کلاسیکی دکنی شاعری میں حسن شوقی کا مقام

کلاسیکی دکنی اردو شاعری کی روایت میں حسن شوقی ایک ایسے شاعر کے طور پر سامنے آتے ہیں جو قدیم شعری مزاج اور بعد کی اردو غزل کے درمیان ایک مضبوط فکری اور فنی ربط قائم کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں زبان، جذبے اور اسلوب کا ایسا امتزاج ملتا ہے جو دکن کے تہذیبی اور ادبی ماحول کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔

پیدائش، خاندانی پس منظر اور ہجرت

حسن شوقی کا اصل نام شیخ حسن تھا اور وہ شوقی تخلص اختیار کرتے تھے۔ ان کی پیدائش سولہویں صدی کے وسط کے قریب، ہجری لحاظ سے نو سو اڑتالیس کے آس پاس بتائی جاتی ہے، جب کہ وفات سترہویں صدی کے اوائل میں واقع ہوئی۔ تاریخی شواہد کے مطابق ان کا تعلق گجرات کے اہلِ علم و ادب طبقے سے تھا۔ جب مغلیہ دور میں شہنشاہ اکبر کے عہد میں گجرات فتح ہوا تو حسن شوقی نے وہاں سے ہجرت کی اور دکن کی عادل شاہی سلطنت میں آ بسے، جہاں انھیں ایک نسبتاً سازگار ادبی فضا میسر آئی۔

حسن شوقی کا تعلق دکن کے عادل شاہی دور سے ہے، جو اُردو کے ابتدائی ادبی ارتقا کا نہایت اہم زمانہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب دکنی اُردو اپنی ابتدائی ہیئت سے نکل کر فنی پختگی کی طرف بڑھ رہی تھی اور غزل ایک باقاعدہ صنف کے طور پر اپنی شناخت قائم کر رہی تھی۔ حسن شوقی اپنے عہد میں مسلم الثبوت استاد کی حیثیت رکھتے تھے اور ان کا نام اس زمانے کی ادبی فضاؤں میں گونج رہا تھا، جب دکن میں محمد قلی قطب شاہ جیسے شعرا اور حکمرانوں کی موجودگی نے شعری ماحول کو مزید جلا بخشی۔

شاعری اور اصنافِ سخن

حسن شوقی ایک کثیرالاصناف شاعر تھے، اگرچہ ان کی اصل شہرت غزل گوئی کی وجہ سے قائم ہوئی۔ انھوں نے اردو غزل کو نئے رنگ و آہنگ سے روشناس کرایا اور اسے اظہارِ جذبات کا ایک مؤثر وسیلہ بنایا۔ ان کی غزل کے ساتھ ساتھ مثنوی نگاری بھی قابلِ توجہ ہے۔ ان کی مشہور مثنویوں میں میزبانی نامہ اور فتح جنگ کا ذکر ملتا ہے، جن سے ان کی قصہ گوئی، منظر نگاری اور بیانیہ صلاحیت واضح ہوتی ہے۔ بیسویں صدی میں مولوی عبدالحق نے انھیں قدیم دکنی شاعر کی حیثیت سے علمی دنیا میں نمایاں کیا، جس کے بعد حسن شوقی پر تحقیقی توجہ میں اضافہ ہوا۔

شاعرانہ مزاج اور فنی خصوصیات

حسن شوقی کی شاعری کا بنیادی مزاج عشقِ مجازی پر قائم ہے۔ ان کے نزدیک غزل عورتوں سے باتیں کرنے اور عورتوں کے حسن و جذبات کو بیان کرنے کا وسیلہ ہے۔ ان کے کلام میں محبوب کے سراپا، جسمانی حسن، وصل کی کیفیات اور جمالیاتی لذتوں کا کھلا اور بے ساختہ بیان ملتا ہے۔ تصوف یا عشقِ حقیقی کے عناصر ان کی شاعری میں کم نظر آتے ہیں، تاہم جذبات کی شدت اور اظہار کی تازگی ان کے کلام کو منفرد بناتی ہے۔ لسانی سطح پر ان کی زبان دکن کی عام بول چال سے قریب ہے، جس میں قدامت کے باوجود ایک خاص شیرینی اور صوتی حسن پایا جاتا ہے۔

حسن شوقی فارسی شعری روایت سے گہرا رشتہ رکھتے تھے۔ ان کے یہاں خسرو، انوری اور نظامی جیسے فارسی اساتذہ کے اثرات واضح ہیں۔ وہ نہ صرف ان شعرا کی پیروی کرتے ہیں بل کہ بعض اشعار میں شعوری طور پر ان کا حوالہ دے کر اپنی شعری خود آگہی کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ یہی شعوری وابستگی ان کے کلام کو محض تقلید نہیں تخلیقی تسلسل کا حصہ بناتی ہے۔

منتخب اشعار

حسن شوقی کے کلام کے چند مزید منتخب نمونے ان کے فنی اور فکری رجحانات کی عکاسی کرتے ہیں:

جب عاشقاں کی صف میں شوقی غزل پڑے
تو کوئی خسروی بلالی کوئی انوری کتے ہیں

ہمارا حسن ہے شوقی معلم ذہن کو تیرے
سبق کچھ عنصری کا یا درس کچھ انوری کا ہے

 

جو بن سوں قد سہادے لٹکے جو دھن اگن میں
دو پھول پریاں سوں ڈالتی دستی ہے چیو چمن میں

جب دھن انکن کھڑی ہے تن ابرہن پری ہے
تختِ حسن کا جڑی ہے دل مل رہبارین میں

جن یو غزل سنا جلتاں کو پھر جلایا
وہ رند لاابالی شوقی حسن کہاں ہے

خوش مانگ لا سنوارے موتی دئیں ہوتارے
جیون چاند سوں ستارے اوگے ہیں سیام گھن میں

مجموعی جائزہ اور ادبی اہمیت

حسن شوقی دکنی اردو غزل کے ان اہم شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے ولی دکنی سے پہلے غزل کو فنی بنیادیں فراہم کیں۔ ان کی شاعری قدیم اور جدید اردو غزل کے درمیان ایک فکری اور لسانی پل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی بنا پر حسن شوقی کو دکنی اردو شاعری کی تاریخ میں ایک ناگزیر اور مؤثر آواز تسلیم کیا جاتا ہے۔

دیباچہ دیوانِ حسن شوقی از ڈاکٹر جمیل جالبی کی ادبی اہمیت و تنقیدی جائزہ

ڈاکٹر جمیل جالبی نے دیوانِ حسن شوقی کی ترتیب میں صرف بکھرے ہوئے کلام کو جمع کرنے پر اکتفا نہیں کیا بل کہ دکنی اردو کی قدیم شعری روایت میں حسن شوقی کے مقام، اثرات اور تاریخی معنویت کو بھی واضح کرنے کی کوشش کی۔ ان کا مقدمہ محض تعارفی نہیں ، متنی تحقیق، تاریخی تنقید اور ادبی تقابل کا ایک جامع نمونہ ہے۔

 ڈاکٹر جمیل جالبی نےسب سے پہلے ان محققین کے کام سے استفادہ کیا جنھوں نے حسن شوقی کو جدید تحقیق میں متعارف کرایا۔ مولوی عبدالحق نے ۱۹۲۹ء میں’’ رسالہ اُردو ‘‘کے ذریعے حسن شوقی پر توجہ مبذول کرائی۔ ان کے فراہم کردہ قلمی نسخے، بیاضیں اور تصنیف قدیم ُاردو دیوان کی بنیاد بنیں۔ جمیل جالبی کے نزدیک  مولوی عبدالحق کی اہمیت اس لیے بھی مسلم ہے کہ انھوں نے دکنی ادب کو محض لسانی نہیں بل کہ تہذیبی تناظر میں دیکھا، اگرچہ حسن شوقی کے بعض اشعار ان کے ہاں جزوی اور غیر مکمل صورت میں ملتے ہیں۔

سخاوت مرزا نے ۱۹۵۷ءمیں’’ رسالہ اُردو ‘‘کراچی میں حسن شوقی کی مزید غزلیں شائع کیں، جن سے یہ بات واضح ہوئی کہ شوقی کا غزلیہ مزاج محض مثنوی نگار شاعر کا ذیلی پہلو نہیں ، ایک مستقل فکری اور جمالیاتی جہت رکھتا ہے۔

ڈاکٹر محی الدین قادری زور نے ۱۹۶۵ءمیں حسن شوقی کی پانچ غزلیں دریافت کیں۔ ڈاکٹرجمیل جالبی نے ان غزلوں کو دکنی غزل کی روایت میں رکھ کر پرکھا اور یہ رائے قائم کی کہ شوقی زبان کے تجربے اور بیان کی سلاست میں اپنے عہد کے کئی شعرا سے آگے نظر آتے ہیں، اگرچہ مضمون آفرینی میں وہ بعض مقامات پر روایت کے اسیر بھی دکھائی دیتے ہیں۔

پروفیسر نصیر الدین ہاشمی کی تصنیف دکن میں اردو سے دکنی اردو کے ارتقائی پہلو اخذ کیے گئے، تاہم ڈاکٹر جمیل جالبی نے واضح کیا کہ پروفیسرہاشمی کے بعض تاریخی قیاسات حسن شوقی کے زمانی تعین میں پوری طرح قابلِ اعتماد نہیں۔

تاریخی تصدیق کے لیے بشیر الدین احمد کی کتب واقعات مملکت بیجاپور اور تاریخ و وجیانگر سے مدد لی گئی، جب کہ عبدالمجید صدیقی کی تاریخ گولکنڈہ نے نظام شاہی اور عادل شاہی پس منظر کو واضح کیا۔ ان تاریخی مآخذ کی مدد سے ڈاکٹر جمیل جالبی نے یہ ثابت کیا کہ حسن شوقی کی مثنوی فتح نامہ نظام شاہ محض ادبی تخلیق نہیں بل کہ ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت بھی رکھتی ہے، اگرچہ اس میں شعری مبالغہ اور درباری وفاداری کے عناصر نمایاں ہیں۔

قدیم دکنی شعرا کے حوالے سے ڈاکٹر جمیل جالبی نے خاص طور پر ان شعرا کو اہمیت دی جنھوں نے اپنی مثنویوں یا طویل نظموں میں حسن شوقی کا ذکر کیا یا ان سے اثر قبول کیا۔ ابنِ نشاطی کی مثنوی پھول بن میں حسن شوقی کا ذکر ان کی استادی اور ادبی وقار کی دلیل ہے۔ سید اعظم بیجاپوری نے فتح جنگ میں شوقی کی زبان کی روانی اور بیان کی صفائی کو سراہا۔ نصرتی نے علی نامہ میں حسن شوقی سے تقابل کرتے ہوئے اپنی شاعری کو اسی روایت کا تسلسل قرار دیا۔ ملا وجہی کی قطب مشتری میں بھی حسن شوقی کا ذکر اس امر کا ثبوت ہے کہ شوقی دکن کے شعری حلقوں میں ایک معتبر نام تھے۔ اس کے علاوہ اشرف، رحیمی، قریشی، یوسف، سالک اور تائب جیسے شعرا نے یا تو حسن شوقی کی زمین میں غزلیں کہیں یا ان کے اشعار پر تضمین کی، جو ان کے ادبی اثر و نفوذ کو ظاہر کرتا ہے۔

حسن شوقی کی شعری اصناف پر گفتگو کرتے ہوئے داکٹر موصوف نے واضح کیا کہ شوقی بنیادی طور پر مثنوی کے شاعر ہیں، لیکن انھیں صرف مثنوی نگار قرار دینا ان کے فن کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ان کی دو بڑی مثنویاں فتح نامہ نظام شاہ اور میزبانی نامہ دیوان کا مرکزی حصہ ہیں۔ فتح نامہ نظام شاہ جنگِ تالیکوٹ کے احوال بیان کرتی ہے اور اس میں تاریخی شعور کے ساتھ ساتھ درباری شاعری کے تقاضے بھی نمایاں ہیں۔ میزبانی نامہ سلطان محمد عادل شاہ کی شادی کے موقع پر لکھی گئی اور اس کے ۴۲۱اشعار دکنی تہذیب، رسم و رواج اور درباری زندگی کا قیمتی مرقع پیش کرتے ہیں۔

غزل کے میدان میں حسن شوقی کی انیس غزلیں دستیاب ہوئیں، جو بیاضوں، تذکروں اور سابقہ محققین کے ذریعے جمع کی گئیں۔ ان غزلوں میں زبان کی سادگی، صوتی آہنگ اور مقامی رنگ نمایاں ہے، اگرچہ فکری گہرائی کے اعتبار سے وہ بعد کے کلاسیکی شعرا تک نہیں پہنچتیں۔ بیاضِ انجمن میں مرثیے اور متفرق کلام بھی ملا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شوقی مرثیہ نگاری اور مذہبی شاعری سے بھی واقف تھے۔ ان کی مثنویوں کے آغاز میں حمد اور نعت کے اشعار اس عہد کی ادبی روایت کی پیروی کا ثبوت ہیں۔

مادی اور قلمی مآخذ میں سب سے اہم ذریعہ انجمن ترقی اردو کراچی کا کتب خانہ ہے، جہاں محفوظ بیاضوں سے نادر مخطوطات دستیاب ہوئے۔ تاریخ فرشتہ کو تاریخی تطبیق کے لیے بنیادی حیثیت حاصل رہی، جب کہ کتب خانہ سعیدیہ حیدرآباد کے مخطوطات سے متنی تصدیق کی گئی۔ رسالہ اردو کے دہلی اور کراچی ایڈیشنوں میں شائع شدہ تحقیقی مقالات بھی اس کام کا حصہ رہے۔

تنقیدی طور پر ڈاکٹر جمیل جالبی یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ حسن شوقی نہ تو محض درباری شاعر ہیں اور نہ ہی صرف تاریخی نظم نگار، بل کہ وہ دکنی اردو کی اس عبوری منزل کی نمائندگی کرتے ہیں جہاں زبان مقامی رنگ اختیار کر رہی تھی اور شعری اصناف فارسی روایت سے نکل کر ایک نئی تہذیبی شناخت کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ اسی تناظر میں دیوانِ حسن شوقی کی ترتیب اردو ادب کی ایک گم شدہ مگر اہم روایت کی بازیافت بن کر سامنے آتی ہے۔

PDF دیوانِ حسن شوقی

دیوانِ حسن شوقی

دیوانِ حسن شوقی

صفحہ:
Scroll to Top