باغ و بہار کا تعارف

میر محمد  حسین عطا خان متخلص بہ تحسین(م تقریباً ۱۷۸۱ء) جو اتر پردیش کے رہنے والے رضوی سید تھے اور شاعر تھے۔ان کی شہرت نا کی کتاب ’’نوطرز مرصع‘‘ کی بدلت تھی جو قصہ چہار درویش  کا اردو ترجمہ ہے۔انھوں نے اپنی ملازمت کے دوران جنرل رچرڈ سمتھ کے ہم راہ ۱۷۶۸ء میں الہٰ آباد سے کلکتہ تک کشتی   سے سفر کیا اور دوران سفر  کسی دوست نے یہ قصہ سنایا جسے انھوں نے قلم بند کیا اور آصف الدولہ کی خدمت میں پیش کیا۔نو طرز مرصع کا اسلوب   مرصع اور مسجع ہے۔اس کتاب سے میر امن (۱۷۵۰ء۔۱۸۳۷ء) نے ’’باغ و بہار‘‘ تصنیف کی۔

میر امن(۱۷۵۰ء۔۱۸۳۷ء)

ان کا تخلص لطف تھا لیکن یہ باقاعدہ شاعر نہیں تھے۔میر امن دہلی میں پیدا ہوئے۔دہلی کے لٹنے کے بعد وہ پٹنہ چلے گئے اور وہاں سے کلکتہ پہنچے اور  دلاور جنگ کے بھائی میر محمد کاظم خاں کے اتالیق مقرر ہوئے۔فورٹ ولیم کالج کے قیام کے بعد  بہادر علی حسینی کے توسط سے ڈاکٹر جان گلکرسٹ  تک رسائی ممکن ہوئی اور انھوں  نے اپنی کتاب ’’ چار درویش‘‘ یعنی’’باغ و بہار‘‘لکھی جو ۱۸۰۴ء میں شایع ہوئی۔اس کے سو سے زیادہ ایڈیشن شایع ہوچکے ہیں۔محمد غوض زرّیں  نے قصہ چہار درویش آسان زبان میں مختصر لکھا اور تاریخی نام باغ و بہار رکھا۔(میر امن دہلوی،سہیل عباس خان،بیکن بکس گل گشت ملتان،ص ۲۵۔۲۶۔ترمیم شدہ)

باغ و بہار کے تراجم

اردو کی کلاسیکی نثر کی شاہ کار تصنیف باغ و بہار کی مقبولیت صرف برصغیر تک محدود نہیں رہی بل کہ اسے متعدد زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ انگریزی کے علاوہ کئی دیگر زبانوں میں بھی اس کے تراجم منظرِ عام پر آئے۔ ذیل میں چند اہم تراجم کا اجمالی تذکرہ پیش ہے

ہندی

جیوا رام جاٹ، لکھنؤ — ۱۸۷۷ء

گجراتی

پہلا ترجمہ — ۱۸۸۳ء

انگریزی

ایل۔ آر۔ اسمتھ، کلکتہ — ۱۸۱۳ء

فاریس، شملہ — ۱۸۵۱ء

ایسٹ وچ، ہر تھورڈ — ۱۸۵۲ء

جے۔ ایف۔ بینز، کلکتہ — ۱۸۸۷ء (Selections From Bagh-o-Bahar)

— The Stories of Bagh-o-Baharخلاصہ) ای۔ ایف۔ پیسی)

لیفٹیننٹ کرنل ایچ۔ کوئنٹن، کلکتہ — ۱۹۰۱ء

فرانسیسی

گارساں دتاسی کے مطابق، ۱۷۷۸ء میں پیرس میں Soma Lah کی اردو نظم کا ترجمہ پیش کیا گیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرانسیسی علمی دنیا اردو ادب سے پہلے ہی متعارف ہو چکی تھی۔

ارمنی

گارساں دتاسی ہی کے بیان کے مطابق باغ و بہار کا ارمنی ترجمہ بھی کیا گیا۔

پنجابی

قاضی امام بخش شیروی نے پنجابی منظوم ترجمہ کیا۔(ایضاً،ص۲۸۔۲۹۔ترمیم شدہ)

باغ و بہار کی تصنیف کا پس منظر

باغ و بہار کی عظمت کا راز محض اس کی زبان و بیان کی صفائی، اسلوب کی سادگی اور تہذیبی رنگینی میں ہی پوشیدہ نہیں، بل کہ اس کے پس منظر میں موجود سیاسی اور سماجی عوامل بھی اس کی اہمیت میں اضافے کا باعث بنے۔

انیسویں صدی کے آغاز تک برطانوی حکومت نے تجارت کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی سیاست پر بھی اپنا اثر و رسوخ قائم کرنا شروع کر دیا تھا۔ مقامی حکمرانوں کی باہمی کشمکش سے فائدہ اٹھا کر انھوں نے یہاں اقتدار حاصل کیا۔ کسی بھی قوم کی تہذیب اور معاشرت کو سمجھنے کے لیے ان کی زبان سیکھنا ناگزیر ہوتا ہے؛ چناں چہ برطانوی حکام نے ہندوستانی زبانوں کی تعلیم کو اپنی پالیسی کا لازمی حصہ بنا لیا۔

جب لارڈ ولزلی ہندوستان کا گورنر جنرل بنا تو اس نے انگریز ملازمین کو اردو سکھانے کے لیے ۱۸۰۰ء میں فورٹ ولیم کالج، کلکتہ قائم کیا۔ یہ ادارہ اردو زبان و ادب کی ترویج میں سنگِ میل ثابت ہوا۔ اگرچہ بعض محققین کا خیال ہے کہ انگریزوں نے اردو کی فطری خوبیوں کو صحیح طور پر نہیں سمجھا، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ انھوں نے اس زبان کی سرپرستی ضرور کی۔

فورٹ ولیم کالج کے قیام کے مقاصد میں ایک اہم مقصد یہ بھی تھا کہ فارسی، جو کہ مغل دربار کی زبان رہی تھی، اس کی مرکزیت کو کم کیا جائے اور مقامی مسلمانوں کو اپنے قدیم تہذیبی محور سے آہستہ آہستہ ہٹایا جائے۔ چوں کہ فارسی کا زوال اٹھارہویں صدی کے اوائل میں شروع ہو چکا تھا، اس لیے انگریز اس خلا کو اپنی مرضی کی زبانوں اور نصابی مواد سے پُر کرنا چاہتے تھے۔

یہ بھی واضح ہے کہ فورٹ ولیم کالج کی مطبوعات،مثلاً کہانیاں، تاریخ، شاعری اور قوانین،صرف تعلیمی ضرورت پوری نہیں کر رہی تھیں بل کہ ان کے دیباچوں اور مقدمات میں انگریزی حکومت، لارڈ ولزلی اور ڈاکٹر گلکرسٹ کی علمی سرپرستی کی بھرپور تعریف بھی شامل ہوتی تھی۔ اس کا مقصد ہندوستانی رعایا کے ذہنوں میں انگریز حکومت کی فیاضی، علم دوستی اور رعایا پروری کا تاثر قائم کرنا تھا۔

یوں مقامی مصنفین کے قلم سے تیار کردہ یہ کتابیں دراصل حکومت کے لیے ایک نرم قوت کے طور پر استعمال ہو رہی تھیں، جن کے ذریعے رعایا کو یہ باور کرایا جا رہا تھا کہ انگریزوں کی حکمرانی کے تحت وہ امن، خوش حالی اور ترقی کی زندگی گزار سکتے ہیں۔

باغ و بہار کی اسلوبی سادگی

سادگی کسی بھی ادبی اسلوب کی بنیادی خوبی ہے۔ یہ محض الفاظ کی کمی نہیں بل کہ اظہار کی صفائی، معنوی شفافیت اور بیان کی سلاست کا نام ہے۔ بہترین نثر یا نظم وہ ہے جس میں خیال اپنی اصل قوت کے ساتھ بغیر تصنع، طوالت یا غیر ضروری آہنگ کے ظاہر ہو جائے۔ادبی اسلوب میں توازن   بنیادی رکن ہے۔ نہ ضرورت سے زائد تشبیہیں، نہ ثقیل تراکیب،بل کہ ایسا بیان جو سادہ بھی ہو اور اثرآفرین بھی۔ با محاورہ زبان، موزوں تشبیہات اور برجستہ فقروں کا استعمال کسی بھی تحریر میں جان ڈال دیتا ہے۔ مؤثر نثر وہ ہے جس میں خیال، جذبہ، صورتِ حال اور کردار سب اپنی فطری حالت میں قاری تک منتقل ہوں۔

اردو ادب میں ’’باغ و بہار‘‘ محض ایک تخیلاتی داستان نہیں، بل کہ اپنے عہد کی تہذیبی فضا، سماجی رویّوں اور ذہنی رجحانات کا آئینہ بھی ہے۔ اگرچہ اس کے کردار، واقعات اور منظرنامے رنگین اور پُرکشش اسلوب میں تخلیق کیے گئے ہیں، مگر ان کا پس منظر خالص حقیقت پر مبنی نہیں بل کہ فنّی تخیل کی قوت سے تشکیل پایا ہے۔ جیسا کہ ممتاز حسین نے لکھا ہے کہ’’ فنِ قصہ گوئی میں حقیقت کو تخیل کے سانچے میں ڈھال کر پیش کیا جاتا ہے‘‘۔

’’باغ و بہار‘‘ میں صفات، واقعات اور کردار اپنے دور کی تہذیبی ساخت، معاشرتی قدروں، رسوم و رواج اور عربی،ایرانی ادبی ورثے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ کرداروں کی گفت گو، نشست و برخاست، لباس، طور طریقے، محفل آرائی اور اندازِ بیان سب اسی تہذیبی تسلسل کا حصہ ہیں۔ اس کے باوجود یہ کتاب کسی مخصوص طبقے کی زندگی تک محدود نہیں بل کہ اپنے دور کے عام انسانوں کے جذبات، طرزِ فکر، دکھ سکھ اور تمناؤں کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔

ڈاکٹر سید عبدالبادشاہ کے مطابق ’’یہ داستان ایک ایسے معاشرے کے ذہنی رجحانات کا فنی اظہار ہے جہاں عقائد، میلانات، تمنائیں، محرومیاں اور تعلقات بھی انسانی زندگی کی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتے ہیں۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ ’’باغ و بہار‘‘ کو اردو نثر کی اولین زندہ مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے، جو اس دور کی زبان و بیان، محاورات، روزمرّہ اور تہذیبی شعور کا مستند عکس ہے۔

داستان کے مرکزی خیالات میں محبت، وفاداری، احسان، امتحان اور انسانی کمزوریاں نمایاں ہیں۔ اگرچہ داستان میں کہیں کہیں فرضی عناصر بھی ملتے ہیں، لیکن ان کا مقصد حقیقت کو مسخ کرنا نہیں بل کہ اسے زیادہ مؤثر، دل کش اور ادبی بنانا ہے۔ اسی پہلو کو بعض ناقدین نے “فن اور حقیقت کے حسین امتزاج” سے تعبیر کیا ہے۔

باغ و بہار کے لافانی کرداروں کا تجزیہ

پہلا درویش

پہلا درویش بنیادی طور پر کم زور ادارے، عدم استقلال اور خوشامدی فطرت پر کا نمائندہ کردار ہے۔ یمن کے ایک دولت مند تاجر کا بیٹا ہونے کے باوجود نابالغانہ حرکات اور ناپختہ فیصلوں نے اسے ورثے سے محروم کر دیا۔ اس کی شخصیت میں خودداری، عملی بصیرت اور مردانہ جرات واضح طور پر ناپید ہے۔ شہزادی سے اس کی وابستگی بھی عشق سے زیادہ خوشامدانہ جھکاؤ کی صورت رکھتی ہے، اس لیے اس کی محبت میں وقار یا استقامت نظر نہیں آتی۔
شہزادی کی بے رخی، اس کی مسلسل تابع داری اور اس کا ہر حکم بجا لانا اس کے نفسیاتی خلا، احساسِ کمتری اور شخصیت کی بے سمتی کو ظاہر کرتا ہے۔ جنگل میں اس کی گمشدگی اور اس کے انجام کی بے ترتیبی بھی اسی عدم تدبیر اور محدود بصیرت کی علامت ہے۔ مجموعی طور پر پہلا درویش ایک غیر مؤثر، غیر مردانہ اور کمزور کردار کے طور پر سامنے آتا ہے۔

دوسرا درویش

دوسرا درویش اپنے مزاج اور اقدار کے اعتبار سے باقی درویشوں سے کہیں بہتر متوازن ہے۔ فارس کا شہزادہ ہونے کے باوجود اس پر سخاوت، روحانی اخلاق اور حاتم طائی جیسی فیاضی کا اثر غالب ہے۔ اس کی شخصیت میں جرأت، مستقل مزاجی اور مقصدیت پائی جاتی ہے۔شہزادی کی خطرناک شرط قبول کرنا اس کی اعلیٰ ہمت اور مہم جو فطرت کا اظہار ہے۔ نیم روز کا راز معلوم کرنے اور اس کے درد کی دوا تلاش کرنے کے لیے سفر اختیار کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ عملی ذہن، مستحکم ارادے اور عشق میں وقار رکھتا ہے۔
یہ درویش خوشامدی کم اور کردار میں متانت اور عملی دانائی زیادہ رکھتا ہے۔ علمی و تحقیقی زاویے سے یہ کردار باغ و بہار کے درویشوں میں سب سے زیادہ متوازن، مضبوط اور ہیروئی نمائندہ کردار کہا جا سکتا ہے۔

تیسرا درویش

تیسرا درویش ایرانی شہزادہ ہے، جس کی شخصیت میں محبت کی تڑپ، جذباتی بے سمتی اور موقع بہ موقع جرات کی ملی جلی کیفیت ملتی ہے۔ وہ عشق میں شدید مگر کم بصیرت کا حامل ہے، اسی لیے اس کے جذبات اکثر اس کی عقل پر غالب آ جاتے ہیں۔ہرن کا تنہا پیچھا کرنا اور فرنگی شہزادی کے حالات کو جاننے کی جستجو اس کی مہم جو طبیعت اور ذاتی اعتماد کا غماز ہے، مگر نازک موقع پر بے بسی سے کھڑا رہ جانا اسے عشق کے میدان کا کمزور اور غیر فیصلہ کن کردار بنا دیتا ہے۔
تحقیقی نقطۂ نظر سے تیسرے درویش کا کردار جذباتی عدم توازن اور نیم پختہ جرات کا آئینہ ہے، جو اسے نہ ہیرو بننے دیتا ہے نہ مکمل طور پر ناکام کردار۔

چوتھا درویش

چوتھا درویش چین کے بادشاہ کا ولی عہد ہے، مگر اس کی شاہانہ پرورش نے اسے بے عملی، سادگیِ شعور اور ذہنی کمزوری کا شکار بنا دیا ہے۔ بیگمات اور خادِماؤں کی صحبت نے اس کی شخصیت میں نرم مزاجی کے ساتھ ساتھ کم زور فیصلہ سازی کو جنم دیا۔اس کا غلام مبارک حبشی اس کی زندگی میں عقل، تدبیر اور تحفظ کا واحد سرچشمہ بن جاتا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شہزادے کے فیصلے دراصل اس کے ذاتی شعور کے بجائے غلام کے فہم کے تابع رہتے ہیں۔
شہزادے کا شکی مزاج، ملک صادق جیسے طاقتور جن سے لڑنے کی حماقت، اور ہر مشکل میں غلام پر انحصار، اس کے ناپختہ ذہن اور بے بصیرتی کا واضح اظہار ہے۔علمی تجزیے میں یہ کردار باغ و بہار کے تمام کرداروں میں سب سے زیادہ کمزور، غیر مستقل اور جذباتی طور پر منحصر نظر آتا ہے۔

بادشاہ آزاد بخت

آزاد بخت روم کا تنہا وارث اور ہر آسائش سے بہرہ مند حکمران ہے، مگر اولاد سے محرومی اسے شدید ذہنی اضطراب میں مبتلا رکھتی ہے۔ چالیس برس کی عمر میں دنیاوی طاقت سے کنارہ کش ہو کر روحانی سکون کی تلاش میں نکل جانا اس کی شخصیت کے باطنی خلا اور مذہبی رجحان کی علامت ہے۔
تاہم اس کی طبیعت میں عجلت اور فیصلہ سازی کی خامی بھی پائی جاتی ہے، اسی لیے بغیر تحقیق اپنے وفادار وزیر کو موت کے گھاٹ اتارنے کا حکم دینا اُس کی شاہانہ خود رَوی اور جذباتی کم زوری کی نشاندہی کرتا ہے۔کم سن شہزادی کا نکاح بوڑھے خواجہ سگ پرست سے کرانا اس کے کردار میں رحم دلی اور غیر عملی فیصلہ سازی کا دوہرا پہلو ظاہر کرتا ہے۔
تجزیاتی طور پر آزاد بخت ایک زیادہ حقیقت پسند، انسانی کم زوریوں سے بھرا ہوا مگر بنیاد میں نیک سرشت کردار ہے، جس کی کہانی دوسرے درویشوں کے مقابلے میں عملی زندگی، اقتدار کے نفسیاتی دباؤ اور روحانی جستجو کا گہرا مطالعہ پیش کرتی ہے۔

خواجہ سگ پرست

خواجہ سگ پرست ایک ایسا کردار ہے جس میں سادہ دلی، شرافت اور ناقص دنیا داری نمایاں ہے۔ بھائیوں کی واضح بدعہدی کے باوجود ان پر اعتماد کرنا اس کی سادگی اور جذباتی کم زوری دونوں کا اظہار ہے۔اس کے اندر برداشت اور نیکی کا جذبہ تو موجود ہے لیکن بدلے کے وقت اس کا رویہ شدت، انتقام اور غیر معمولی غصے میں ڈھل جاتا ہےجو اس کے اخلاقی تضاد اور نفسیاتی بے ترتیبی کو ظاہر کرتا ہے۔جنس کی طرف کم زوری، خوشامدانہ رویہ اور کم سن شہزادی سے شادی کی خواہش اس کردار کو درویشوں کے قریب کر دیتی ہے، لیکن اپنی بنیادی شرافت اور جذباتی ساخت کی وجہ سے وہ باقی کرداروں میں منفرد مقام رکھتا ہے۔

ماہ رو

ماہ رو پہلے درویش کی ہیروئن ہے، جسے میر امن نے خوبصورتی، ناز و نخرے اور درباری شان کی علامت کے طور پر پیش کیا۔ اس کی شخصیت میں احساسِ برتری کے ساتھ ایک مضطرب جذباتی ساخت موجود ہے۔عشق کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا اس کی شخصیت کا نرم پہلو ہے، مگر ناکامی اسے دوبارہ غصے، تندی اور سخت گیری کی طرف لوٹا دیتی ہے۔
ایک طرف وہ رحمدل، سمجھ دار اور عزتِ نفس رکھنے والی ہے، دوسری طرف مذہبی اصولوں سے انحراف اس کے کردار میں اخلاقی دوہرا پن اور نفسیاتی کشمکش کو نمایاں کرتا ہے۔
تحقیقی طور پر ماہ رو باغ و بہار کی سب سے پیچیدہ اور تہہ دار نسوانی شخصیت ہے۔

وزیر زادی

وزیر زادی کی شادی کم سنی میں ایک بوڑھے سے کر دی جاتی ہے، لیکن وہ بادشاہ کے حکم کو تقدیر کا فیصلہ سمجھ کر صبر و رضا کے ساتھ قبول کرتی ہے۔اس کی خاموشی، برداشت اور اطاعت اس کے کردار میں نسوانی وقار، اخلاقی تحمل اور روایتی اقدار کی پاسداری کو ظاہر کرتی ہے۔یہ کردار نمایاں طور پر استقامت، تقدیر پر یقین اور سماجی ذمہ داری کا مظہر ہے۔

سراندیپ کی شہزادی

سراندیپ کی شہزادی ایک کھلے ماحول کی پروردہ، نڈر، بے باک اور آزاد فطرت کی حامل ہندوستانی راج کماری ہے۔پردے کی پابندی نہ کرنا، جنگلوں میں گھومنا اور شکار کرنا اس کے کردار کو روایتی قیود سے آزاد، متحرک اور عملی بنا دیتا ہے۔یہ کردار باغ و بہار میں ہندو ثقافتی مزاج اور نسوانی خود مختاری کی بھرپور نمائندگی کرتا ہے۔

بصرے کی شہزادی

بصرے کی شہزادی اپنے والد کی خود پسندی کے مقابل کھڑی ہو کر قضا و قدر کے عقیدے کا اظہار کرتی ہے، جو اس کے روحانی شعور اور فکری مضبوطی کا ثبوت ہے۔جلاوطنی، آزمائش، صبر و عبادت اور خزانے کے ذریعے نئے محل کی تعمیر اس کے کردار میں اعتماد، خدا ترسی، معاملہ فہمی اور حکمت عملی کو ظاہر کرتی ہے۔اپنے وقار اور سخاوت کی بدولت وہ نہ صرف عوام کی محبوب بنتی ہے بل کہ بادشاہ کی جانشین بھی ٹھہرتی ہے۔تحقیقی لحاظ سے یہ کردار اسلامی تقدیر کے فلسفے اور مثالی حکمرانی کا نمونہ ہے۔

پہلے درویش کی بہن

یہ کردار ہندوستانی معاشرت میں بہن کی محبت، وفا، ایثار اور عملی دانش کا مکمل نمونہ ہے۔بھائی کی پرورش، مدد اور پھر اسے غیرت دلانا اس کردار کی ذمہ داری، محبت، وفاداری اور سماجی شعور کو ظاہر کرتا ہے۔یہ کردار نسوانی کرداروں میں سب سے زیادہ حقیقت پسند، متوازن اور سماجی حقیقت کے قریب ہے۔

کٹنی۔چالاکی،تدبیر اور معاشرتی طبقے کی تصویر

کٹنی اگرچہ ضمنی کردار ہے مگر اس میں دو رخا، مکار، چال باز اور موقع پرست عورت کی بھرپور تصویر پیش کی گئی ہے۔یہ کردار اس سماجی طبقے کا آئینہ ہے جو عقل و تدبیر کے ذریعے دوسروں پر اثر انداز ہوتا ہے، اور میر امن نے اسے نہایت فنکارانہ مہارت سے پیش کیا ہے۔

باغ و بہار۔تحقیقی و تنقیدی تجزیہ

فورٹ ولیم کالج کے قیام کے بعد اردو زبان میں جو داستانی ادب پیدا ہوا، ان میں باغ و بہار غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ میر امن دہلوی نے  اس داستان کو نہ صرف اپنے خالص دہلوی محاورے، روزمرہ اور سلیس نثر سے آراستہ کیا بل کہ ایک ایسی زبان اور اسلوب کو جنم دیا جو اردو نثر کے ارتقا میں سنگ میل ثابت ہوا۔
اگرچہ اس کا اصل ماخذ عطا حسین خاں تحسین کی نوطرز مرصع ہے، اور اس سے پہلے اس کہانی کو چہار درویش کے عنوان سے امیر خسرو سے منسوب کیا جاتا رہا، تاہم تحقیق تصدیق کرتی ہے کہ خسرو کا اس داستان سے کوئی تعلق نہیں۔اس داستان کی اصل ادبی اہمیت اس کے لسانی ذوق، روزمرہ کی روانی اور کرداروں کی فطری بنت میں پوشیدہ ہے۔ باغ و بہار کی ۱۸۰۴ء میں اشاعت کے بعد اس نے فوراً ادبی دنیا میں مقبولیت پائی، اور اس کی نثر کو اردو کا اولین صحیفۂ نثر قرار دیا گیا۔تاہم اس تحقیقی جائزے میں ہمارا مطمح نظر محض اس کی لسانی انفرادیت نہیں بل کہ اس میں موجود نسوانی و مردانہ کرداروں کی فکری تشکیل، جذباتی ساخت، رویوں کی تبدیلی اور ان کے تقابلی پہلو ہیں،کیوں کہ کرداروں کی نفسیاتی و سماجی معنویت باغ و بہار کی اصل فنی کامیابی ہے۔

کرداری کائنات: داستانوی غیر فطری ماحول میں انسانی حقیقت کی بازیافت

داستانی ادب عام طور پر مافوق الفطرت عناصر، غیر حقیقی کرداروں اور تعجب خیز واقعات سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ جنات، دیو، پریاں، طلسماتی واقعات اور ناقابلِ یقین واقعات داستانوں کی فضا کو حقیقت سے دور لے جاتے ہیں؛ لیکن ’’باغ و بہار‘‘ اس دھند میں سے انسانی سماج، روزمرہ زندگی اور حقیقی جذبات کا ایسا عکس دکھاتی ہے جس سے کردار محض تخیلاتی نہیں رہتے بل کہ انسانی تجربے سے وابستہ نظر آتے ہیں۔

چار درویشوں کے قصے میں اگرچہ واقعاتی یکسانیت ہے اور ان کے طرزِ بیان میں ایک دوسرے کی جھلک ملتی ہے، مگر مرد کرداروں کے برعکس اس داستان کے نسوانی کردار زیادہ جاندار، فعال اور جذباتی گہرائی کے حامل ہیں۔

ان کرداروں میں:
شہزادی دمشق
ماہ رو
وزیر زادی
سراندیپ کی شہزادی
بصرے کی شہزادی

شامل ہیں، جو داستانوی فضا میں رہتے ہوئے بھی عملی عورت، جذباتی عورت، انتقامی عورت، باشعور عورت، مذہبی عورت اور باوقار عورت کے مختلف انسانی روپ پیش کرتی ہیں۔

شہزادی دمشق جذبات، انتقام اور عقل کی ہم آہنگی کی عمدہ مثال ہے۔نسوانی کرداروں میں سب سے منفرد، گہرا اور انسانی حقیقت کے قریب کردار شہزادی دمشق کا ہے۔وہ محبت میں دھوکہ کھاتی ہے، قید بھی ہوتی ہے اور موت کا سامنا بھی کرتی ہے، مگر وہ داستانوں کی روایتی شہزادیوں کی طرح بے بسی یا جذباتی شکست قبول نہیں کرتی۔اس کے کردار کا نمایاں پہلوشدتِ جذبات ،ضبطِ نفس کی کمی ،انتقامی ذہنیت ،عملی ذہانت ،خطرے کے وقت عقلی حکمت اورذہنی استقامت  ہیں۔جب وہ قید ہو کر شہرپناہ کی دیوار کے ساتھ لٹکائی جاتی ہے تو موت کے خوف کے باوجود خود کو دفنانے کا طریقہ بھی خود تجویز کرتی ہے—یہ وہ مقام ہے جو اسے روایتی شہزادیوں سے ممتاز اور حقیقت کے زیادہ قریب کر دیتا ہے۔

نسوانی کرداروں کا تقابلی جائزہ

ماہ رو بمقابلہ شہزادی دمشق
ماہ رو حسن، ناز، فخر اور عشق کے جذبات کی نمائندہ ہے۔ ماہ رو کمزوری اور محبت کے درمیان جھولتی ہے۔
شہزادی دمشق جذبات اور عقل دونوں کو یکجا رکھنے والی طاقت ور نسوانی شخصیت ہے۔دمشق کی شہزادی شکست کے بعد مزید مضبوط، بامقصد اور بدلہ لینے والی شخصیت بن جاتی ہے۔

یہاں ماہ رو ایک کم زور جذباتی کردار ،جب کہ  شہزادی دمشق  مضبوط اور بامقصد کردار کے طور پر سامنے آتی ہے۔

وزیر زادی بمقابلہ سراندیپ کی شہزادی
وزیر زادی تقدیر پر یقین، برداشت، روایتی اطاعت اور نسوانی وقار کا پیکر ہے۔ وزیر زادی کا کردار سماجی اطاعت اور اخلاقی وقار کی علامت ہے۔
سراندیپ کی شہزادی بے خوف، آزاد مزاج، شکار پسند، روایت شکن اور طاقت ور ہے۔سراندیپ کی شہزادی آزاد نسوانیت اور فطری قوت کی نمائندہ ہے۔

بصرے کی شہزادی بمقابلہ دیگر شہزادیاں
بصرے کی شہزادی میں روحانیت، تقدیر پسندی، حکومتی شعور، سخاوت اور اخلاقی عظمت پائی جاتی ہے۔ بصرے کی شہزادی خاص طور پر عقیدہ، حکمت اور عادلانہ قیادت کا استعارہ ہے۔
باقی شہزادیاں زیادہ تر جذبات، محبت یا ذاتی انا کے دائروں میں گھومتی ہیں۔

مردانہ کرداروں کا تقابلی جائزہ

آزاد بخت
روحانی خواہش، جذباتی عدالت، عجلت اور داخلی بے چینی کے ساتھ حقیقت پسند۔

خواجہ سگ پرست
بھولپن، شرافت، کم زوری، جنسی خواہش اور انتقامی شدت کا مرکب ہے۔داستان کے سب سے زیادہ غیر متوازن لیکن انسانی کمزوریوں سے بھرپور کرداروں میں سے ایک ہے۔

چاروں درویش
 ان میں واقعاتی یکسانیت کے باوجود ان میں خواہش، جدوجہد، عشق اور ناکامی کا مشترکہ رنگ پایا جاتا ہے ۔

باغ بہار کے نسوانی کرداروں  کو مردانہ کرداروں پر برتری حاصل ہے۔نسوانی کرداروں کی برتری کا تحقیقی جواز یہ ہے کہ یہ کردار زیادہ عملی، نفسیاتی پیچیدگی، جذباتی گہرائی کی شدت ، سماجی حوالوں سے حقیقت پسند اور زیادہ فکری تنوع کے حامل ہیں۔یہ کردار ایسے جذبات اور اعمال پیش کرتے ہیں جو داستانوں کی روایتی عورت سے زیادہ انسانی عورت کے قریب ہیں۔مثلاً:محبت ،بدلہ، عزتِ نفس کے حامل ، حوصلہ ،عملیت ،تدبر ،عقل و فراست ، قربانی ،تقدیر پسندی وغیرہ۔یہی وہ عناصر ہیں جو ’’باغ و بہار‘‘ کو دوسری داستانوں سے ممتاز کرتے ہیں۔

’’باغ و بہار‘‘ اپنی لسانی انفرادیت کے ساتھ ساتھ کردارنگاری کی حقیقت پسندی، نسوانی کرداروں کی نفسیاتی گہرائی اور مرد کرداروں کی انسانی کمزوریوں کے باعث اردو داستانی ادب میں منفرد مقام رکھتی ہے۔میر امن نے اس داستان میں نہ صرف اردو نثر کی بنیاد استوار کی بل کہ کرداروں کے ذریعے انسانی سماج کی وہ تصویریں پیش کیں جو داستانی فضا میں ہوتے ہوئے بھی حقیقت کی خوشبو رکھتی ہیں۔

باغ و بہار۔پی۔ڈی۔ایف۔مطالعہ کریں

Linguistic analysis of Urdu classic fable "Bagh o Bahar" by Sohail Abas khan
باغ و بہار۔لسانی تجزیہ۔تنقید و تجزیہ ۔سہیل عباس خان
Urdu classic fable name "Bagh o Bahar" by Mir Aman Dehelvi
باغ و بہار۔میر امن دہلوی
A research paper in Urdu by Mirza Hamid Baig on the source of "Bagh o Bahar"
باغ و بہار کا ماخذ۔مرزا حامد بیگ
Scroll to Top