داستان امیر حمزہ اور طلسم ہوش ربا کا تعارف ،تجزیہ ،کہانی اور کرداروں کا مطالعہ
داستانِ امیر حمزہ اردو ادب کی عظیم اور کلاسیکی داستانوں میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ داستانِ امیر حمزہ کا سب سے مشہور اور مقبول حصہ طلسمِ
پریم چند کے ہاں افسانے کا مرکزی کردار اکثر وہی ہوتا ہے جو زندگی کی مشکلات سے دوچار ہے، چاہے وہ کسان ہو، مزدور، عورت یا بچہ۔ وہ سماج کے ہر اس طبقے کے ترجمان ہیں جو ہمیشہ پس منظر میں رہا جس کی وجہ سے ان کے افسانے عوامی ادب میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ ان کی کہانیوں میں پلاٹ کی سادگی کے باوجود ایک گہری معنویت پائی جاتی ہے۔ وہ کسی فلسفے یا مصنوعی پیچیدگی کے قائل نہیں تھے بل کہ انسانی تجربات کی سچائی پر یقین رکھتے تھے۔عورت ان کے افسانوں کا نمایاں اور اہم کردار ہے جس کے لیے پریم چند کے ہاں گہری معنویت اور معاشرتی روایات کے خلاف بغاوت بھی نظر آتی ہے۔بقول پریم گوپال متّل
یہ حقیقت ہے کہ پریم چند نے اردو افسانے کی جو بنیاد ڈالی تھی آگے چل کہ اس پر اردو فِکشن کی ایک شان دار اور جان دارا مارت تعمیر ہوئی۔ آج اُردو افسانہ جس مقام پر ہے اس کا تمام تر سہرا پریم چند کے سر ہے۔ پریم چند کو ایک اور خصوصیت حاصل ہوئی جو بہت کمر ادیبوں کے حصے میں آئی ہے کہ انھیں بہ یک وقت ملک کی دو بڑی زبانوں یعنی اُردو اور ہندی نے اپنا اپنا ادیب تسلیم کیا اور اس طرح وہ نہ صرف جدید اُردو افسانے بل کہ جدید ہندی افسانے کے بانی بھی مانے گئے۔ ہندی میں پریم چند پر اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ شاید اب مزید کوئی نئی بات کہنے کی گنجائش نہ رہی ہو لیکن ہماری زبان اُردو میں ابھی اس طرح کی کاوشوں کی بہت گنجائش ہے۔ ہندی میں پریم چند کی جملہ تصانیف ناول افسانے بہ آسانی دستیاب ہیں جب کہ اُردو اس کی منتظر ہے۔
داستانِ امیر حمزہ اردو ادب کی عظیم اور کلاسیکی داستانوں میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ داستانِ امیر حمزہ کا سب سے مشہور اور مقبول حصہ طلسمِ
باغ و بہار‘‘ اردو کلاسیکی نثر کا ایک شاہکار ہے، جس کا خلاصہ، تنقیدی جائزہ اور کردار نگاری آج بھی ادب کے طلبا اور محققین کے لیے
مرزا اسداللہ خان غالب (پ: ۱۷۹۶ء، آگرہ) اردو اور فارسی کے اُن نابغۂ روزگار اہلِ قلم میں سے ہیں جنھوں نے برِّصغیر کی فکری و ادبی روایت
’’قطب مشتری‘‘ محمد قلی قطب شاہ اور مشتری کے عشق کی داستان ہے اور اسی مناسبت سے اس کا نام ’’قطب مشتری‘‘ رکھا گیا ہے۔ یہ ’’مشتری‘‘
شیخ امام بخش، جنھیں دنیائے ادب میں ناسخؔ کے تخلص سے شہرت حاصل ہوئی، اردو شاعری کے ان درخشاں ستاروں میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے لکھنؤ
ان کا اصل نام شیخ غلام ہمدانی اور تخلص مصحفی ؔتھا۔ وہ ۱۷۵۰ء میں ضلع مرادآباد کے نواحی علاقے امروہہ (بعض روایات میں امرودہ) کے ایک معزز
ذوقِ ادب ایک آن لائن ادبی دنیا ہے جہاں اردو کے دلدادہ افراد کو نثر و نظم کی مختلف اصناف، کلاسیکی و جدید ادب، تنقید، تحقیق، اور تخلیقی تحریریں پڑھنے اور لکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد اردو زبان و ادب کے فروغ، نئی نسل میں مطالعہ کا ذوق بیدار کرنے اور قاری و قلم کار کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنا ہے۔
+923214621836
lorelsara0@gmail.com