سردار سلطان محمد خاں سلطانؔ کو ریاست سے جاگیرملی تھی۔انھیں بھی شاعری سے شغف تھا۔
میں نے ۱۹۴۹ءمیں شاہجہانی میں ہائی اسکول سے میٹرک کیا۔ کچھ ماہ حمیدیہ کالج بھوپال میں پڑھا، پھرمئی ۱۹۵۰ میں تنہاپاکستان آگیا۔ یہاں آکر ریلوے والٹن ٹریننگ اسکول ،والٹن لا ہو، میں اسٹیشن ماسٹر کی یک سالہ تربیت کے بعد تعنیاتی ہوئی ۔تا ہم ریلوے کا ماحول سازگار نہ پا کر ملازمت ترک کردی اور کراچی میں جناح کالج میں انڈر میجیئٹ مکمل کیا۔ جے جے اسکول آف بمبئی سے آرٹ آرٹ کا ڈپلوما کیا تھا تو کچھ روز کمر شیل آرٹسٹ کے طور پر کام کیا پھر کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ٹریفک ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت اختیار کی ۔
دورانِ ملازمت سندھ مسلم آرٹس کالج سے بی اے کیا۔ پھر کراچی یونیورسٹی کے انگریزی ادب کے شعبے میں داخلہ لیا ، دو سال گزارے، مالی مسائل کی بنا پر ماسٹرز ڈگری لیے بغیر تعلیم منقطع کی۔ اس تمام عرصے کے پی ٹی کی ملازمت (جون ۱۹۹۳ء تک ) جاری رہی ۔ انسپکٹر امپورٹس کےفرائض ادا کرتے ہوئے ریٹائر منٹ لی ۔ ۱۹۶۰ءسے شاعری کا آغاز ہوا تھا۔ ساتھ ہی ریڈیو کے لیے خاکے لکھتا ر ہا تھا۔ افسانہ نگاری کا آغاز۱۹۷۰ء سے ہوا۔ ۱۹۶۵ء میں شادی ہوئی ، اس سے قبل دہلی کلاتھ مل کے ہند و پاک مشاعرے میں دہلی مدعو کیا گیا تھا۔سن ساٹھ ہی سے دونوں ملکوں کے ادبی رسائل میں میری نظمیں اور گیت چھپتے رہے۔ بعد میں علی گڑھ کے شعبہ اُردو کے سربراہ، شاعر اور نقاد پروفیسر خلیل الرحمٰن اعظمی نے اپنی تصنیف ’’نئی نظم کا سفر‘‘ میں میری ایک نظم کو اُس دور کی نمائندہ نظموں کی فہرست میں شامل کیا۔ یہ کتاب علی گڑھ یو نیورسٹی اور ہندوستان کی چند اور یو نیورسٹیوں میں ایم اے کے نصاب میں شامل کی گئی۔ میری ایک اور کہانی ’’ترلوچن‘‘ اے لیول کے اردو مطالعے کے نصاب میں شامل تھی۔میں نے ٹی وی کے لیے ۱۵۰ سے زاید گیت لکھے ہیں جن میں سے بعض خاصےمشہور ہوئے۔
مثلاً
انوکھا لا ڈلا کھیلن کو مانگے چاند
موج بڑھے یا آندھی آئے دیا جلائے رکھنا
میں تو چلی اے ری سکھیو بدیسوااپنی سہیلیوں سے دور۔ بابل کی گلیوں سے دور
زمیں کی گود رنگ سے امنگ سے بھری رہے
تم سنگ نیناں لاگے مانے نہیں جیارا۔ پیا پیا بولے پیا من کا پپیہا را۔۔۔۔۔۔
ٹی وی کے لیے کئی ڈراما سیر ئیل لکھے تھے، یہ کام اب چھوڑ چکا۔ جنہیں مقبولیت ملی ان میں ایک’’ شاہین” ہے جسے میں نے سلیم احمد کے ساتھ مل کر لکھا تھا۔
علاوہ ازیں، میرے سیریئلوں میں ’’منڈی ” ۔”التزام” – “سفر” – “ول دریا”۔پارٹیشن ایک سفر “۔ “زبید و ” وغیرہ اور کئی لانگ پہلے مثلا ’’شیر شاہ سوری”شامل ہیں۔
سال ۱۹۹۱ ء میں مجھے ایک ادبی کا نفرنس میں بریڈ فرڈ (انگلینڈ ) بلایا گیا،جہاں میں نے ایک پیپر’’انگلستان میں اُردو تخلیقی سرگرمیاں” پڑھا اور کئی شہروں میں مشاعروں میں شریک ہوا۔ ٹی وی تحریروں کی مصروفیات کے سلسلے میں انگلستان کے علاوہ فرانس، پرتگال ، اسپین اور تھائی لینڈ کے دورے کیے۔ فی الحال میں مکالمہ میں اُن یادداشتوں کو ادب کے قارئین کے لیے سفر نا مےکی صورت میں لکھ رہا ہوں ، ۷قسطیں شائع ہو چکی ہیں۔
تصانیف کی تفصیل یہ ہے
کھڑکی بھر آسمان (افسانے ،نظمیں) ۱۹۸۲ء،برج خموشاں(افسانے)۱۹۹۰ء،غصے کی نئی فصل (افسانے)۱۹۹۷ء رُکے ہوئے ساون (گیت) ۱۹۸۲ء ،نربدا اور دوسری کہانیاں (افسانے) ۲۰۰۳ء آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے ۲۰۰۲ء میں (اپنے سلسلے پاکستان رائٹرز سیریز کے تحت چھٹی کتاب)
The Harvest of Anger & Other Stories
شایع کی ، جو میری بارہ کہانیوں کے انگریزی تراجم پر مشتمل ہے۔اس سے پہلے اسی ادارے نے آصف فرخی کی مرتب کردہ ایک انتھولوجی
Fires in an Autumn Garden
کے عنوان سے شایع کی تھی، جس میں میری ایک کہانی کا ترجمہ شامل کیا گیا تھا۔
۲۰۰۴ء میں Penguin Books (India) نے “A Letter From India, Contemporary stories from Pakistan”
کے عنوان سے ایک انتھولوجی شایع کی جس میں میری ایک کہانی کا ترجمہ شامل کیا گیا۔
جرمن مستشرق داکٹر این میری شمل اور پاکستان اسکالر ڈاکٹر منیر ڈی احمد کا تدوین کیا ہوا پاکستانی ادب کا ایک جائزہ ہیمبرگ سے ۱۹۸۶ء میں شایع ہوا جس میں میری ایک نظم ’’کھڑکی بھر آسمان‘‘ کا جرمن ترجمہ شامل ہے۔
Indian Institute of Advance Studies, Simia Breakthrough Modern Hindi & Urdu Short Stories
کے عنوان سے ایک اینتھا لوجی (انتخاب و تدوین ڈاکٹر سُکریتا پال کمار) ۱۹۹۳ء مین شایع کی جس میں میری کہانی ’’بُرج خموشاں‘‘ شامل ہے۔جن ملکی اور غیر ملکی جرائد میں میری تحریریں اور اُن کے تراجم شامل کیے جاتے ہیں ان میں وسکا نسن ، میڈیسن کے جنوبی ایشیا مرکز کا جریدہ ’’دی اینول آف اُردو سٹڈیز‘‘بھی ہے جسے علامہ میمن کے لایق فرزند ، اسکالر داکٹر محمد عمر میمن ترتیب دیتے ہیں۔
بہ یک وقت پاکستان اور امریکہ میں فعال ایک غیر سرکاری ادبی تنظیم فیض محمد فاؤنڈیشن نے مجھے سال ۲۰۰۴ ء کا احمد ندیم قاسمی ایوارڈ برائے فکشن عطا کیا۔ میرے افسانوں کے مجموعے ” نربدا” کو سال ۲۰۰۳ ءکی بہترین تصنیف کا قومی ایوارڈ ( بابائے اردو مولوی عبدالحق ایوارڈ ) عطا کیا گیا۔ گیارھواں عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ ۲۰۰۷ ، ( دوحہ قطر ) عطا کیا گیا ۔ ۲۰۰۷ ء میں سندھ کا شیخ ایاز ایوارڈ عطا ہوا۔
۔ ۱۹۹۳ءمیں بہاء الدین ذکر بایو نیورسٹی ملتان کی ایم اے کی ایک طالبہ نے یو نیورسٹی کے صدر شعبہ اردو کی زیر نگرانی ایک ٹھیسس پیش کیا جسے بعد میں اشاعت کے لیے منظور کیا گیا۔ عنوان تھا ” اسد محمد خان شخصیت اور فن ۔
پنجاب یو نیورسٹی ، ایم اے سال ۲۰۰۳ء کی ایک طالبہ نے ایک تھیس’’ اسد محمد خاں شاعر اور کہانی کار ” کے عنوان سے ۲۰۰۴ء میں پیش کیاجسے اشاعت کے لیے منظور کیا گیا۔ اطلاع ہے کہ طالبہ کو وسیع تر تحقیق کے لیے، ایم فل کی سطح پر اس موضوع کی منظوری دی گئی ہے۔
مسلم یو نیورسٹی علی گڑھ کے شعبہ اُردو نے فکشن میں میرے کام پر ایک اسکالر کو پی ایچ ڈی کی سطح کی تحقیق پر مامور کیا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ سن ۲۰۰۸ ء میں تحقیقی کام تکمیل کو پہنچے گا۔
مجھے ایک ٹیلی ویژن سیریل کی اسکرپٹ رائٹنگ پر آ ڈیو وژوَل میڈیا کا معروف و مقبول ” نگار ایوارڈ ۔۴۱‘‘ عطا کیا گیا ہے۔
ضیا محی الدین میری دو کہانیوں ، ’’با سودے کی مریم ” اور “مئی دادا ‘‘کو بارہا بی بی سی پر اور بیرون ملک کئی تہذیبی مراکز اور یو نیورسٹیوں کے اُردو ڈیپارٹمنٹس میں اپنے مخصوص تحقیقی انداز میں پڑھ کر سناتے رہے ہیں۔
میری تحریروں کو بندی، گجراتی ، پنجابی مراٹھی اور مختلف علاقائی زبانوں میں ترجمہ کر کے شائع کیا جا چکا ہے۔
وہ لکھتے ہیں :’’میرے پاس سنانے کو بہت دل چسپ قصے ہیں۔ بہت سے دلاویزکردار ہیں جن سے میں اپنے پڑھنے والوں کا تعارف کرانا چاہتا ہوں۔ بات کہنے کے بہت سے پیرائے، بہت سے ڈھنگ میں نے سیکھ لیے ہیں جن کاکوئی اٹریکٹو پیکیج بنا کر میں اپنے پڑھنے والوں کو نبھا سکتااثر ہوں۔ انھیں اپنی لکھت کی طرف توجہ دلا سکتا ہوں۔
بہت سے دل چسپ کردار میں نے اس بساط پر کھیل بھی دیے ہیں مثلا مئی دادا ،با سودے کی مریم ،اور کہانی ترلو چن کا عین الحق، ’ گھس بیٹھیا‘ کا ببر یار خاں، ’چاکر‘ کا فضل علی قریشی اور حافط شکر اللہ خاں گینڈا جو گینڈا ’غصے کی نئی فصل ‘میں ظہور کرتا ہے۔ (میں کیوں لکھتا ہوں، اسد محمد خاں ،چہار سو،ص ۶)
شعری و نثری تراجم کے مجموعے میں لکھتے ہیں
میرے کیے گئے شعری اور نثری تراجم کی دو جہتیں سامنے آئیں گی
ایشیائی شاعری اور مغربی شاعری
ایشیائی افسانے اور مغربی افسانے
یہ سارے تراجم برسوں کی مشقت ہیں۔ میں نے پہلے گیت اور نظمیں لکھیں پھر افسانے لکھتا رہا۔ وقت ملتا تو تراجم بھی کر دیتا ، رسائل کو چھاپنے کے لیے بھیج دیتا۔ اُن دنوں net پر بھی دوستوں اور واقف کاروں سے رابطہ رہتا تھا۔ عزیزم انعام کبیر نے میرے کیے گئے تراجم کو یکجا کر کے مجموعہ اسد محمد خاں : شعری ونثری تراجم کے عنوان سے مرتب کیا اور مجھے مسرور و حیران کر دیا۔
کھڑکی بھر آسمان( کہانیاں اور نظمیں)،سیفورنین ،کراچی،۱۹۸۲ء
برج خموشاں (کہانیاں)،سیفو رٹین، کراچی،۱۹۹۰ء
رُکے ہوئے ساون (گیت )،فضلی سنز کراچی،۱۹۹۷ء
غصے کی نئی فصل (کہانیاں)،فضلی سنز کراچی،۱۹۹۷ء
The Harvest of Anger and Other Stories اکیس کہانیوں کا انگریزی ترجمہ،۲۰۰۲ء
نربدا اور دوسری کہانیاں (کہانیاں)،علی گرافکس،کراچی،۲۰۰۳ء
جو کہانیاں لکھیں (کلیات)،اکادمی بازیافت،ستمبر،۲۰۰۶ء
تیسرے پہر کی کہانیاں (کہانیاں)،اکادمی بازیافت ، اپریل ۲۰۰۶ء
ایک ٹکڑا دھوپ کا (افسانے)،۲۰۱۰ء
ٹکڑوں میں کہی گئی کہانیاں (افسانے)،القا پبلی کیشنز، لاہور،۲۰۱۵ء
جانور، ناول
یادیں،گزری صدی کے دوست(خاکے)
اسد محمد خاں کے افسانے، حمید شاہد میر بلوچ
اسد محمد خاں کی افسانوی شعریات،محمد عامر سہیل
مجموعہ اسد محمد خاں،تحقیق و تدوین، انعام کبیر (شعری و نثری تراجم)
داستانِ امیر حمزہ اردو ادب کی عظیم اور کلاسیکی داستانوں میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ داستانِ امیر حمزہ کا سب سے مشہور اور مقبول حصہ طلسمِ
باغ و بہار‘‘ اردو کلاسیکی نثر کا ایک شاہکار ہے، جس کا خلاصہ، تنقیدی جائزہ اور کردار نگاری آج بھی ادب کے طلبا اور محققین کے لیے
مرزا اسداللہ خان غالب (پ: ۱۷۹۶ء، آگرہ) اردو اور فارسی کے اُن نابغۂ روزگار اہلِ قلم میں سے ہیں جنھوں نے برِّصغیر کی فکری و ادبی روایت
’’قطب مشتری‘‘ محمد قلی قطب شاہ اور مشتری کے عشق کی داستان ہے اور اسی مناسبت سے اس کا نام ’’قطب مشتری‘‘ رکھا گیا ہے۔ یہ ’’مشتری‘‘
شیخ امام بخش، جنھیں دنیائے ادب میں ناسخؔ کے تخلص سے شہرت حاصل ہوئی، اردو شاعری کے ان درخشاں ستاروں میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے لکھنؤ
ان کا اصل نام شیخ غلام ہمدانی اور تخلص مصحفی ؔتھا۔ وہ ۱۷۵۰ء میں ضلع مرادآباد کے نواحی علاقے امروہہ (بعض روایات میں امرودہ) کے ایک معزز
ذوقِ ادب ایک آن لائن ادبی دنیا ہے جہاں اردو کے دلدادہ افراد کو نثر و نظم کی مختلف اصناف، کلاسیکی و جدید ادب، تنقید، تحقیق، اور تخلیقی تحریریں پڑھنے اور لکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد اردو زبان و ادب کے فروغ، نئی نسل میں مطالعہ کا ذوق بیدار کرنے اور قاری و قلم کار کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنا ہے۔
+923214621836
lorelsara0@gmail.com