دیباچۂ غرۃ الکمال ۔امیر خسرو: ایک تنقیدی و فکری مطالعہ

برصغیر کی فکری، ادبی اور تہذیبی تاریخ میں امیر خسرو کا نام ایک ایسے ہمہ جہت نابغے کے طور پر ثبت ہے جس نے شاعری، نثر، موسیقی اور لسانیات ہر میدان میں اپنی انفرادیت کا لوہا منوایا۔ ان کے تیسرے دیوان غرة الکمال کا فارسی دیباچہ محض ایک مجموعۂ کلام کا مقدمہ نہیں بل کہ فنِ شاعری، شعری تنقید اور لسانی شعور کا ایک مربوط اور باقاعدہ دستور ہے۔ اس دیباچے میں امیر خسرو نے ادب کے بنیادی سوالات پر جس آزادیِ فکر، خود اعتمادی اور تہذیبی شعور کے ساتھ اظہارِ خیال کیا ہے، وہ انہیں اپنے عہد ہی نہیں بل کہ آنے والی صدیوں کے مفکرین میں ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔

اس اہم دیباچے کو اُردو قالب میں منتقل کرنے کا فریضہ پروفیسر لطیف اللہ نے انجام دیا۔ ان کے نزدیک یہ دیباچہ امیر خسرو کی نثری تصانیف میں ایک خاص امتیازی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے کہ اس میں پہلی مرتبہ برصغیر کے ایک صاحبِ طرز ادیب نے ادب، شاعری اور زبان کے اصولی مباحث پر بے تکلف اور خود مختار انداز میں گفتگو کی۔ مترجم کو اس امر کا بھی احساس تھا کہ فارسی خوان طبقے کی کثرت کے باوجود اس دیباچے کی ادبی و تنقیدی معنویت پر سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی۔ حتیٰ کہ شبلی نعمانی جیسے جلیل القدر نقاد نے بھی اسے زیادہ تر سوانحی حوالے سے دیکھا اور اس کے فکری و تنقیدی پہلو تشنہ ہی رہے۔

بعد کے عہد میں اس دیباچے کی قدر و قیمت کا احساس مزید گہرا ہوا۔ شمس الرحمن فاروقی کے بیان کے مطابق محمد حسن عسکری اپنے خطوط میں اس دیباچے کو سبکِ ہندی کی شعریات کے لیے بنیادی متن قرار دیتے رہے۔ اس فکری تسلسل نے اس ترجمے کی ضرورت کو دوچند کر دیا، تاکہ ُاردو داں طبقہ شعری نظریات کی اس نادر دستاویز سے محروم نہ رہے۔

پروفیسر لطیف اللہ نے اس ترجمے کی تکمیل کے لیے امیر خسرو کی اصل نثری تصانیف، دیباچے کے معتبر نسخے، اعجازِ خسروی اور خزائن الفتوح جیسے مآخذ سے بھرپور استفادہ کیا۔ معاون تنقیدی کتب اور اہلِ علم سے مشاورت نے اس ترجمے کو علمی دیانت اور لسانی صحت عطا کی، خاص طور پر عربی اشعار اور مشکل فارسی عبارات کے حل میں یہ معاونت نہایت کارگر ثابت ہوئی۔

فکری اعتبار سے امیر خسرو کے اس دیباچے کی اساس شاعری میں روانی کے تصور پر قائم ہے۔ ان کے نزدیک بہترین شعر وہ ہے جس میں پانی جیسا بہاؤ اور آگ جیسی حرارت یکجا ہو۔ یہی وصف کلام کو زندگی، تاثیر اور دوام عطا کرتا ہے۔ وہ شاعری کو موسیقی کا محتاج نہیں سمجھتے اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ شعر کی اصل جمالیات اس کے معنی، تاثیر اور فکری گہرائی میں مضمر ہوتی ہیں، اگرچہ نغمگی اس حسن کو مزید نکھار سکتی ہے۔

نظم اور نثر کے فرق پر گفتگو کرتے ہوئے خسرو نظم کو ایک منضبط، موزوں اور مربوط اکائی قرار دیتے ہیں، جب کہ نثر ان کے نزدیک ایک آزاد رفتار وجود رکھتی ہے جو قیودِ وزن و بحر سے ماورا ہوتی ہے۔ نظم میں ہر لفظ ایک طے شدہ نظام کے تحت جڑا ہوتا ہے، اس لیے وہ اسے نثر کے مقابلے میں زیادہ دقیق اور اعلیٰ فن تصور کرتے ہیں۔

شاعری کے دفاع میں امیر خسرو اسے محض لفظی صناعی نہیں سمجھتے ،وہ اسےحکمت اور دانائی کا مظہر قرار دیتے ہیں۔ قرآنی اور حدیثی حوالوں سے وہ یہ موقف پیش کرتے ہیں کہ بعض اشعار علم و بصیرت کا سرچشمہ ہوتے ہیں اور شعر کا رشتہ بالآخر کلامِ الٰہی سے جا ملتا ہے۔ ان کے نزدیک شاعری انسانی شعور، تہذیبی اقدار اور فکری روایت کے تحفظ کا ذریعہ ہے۔

دیباچے کا ایک نہایت اہم پہلو لسانی خود اعتمادی اور اہلِ ہند کی علمی برتری کا اظہار ہے۔ امیر خسرو اس تصور کو رد کرتے ہیں کہ فصیح فارسی صرف اہلِ ایران کا خاصہ ہے۔ ان کے نزدیک دہلی اور ہندوستان کے اہلِ قلم عربی، فارسی، ترکی اور ہندی جیسی زبانوں پر یکساں قدرت رکھنے کی وجہ سے اظہار میں زیادہ وسعت، لطافت اور معنوی گہرائی رکھتے ہیں۔ اسی تناظر میں وہ دہلی کو نیک طبع لوگوں کا مرکز قرار دیتے ہیں اور اس کی ادبی فضیلت کو نمایاں کرتے ہیں۔

صنعت گری کے باب میں خسرو نے ایہام کو غیر معمولی اہمیت دی اور اسے ایہامِ ذوالوجوہ کا نام دیا، جس کے ذریعے شعر میں معانی کی متعدد سطحیں پیدا ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ وہ شاعری کی مختلف کیفیات بھی بیان کرتے ہیں: وہ کلام جو محض لفظی صناعت تک محدود ہو، وہ جو توازن اور اعتدال رکھتا ہو، وہ جو سادگی اور روانی کے سبب عام فہم ہو، اور وہ جو سوز و گداز سے دلوں میں حرارت پیدا کر دے۔

استادی اور شاگردی کے اصول بھی اس دیباچے کا اہم حصہ ہیں۔ خسرو کے نزدیک کامل استاد وہ ہے جو صاحبِ طرز ہو، اس کا کلام شیریں اور صاف ہو، فنی اغلاط سے محفوظ ہو اور دوسروں کے کلام کی پیوند کاری سے اجتناب کرے۔ شاگردوں کے بارے میں وہ فہم و ادراک کی بنیاد پر مختلف مدارج بیان کرتے ہیں اور علمی دیانت کو بنیادی شرط ٹھہراتے ہیں۔

الغرض، امیر خسرو کا یہ دیباچہ فارسی اور ہند-ایرانی شعریات کا ایک جامع اور مستند فکری منشور ہے۔ اس میں شاعری کو ایک مقدس اور بامقصد علم کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کا نصب العین انسانی جذبات کی سچی ترجمانی، فکری بالیدگی اور تہذیبی تسلسل کا تحفظ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دیباچہ آج بھی ادبی تنقید، لسانیات اور تخلیقی شعور کے طالب علموں کے لیے ایک زندہ اور رہنما متن کی حیثیت رکھتا ہے۔

چہ غرۃ الکمال دیوان امیر خسرو دیبا

دیباچہ غرۃ الکمال دیوان۔امیر خسرو

صفحہ:
Scroll to Top