داستانِ امیر حمزہ اردو ادب کی عظیم اور کلاسیکی داستانوں میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے، جو اپنی طویل داستانی روایت، تخیلاتی وسعت اور فکری گہرائی کے باعث آج بھی قارئین اور محققین کی توجہ کا مرکز ہے۔ یہ داستان اُردو د ادب کی نمائندہ مثال ہے جس میں سحر و طلسم، مہماتی واقعات، جنگی مناظر، کردار نگاری، اور داستانی اسلوب بھرپور انداز میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ داستانِ امیر حمزہ کا سب سے مشہور اور مقبول حصہ طلسمِ ہوشربا ہے، جو اس داستان کے آٹھ ابواب پر مشتمل ہے اور اُردو ادب میں ایک مستقل داستان کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس داستان میں لکھنوی تہذیب، اودھ کی سماجی و ثقافتی زندگی، مذہبی روایات، عوامی رسوم، کھان پان، لباس، زبان و بیان اور روزمرہ زندگی کی نہایت جاندار عکاسی ملتی ہے۔ نول کشور کی مطبوعہ داستانِ امیر حمزہ اور خصوصاً طلسمِ ہوشربا کو اردو داستان نگاری کی روایت، کلاسیکی اردو نثر، فارسی آمیز مسجع و مرصع زبان کا بہترین نمونہ قرار دیا جاتا ہے، جس نے اردو ادب میں داستانی روایت کو استحکام بخشا اور اسے ایک اہم تہذیبی و ادبی دستاویز بنا دیا۔
داستان امیر حمزہ داستانوں کا ایک طویل سلسلہ ہے۔اس داستان کو فارسی سے اُردو میں منتقل کیا گیا ہے۔اس داستان کے کرداروں میں بیش تر اضافے مطبع نول کشول میں کیے گئے ہیں۔ تقریباً سبھی داستان گو مانتے ہیں کہ اس داستان کی جڑیں سر زمین ایران سے پھوٹتی ہیں لیکن جو داستان امیر حمزہ ہندوستان میں تالیف ہوئی اس کے معاشرتی تقوش ہندوستان ہی سے ملتے ہیں، تاہم کہیں کہیں قاہرہ، سمرقند ، اور چین کا بھی ذکر ملتا ہے۔داستان امیر حمزہ کے مصنف کے بارے میں سید محمود نقوی نے فیضی کا ذکر کیا ہے جسے گیان چند جین نے ’’اُردو کی نثری داستانیں‘‘ میں غلط ثابت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس داستان کے مصنف کا نام اس کے اردو تراجم میں مضمر ہے۔پروفیسر گیان چند جین کے مطابق دستان امیر حمزہ نامی شخص اسلام کی تبلیغ کے لیے نکلا ۔اس کا اصل دشمن زمرد شاہ باختری لقا ہے ، جس نے خدائی کا دعویٰ کیا ہے ۔اس کا پیچھا کرتے ہوئے وہ مختلف ممالک میں جاتا ہے اور اس طرح یہ داستان پھیلتی چلی جاتی ہے اور کئی جلدوں پر محیط ہے۔
اُردو میں داستان امیر حمزہ کے کئی سلسلے ملتے ہیں۔
۔فورٹ ولیم کالج میں ڈاکٹر گلکرسٹ کے زیر اہتمام خلیل علی خاں اشک کی تصنیف داستان امیر حمزہ جو کہ اب نایاب ہے (۱۸۰۱ء)
۔رامپور میں میر احمد علی داستان گو کے داستان گوئی کے سلسلے کی داستان امیر حمزہ۔
۔ مرزا امان علی خاں بہادر غالب لکھنوی کی داستان امیر حمزہ رامپور ہے (۱۸۵۵ء )
اس کے بعد عبد الباری آسی نے بھی ایک نسخہ ترتیب دیا ۔ گیان چند جین نے ایک فارسی نسخے رموز حمزہ کا بھی ذکر کیا ہے۔
۔لکھنو میں مطبع نول کشور جنھوں نے اولاً غالب لکھنوی کی داستان امیر حمزہ کو نظر ثانی کروا کے عبداللہ بلگرامی سے تحریر کروا کے چھپوایا ۔
مطبع نول کشول نے اس کی ۴۶ جلدیں تحریر کروائیں۔ شمس الرحمٰن فاروقی کے ذاتی کتب خانے میں یہ تمام جلدیں موجود ہیں۔
داستان امیر حمزہ کی ۴۶ جلدیں کسی ایک مصنف کی تصنیف کردہ نہیں ہیں لہذٰا سبھی روایات کی پرتیں قصہ در قصہ کھلتی چلی جاتی ہیں اور اس دور کی مخصوص زبان میں بھی مہارت و مماثلت ملتی ہے نیز ہر داستان گو پہلے داستان گو سے سبقت لے جانے کی کوشش میں سر گرداں نظر آتا ہے۔داستان امیر حمزہ کے طویل سلسلے میں جسے سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی وہ طلسم ہوشربا کے سات دفتر ہیں جنھیں محمد حسین جاہ اور احمد حسین قمر نے تحریر کیا تھا اور اس کے مرکزی کردار امیر حمزہ اور عمرو عیار ہیں۔
طلسم ہوشربا کی شروع کی چار جلد یں محمد حسین جاہ نے اور پانچویں، چھٹی اور ساتویں احمد حسین قمر نے، پانچویں کے دو حصے ہیں ۔اس طرح چار جلد میں احمد حسین قمر نے اور چار محمد حسین جاہ نے تحریر کی ہیں۔ ان آٹھ جلدوں کے علاوہ احمد حسین قمر کی تحریر کردہ دو بقیہ طلسم ہوشربا کی جلد یں یعنی مجموعی طور پر طلسم ہوشربا کی دس جلد یں تحریر ہوئیں ۔شکیل الرحمٰن ’’داستان امیر حمزہ اور طلسمِ ہوشربا‘‘کے مطابق نسخۂ نول کشور سے ۱۸۸۷ء میں فارسی سے اُردو میں ترجمہ ہونے والے نسخے کے کئی حصوں کے مترجم شیخ تصدق حسین بھی تھے ۔اس کی چار جلدیں تھیں اوران بزرگوں کی ذہانت کی بنا پر ایک طویل داستان اُردو میں منتقل ہوئی۔عابد رضا بیدار ’’طلسم ہوشربا۔جلد اول‘‘ کے دیباچے میں رقم طراز ہیں’’دفتر پنجم یعنی طلسم ہوشربا خالص ہندوستانی تخلیق ٹھہرتی ہے‘ اور اس لحاظ سے ہندوستان کو اُردو زبان کا ایک نادر تحفہ جس کا پہلا ڈھانچہ سن ستّاون سے قبل رام پور میں میر احمد علی نے کھڑا کیا‘ اور جسے ان کے بعد اگلی پیڑھی کے انبا پرشاد (شاگرد میر احمد علی) نے اور مضبوط کیا اور پھر ان کے بیٹے غلام رضا نے ’سمع‘ کو ’بصر‘ میں ڈھال کے سنی جانے والی داستان کو پڑھی جانے والی کتاب میں ڈھال دیا۔جو چودہ جلدوں میں ’غیر مطبوعہ‘ رضا لائبریری رام پور میں موجود ہے۔‘‘ داستان امیر حمزہ کی یہ ۴۶ جلدیں نایاب تھیں اور ہندو بیرون ہند میں نیز چندار باب ذوق کے ذاتی کتب خانوں میں گم تھیں۔ لیکن ۱۹۸۸ء میں خدا بخش لائبریری پٹنہ نے طلسم ہوشربا کے ۱۰نسخوں کی عکسی طباعت کرائی اور ایک بار پھر طلسم ہوشر با نیز داستان امیر حمزہ نے صاحب علم و فن کو اپنی طرف متوجہ کیا اور ایک بار پھر داستانوں پر کام کرنے کا شوق بڑھا چناں چہ شمس الرحمن فاروقی صاحب نے بے حد ریاضت کے بعد داستان امیر حمزہ کے تمام نسخوں تک رسائی ہی نہیں حاصل کی بل کہ اپنے کتب خانے میں رکھنے کا اعزاز بخشا ۔
غالب لکھنوی کی داستان امیر حمزہ بھی اشک کی طرح شہر مداین کے بادشاہ قباد کامران کے نام سے شروع ہے جو عدالت گستری میں اپنا عدیل نہیں رکھتا۔ بخت جمال نامی حکیم جو علم و حکمت رمال و نجوم کا ماہر ہے ملک القش وزیر شاہ نے اس کی شاگردی اختیار کی اور علم و نجوم میں خواجہ کے برابر ہو گیا۔ جب خواجہ کے ہاتھ خزانہ آیا تو القش نے خواجہ کو قتل کیا اور خزانہ کا مالک بن گیا اور اس طرح داستان کا سلسلہ آگے بڑھا ۔ خواجہ کی وصیت کے مطابق جب خواجہ کی بیوی کو بیٹا پیدا ہوا تو اس کا نام زمر چہر رکھا گیا۔ اس کے گھر میں طاق پر ایک کتاب تھی جس سے اسے اپنے باپ کے قاتل کا نام معلوم ہوا۔ زمر چہر نے جب بادشاہ کو خواب کی تعبیر بتائی اور اس کے سامنے القش کا طلسم بیان کیا تو اس نے القش کو قتل کر دیا۔ بادشاہ قباد کے ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام نوشیرواں رکھا۔ اس نوشیرواں پر ہی پوری داستان امیر حمزہ کے تانے بانے بنے گئے ہیں اور نادیدہ عشق کی کارفرمائیاں مافوق فطری کردار و واقعات قصے کو آگے بڑھانے میں معاون ہوئے ۔ خواجہ زمر چہر عبدالمطلب کو خط لکھ کر زیارت کے لیے مکہ گئے۔ ان کے گھر ایک بیٹا پیدا ہوا جس کے لیے خواجہ نے پیشن گوئی کی کہ اس کے زیر دست کفر کا تنزل اور اسلام کی ترقی ہوگی ۔ یہ وہی لڑکا (امیر حمزہ ) جو شاہان ہفت اقلیم کا خراج لے گا ۔ اسی دن امیّہ ضمیری کے یہاں لڑکا پیدا ہوا، اس کے بارے میں خواجہ نے پیشن گوئی کی کہ یہ شاہان عیاران روز گار ہوگا ۔ یہ دو کردار یعنی امیر حمزہ صاحبقراں اور عمر و عیار نظر کردۂ پیغمبراں ہیں اور داستان امیر حمزہ کے مرکزی کردار ہیں جو تقریباً آخر تک کی داستانوں میں موجود ہیں ۔ ان دونوں کی آمد کے بعد ہی داستان میں رزم خیر و شر عیاریاں جن و پری کے کردار شامل ہوئے ہیں۔ امیر حمزہ کوہ قاف جاتے ہیں پھر کفر و اسلام کی جنگ ہوتی ہے۔ کچھ کو مطیع اسلام کرتے ہیں جو مطیع نہیں ہوتے ان کا خاتمہ کرتے ہیں۔ آخر میں وہ فتح مکہ کے لیے نکلے ۔ آخری جلد تک بعثت رسول ہو چکی ہے۔ جنگ میں حضور کا دانت شہید ہوا حضرت حمزہ بھی شہید ہوئے اس وقت قرینہ (جو کوہ قاف کی پری کے بطن سے ہے ) باپ کا بدلہ لینے آئی حضور ﷺنے اسے روکا اسی وقت سورہ جن نازل ہوئی اورداستان کا اختتام ہوا۔
اُردو ادب میں داستان امیر حمزہ کی طرح طلسم ہوش ربا ہوش اُڑادینے والا جادو ، کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہے ویسے یہ دونوں داستانی سلسلے ایک دوسرے کا حصہ ہیں۔ داستان امیر حمزہ پڑھے بغیر طلسم ہوش ربا کا پورا لطف نہیں آتا اور طلسم ہوش ربا پڑھے بغیر داستان امیر حمزہ کا لطف ادھورا رہ جاتا ہے۔
طلسم ہوش ربا کا داستانی سلسلہ بڑا طویل ہے ۔ یہ داستانیں سات حصوں کی نو جلدوں میں فل سکیپ سائنز کے بارہ ہزار صفحات پر پھیلی ہوئی ہیں۔ کتابی شکل میں انھیں لکھ کے منشی نولکشور نے آج سے تقریبا چالیس سال پہلے شائع پہلے کیا تھا ۔
داستان کے واقعات کا خلاصہ یہ ہے
امیر حمزہ ، ایران اور عرب کے بادشاہ نوشیرواں کے وفادار جنرل ہیں ۔ وہ اس کے لیے فوجی خدمات انجام دیتے ہیں ۔ مگر اپنے وزیر بختک کے بہکائے میں آکر نوشیرواں ان کی قدر نہیں کرتا بل کہ جان کا دشمن ہو جاتا ہے ۔ امیر اس کی غلط فہمیاں دور کرنے کی بے انتہا کوشش کرتے ہیں مگر جب پانی سر سے اونچا ہو جاتا ہے ۔ تو امیر اُسے تخت سے اتار دیتے ہیں اور رعایا اور فوج کے اصرار پر اپنے پوتے قباد شہریار کو اس کی جگہ بادشاہ بنا دیتے ہیں ۔
نوشیرواں مر جاتا ہے۔ اور اس کے بعد اس کا بیٹا فر امرزجلا وطن بادشاہ کی حیثیت سے باپ کا جانشین ہوتا ہے۔ بختک کا بیٹا بختیارک اس کا وزیر بنتا ہے ۔ مختلف بادشاہوں کی مدد سے فرامر ز، امیر حمزہ سے جنگیں کرتا ہے۔ ناکام ہو کہ آخر میں زمرد شاہ باختری ،عرف لقا، کے پاس جا پہنچتا ہے۔ لقا اپنے جادو کی طاقت کی بنا پر خود کو خدا وند کہلاتا ہے ۔ امیر حمزہ اس پر فوج کشی کرتے ہیں ۔ وہ شکست کھا کر طلسم ہزار شکل میں جاکر پناہ لیتا ہے امیر یہاں بھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ وہ ایک سے دوسرے طلسم میں بھاگا بھاگا پھرتا ہے ۔ اور یوں داستان آگے بڑھتی ہے۔
امیر حمزہ
امیر حمزہ داستان کا محور ہیں اور ان کی حیثیت سپہ سالار لشکر اسلام کی ہے۔ان کے پاس نقش سلیمانی کی شکل میں خدائی عطیہ ہے اور اس میں اسمِ اعظم ہے۔اس کی کرامات یہ ہے کہ اس سے کسی ساحر کا سحر لشکر حمزہ پر اثر نہیں کرتا۔
بدیع الزماں
بدیع الزماں کے کردار سے طلسم ہوشربا کا آغاز ہوتا ہے۔یہ امیر حمزہ کے بیٹے ہیں ۔ان کا ردار ایک ضدّی انسان کا کردار ہے اور کسی حد تک غیر فطری ہے۔
اسد غازی
اسد غازی کی حیثیت طلسم ہوشربا میں مرکزی کردار کی ہے۔یہ شہزارے بدیع الزماں کی تلاش کے لیے داخل طلسم ہوشربا ہوتے ہیں۔ یہ امیر حمزہ کی بیٹی ، ملکہ زبیدہ کے بیٹے یعنی امیر حمزہ کے نواسے ہیں۔ان کے ساتھ سات عیار بھی طلسم ہوشربا میں داخل ہو کر مہمات طے کرتے اور شہرازدے کی تلاش کرتے ہیں۔ اسدغازی کے پاس اسم حمزہ اور نقش سلیمانی نہیں ہے اور ان کے بغیر ہی وہ ساحروں کے سحر سے مقابلہ کرتے ہیں۔جس بنا پر وہ کئی مواقوں پر کم زور پڑتے نظر آتے اور ایسی حرکات سرزد کرتے نظر آتے ہیں جو دائرہ ٔاسلام میں گناہ کبیرہ میں شمار ہوتی ہیں۔
ملکہ گردیہ بانو
یہ امیر حمزہ کی زوجہ ہیں جو بیٹے کی بے حد مشفق اور شوہر کی تابعدار ہیں۔یہ ملک اردبیل کی شہزادی ہیں۔
نوالدہر
شہزادہ نور الدہر ،بدیع الزماں کے بیٹے ہیں ۔یہ سمن پر عاشق ہو جاتے ہیں۔
ایرج و قاسم
ایرج اور قاسم نبیرۂ حمزہ ہیں اور بدیع الزماں کے علاوہ نور الدہر کے لیے اسد کی مدد کے لیے طلسم میں داخل ہوتے ہیں۔
غضنفر
غضنفر ،اسد غازی کا بیٹا ہے اور لشکر حمزہ کے ساتھ مل کر ساحروں اور لقا کا مقابلہ کرتا ہے۔یہ ملکہ ماہ طلعت جادو کے عاشق بھی ہیں ، جنھیں عمرو عیار نے مطیع اسلام کرلیا ہے۔
عمرو عیار
طلسم ہوشربا میں عمرو عیار ،ایک لاکھ چورسی ہزار عیاروں میں ایک اہم نام ہے۔ان کے حرکات و سکنات عام انسانوں کی مانند نہیں ہیں کیوں کہ یہ محیر العقول ساحروں کے سحر کا قابو کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں کیوں کہ ان کو پیغمبروں کے تحفے ملے ہوئے ہیں۔
قراں
قراں ،عمرو عیار کا شاگرد ہے اور سارے عیاروں کا افسر ،لشکر عیاران کا خلیفہ اور حضرت امیر المومنین ؑ کا نظر کردہ ہے۔
برق فرنگی
یہ عمرو عیار کے لشکر کا بہت ہی عقل مند ،چست و پھرتیلا عیار ہے۔عمرو عیار جب کسی سحر میں گرفتار ہوتا ہے تو یہ قراںجان سوز اور کبھی ضر غام شیر دل کے ساتھ مل کر عمرو کو آزادی دلانے میں کام یاب ہوتا ہے۔
جان سوز
یہ بھی طلسم ہوشربا میں داخل ہونے والے پانچ عیاروں میں سے ایک اور عمرو کا شاگرد ہے۔
چالاک بن عمرہ
یہ عمرو عیار کا بیٹا ہے اور شہزارے کا ہم سن ہے۔ یہ لشکر لقا میں حلیہ بدل کر گھومتا رہتا ہے اور پل پل کی خبر حمزہ کو پہنچاتا رہتا ہے،لیکن جن بدیع الزماں اور اسد کی خبر نہیں ملتی تو یہ داخل طلسم ہوشربا ہوکر عمرو اور دوسرے عیاروں کی مدد کرتا ہے۔
ضر غام شیر دل
یہ اسد غازی کا عیار ہے جو اپنے آقا کے ساتھ شہزادہ بدیع الزماں کی تلاش میں جاتا ہے۔
سرہنگ،ابولفتح،سمک عیار اور چالاک بن عمرو کے لیے بھی داستان نویس نے نئے بیکر تراشے ہیں اور تمام کرداروں کو نئے اور اچھوتے بھیسوں میں پیش کیا ہے کہ عمرو کے روپ میں یہ ایک دوسرے کی مدد اور چالاکیاں کرتے نظر آتے ہیں۔
ملکہ تصویر جادو
یہ وہ ساحرہ ہے جس کے باعث طلسم کی ابتدا ہوئی اور اس نے شہزادہ بدیع الزماں کو طلسم ہوشربا میں داخل ہونے پر ان کو قید کیا۔
ملکہ مہ جبین
اسد غازی طسم ہوشربا میں داخل ہوتے ہی اس پر فریفتہ ہو گئے۔یہ افراسیاب جادو کی بھانجی ہے۔
ملکہ مہر خ سحر چشم
یہ ملکہ مہ جبین کی نانی ہے۔اس نے اسد غازی کی اطاعت قبول کی اور افراسیاب سے جنگ لڑنے کو لشکر تیار کیا۔یہ بدیع الزماں کی آزادی کی جنگ تھی۔
ملکہ بہار جادو
یہ نہایت طاقت ور ساحرہ ہے جو اسد غای کے ساتھ شریک ہوئی۔ یہ ملکہ حیرت جادو کی بہن اور افراسیاب جادو کی منظور نظر ہے۔
سر خمو کاکل کشا
یہ ملکہ مہرخ کے بعد دوسری ساحرہ ہے جو داخل اسلام ہوئی اور سپہ سالار فوج کے طور پر افرا سیاب کی فوج کے خلاف اپنی طلسمی طاقت کا استعمال کیا۔
مخمور سرخ چشم
یہ افراسیاب کی خطرناک ساحرہ ہے لیکن لشکر مہرخ میں شامل ہوکر اس کے خلاف لڑتی ہے۔
معمار قدرت جادو
یہ طلسم قدرت کا نہایت طاقتور جادوگر ہے مگر مطیع السلام ہوکر کوکب روشن ضمیر سے ٹکر ہے اور ملکہ مہرخ سحر چشم کی حفاظت کرتا ہے۔
نافرمان جادو
یہ ملکہ ، افراسیاب کی ایک طاقت ور ساحرہ ہے لیکن ملکہ مہر خ کے لشکر میں شریک ہو جاتی ہے اور اسد اور مہرخ کے لیے جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتی۔
برق محشر و رعد جادو
یہ ماں بیٹے ہیں اور خطرناک جادو ہیں۔طلسم کی سات بجلیوں میں سے ایک بجلی برق محشر ہے جو غنیم کی فوج کو تحس نحس کر دیتی ہے۔
ملکہ برّاں دختر شاہ کوکب روشن ضمیر مالک طلسم نور افشاں
طلسم ہوشربا کی سرحد سے ملا ہوا طلسم نور افشاں ہے جہاں کا بادشاہ کوکب روشن ضمیر اور ساحر نور افشاں جادو کی عمل داری ہے۔یہ ملازم افراسیاب جادو ہے،لیکن ریاضت سے اس نے اپنی جادوئی طاقت افراسیاب سے بھی کئی گنا زیادہ بڑھا لی ہے۔ یہ ایک بڑی طاقت ہے اس لیے اس کو ملکہ برّاں جو کہ کوکب روشن ضمیر کی بیٹی ہے ،کو لشکر مہرخ میں عشق کے سحر کی بنا پر شامل کیا جاتا ہے اور کاکب روشن ضمیر کو شکست ماننا بڑتی ہے۔
کوکب روشن ضمیر
یہ طلسم نور افشاں کا بادشاہ ہے۔اس کے پاس بے پناہ قوت سحر ہے۔اس کی بیٹی شہزادہ ایرج سے عشق کرکے اس سے شکست تسلیم کرواتی ہے۔
برہمن روئیں تن نور افشاں صف شکن
یہ دونوں ساکنان طلسم نور افشاں اور زبردست ساحر ہیں۔یہ کوکب روشن ضمیر کے ساتھی ہیں۔اسد انھیں کی وجہ سے طلسم شکنی میں کام یاب ہوا۔
مجلس جادو
یہ لشکر مہرخ کی اہم ساحرہ اور شاہ کوکب کی بھتیجی ہے۔یہ نہایت حسین وجمیل ہے۔
ملکہ ماہ طلعت جادو
یہ طلسم ہوشربا کی غضب ناک ساحرہ ہے جو غضنفر کے عشق میں مبتلا ہوکر مطیع اسلام ہوئی۔
افرا سیاب
یہ طلسم ہوشربا کا بادشاہ ہے ۔اس کا کردار فردوسی کے شاہنامہ سے مستعار ہے۔اس کا ایک عقل مند وزیر تھا جس کا نام پیران واعظ تھا۔اس کی بیگم ملکہ حیرت جادو ہے اور طلسم ہوشربا میں اس کے عقل مندانہ مشورے سے فیصلے ہوتے ہیں۔افراسیاب ایک غاصب اور ظالم بادشاہ ہے۔
ملکہ حیرت جادو
ملکہ حیرت ،افراسیاب کی بیوی ہے۔طلسم ہوشربا پر حکومت اسی کی چلتی ہے ۔یہ ہر مصیبت سے افراسیاب کو بچاتی ہے۔
زمرد شاہ باختری لقا
یہ کوہ عقیق کا بادشاہ ہے اور خدائی کا دعویٰ کرتا ہے۔تمام ساحر اس کے مطیع ہیں۔اس کے خدائی دعوے کی بنا پر جنگ کا اور داستان کا آغاز ہوتا ہے۔
شیطان بختیارک
یہ ہما وقت لقا کو حمزہ سے جنگ پر اکساتا ہے ۔نہایت بزدل ہے اور گرفتار ہونے پر خوشامد پر اُتر آتا ہے۔
عیار بچیاں
عیاروں سے مقابلہ کرنے کے لیے بانچ عیار بچیایوں، صر صر شمشیر زن، صبا رفتار، شمیمہ، نقب زن، تیز نگاہ خنجر زن، غزالہ کمند انداز، کے کردار تخلیق کیے گئے ہیں، جو مختلف اوقات میں مختلف عیاروں سے مقابلہ زن دکھائی دیتی ہیں۔ان کے کردار عیاروں کے مقابلے میں کم زور ہیں۔
باغبان قدرت
یہ وزیر افراسیاب ہے ،بے حد طاقت ور ہے اور لشکر مہرخ کے تمام سرداروں کو قید کرلیتا ہے۔
اختر جادو
یہ ہوشربا کی جلد ہفتم کا طاقت ور ساحر ہے جس کے نام ست عمرو عیار بھی خوف زدہ ہیں۔
برق بلا افگن و مصور جادو
یہ سات بجلیوں میں سے ایک ، افراسیاب کی جانب سے لشکر کی حفاظت کرتا ہے۔
داؤد جادو
یہ مصور جادو کا بھائی ہے۔اسی نے خداوند سامری کی کتاب سامری ترتیب و تدوین کی ہے اسی لیے یہ بھی خدائی کا دعویٰ کرتا ہے۔ عمرو عیار اس کو مطیع اسلام کرلیتا ہے۔
ملکہ لالا ن خون قبا
یہ دختر خداوند داؤد ہے اور بے حد طاقت ور ہے لیکن اسد کے جال میں پھنس جاتی ہے۔
نیرنگ جادو
نیرنگ ،کوہ نیرنگ کی مالک اور طلسم ہوشربا کی طاقت ور ساحرہ ہے۔افراسیاب اس سے مدد لیتا ہے۔
صندل جادو
اس کے پاس لوح طلسمی ہے جس سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ بلاؤں کو کیسے اور کیوں کر مارا جا سکتا ہے۔
مشعل جادو
یہ حجرۂ ہفت بلا کی پہلی بلا ہے،اس لیے اسے ختم کرنا بہت ضروری مگر دشوار کام ہے۔اس کی غذا انسان ہیں۔
ملکہ تاریک شکل کش
یہ دوسری بلا ہے جو پہلی سے بھی زیادہ خطر ناک ہے۔اسے انسانوں کا خون چاہیے۔ان دونوں کو عمرو چالاکی سے موت کے گھاٹ اُتارتا ہے۔
طلسم ہوشربا ،دستان امیر حمزہ کا وہ باب ہے جس کی تصنیف لکھنو میں ہوئی اور اس وقت شاہان اودھ کا آفتاب غروب ہو چکا تھا۔ ۱۸۵۷ء کی بغاوت کے بعد اودھ کی ریاست کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ پہلی بار طلسم ہوشربا ۱۸۸۱ء میں تحریر ہوئی اور یہ سلسلہ ۱۸۹۳ء تک جاری رہا۔۱۹۱۰ء سے ۱۹۱۷ء تک اس کے دوسرے ،تیسرے ایڈیشن شایع ہوتے رہے۔
داستان امیر حمزہ کی ۴۶ جلدوں میں طلسم ہوشربا کی سات جلدیں خاص اہمیت کی حامل ہیں جن کے مصنف احمد حسین قمر اور محمد حسین جاہ ہیں ۔ اس کی حیثیت یوں بھی خاص ہے کہ یہ داستان لکھنوی اور دلی کی تہذیب کا آئینہ ہے۔
داستانِ امیر حمزہ بالخصوص طلسمِ ہوشربا محض سحر و طلسم کی دنیا نہیں بل کہ اس میں لکھنوی اور اودھی تہذیب کی بھرپور سماجی و ثقافتی تصویریں بھی منعکس ہوتی ہیں۔ سرداروں کے دربار، زنان خانوں کی چہل پہل، جنگی مناظر اور دیہی بستیوں کی سادہ زندگی سب مل کر اس عہد کے سماج کا آئینہ بن جاتے ہیں۔ تہواروں، شادی بیاہ، میلوں ٹھیلوں اور شاہانہ جشنوں کی منظرکشی میں وہی شان و شوکت نظر آتی ہے جو تاریخِ اودھ اور لکھنو کی مستند کتابیات میں ملتی ہے۔
طلسم ہوشربا میں ہندو تہذیب، مذہبی رسوم، پنڈتوں کی اہمیت، مہورت، توہمات اور دقیانوس اعتقادات اس دور کے سماجی رویّوں کی عکاسی کرتے ہیں، جب کہ کھان پان، لباس، تفریحات اور دسترخوان کی رنگا رنگی اودھی ثقافت کا خاص وصف بن کر ابھرتی ہے۔
اسی طرح داستان کی فارسی آمیز، مسجع و مرصع زبان، لکھنوی بیگماتی محاورہ اور روزمرہ کی بول چال نہ صرف اس عہد کی لسانی فضا کو نمایاں کرتی ہے بل کہ داستان کو تہذیبی تاریخ کا ایک زندہ دستاویز بھی بنا دیتی ہے، جس میں عیش و عشرت، مذہبی رنگ، سماجی تضادات اور جمالیاتی ذوق سب یکجا ہو جاتے ہیں۔