خواجہ حیدر علی آتشؔ کی شعری خصوصیات اور کلیات
خواجہ حیدر علی، جنھیں دنیائے ادب میں آتش ؔکے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اردو شاعری کے اُن باکمال فنکاروں میں سے ہیں جنھوں نے دبستانِ
پریم چند کے ہاں افسانے کا مرکزی کردار اکثر وہی ہوتا ہے جو زندگی کی مشکلات سے دوچار ہے، چاہے وہ کسان ہو، مزدور، عورت یا بچہ۔ وہ سماج کے ہر اس طبقے کے ترجمان ہیں جو ہمیشہ پس منظر میں رہا جس کی وجہ سے ان کے افسانے عوامی ادب میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ ان کی کہانیوں میں پلاٹ کی سادگی کے باوجود ایک گہری معنویت پائی جاتی ہے۔ وہ کسی فلسفے یا مصنوعی پیچیدگی کے قائل نہیں تھے بل کہ انسانی تجربات کی سچائی پر یقین رکھتے تھے۔عورت ان کے افسانوں کا نمایاں اور اہم کردار ہے جس کے لیے پریم چند کے ہاں گہری معنویت اور معاشرتی روایات کے خلاف بغاوت بھی نظر آتی ہے۔بقول پریم گوپال متّل
یہ حقیقت ہے کہ پریم چند نے اردو افسانے کی جو بنیاد ڈالی تھی آگے چل کہ اس پر اردو فِکشن کی ایک شان دار اور جان دارا مارت تعمیر ہوئی۔ آج اُردو افسانہ جس مقام پر ہے اس کا تمام تر سہرا پریم چند کے سر ہے۔ پریم چند کو ایک اور خصوصیت حاصل ہوئی جو بہت کمر ادیبوں کے حصے میں آئی ہے کہ انھیں بہ یک وقت ملک کی دو بڑی زبانوں یعنی اُردو اور ہندی نے اپنا اپنا ادیب تسلیم کیا اور اس طرح وہ نہ صرف جدید اُردو افسانے بل کہ جدید ہندی افسانے کے بانی بھی مانے گئے۔ ہندی میں پریم چند پر اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ شاید اب مزید کوئی نئی بات کہنے کی گنجائش نہ رہی ہو لیکن ہماری زبان اُردو میں ابھی اس طرح کی کاوشوں کی بہت گنجائش ہے۔ ہندی میں پریم چند کی جملہ تصانیف ناول افسانے بہ آسانی دستیاب ہیں جب کہ اُردو اس کی منتظر ہے۔
خواجہ حیدر علی، جنھیں دنیائے ادب میں آتش ؔکے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اردو شاعری کے اُن باکمال فنکاروں میں سے ہیں جنھوں نے دبستانِ
انشا تخلص سید انشا اللہ خا ں نام تھا اور سید حکیم میر ماشا اللہ خاں کے فرزند تھے ۔ ان کا خاندان سلطنت مغلیہ کے زوال
اردو ادب کے کلاسیکی شعرا میں میر غلام حسن جن کا تخلص حسنؔ تھا، ایک نمایاں اور منفرد مقام رکھتے ہیں۔ان کی سب سے مشہور مثنوی “سحرالبیان”
آنند نرائن ملا ۱۹۰۱ءمیں لکھنؤ کے ایک معزز کشمیری برہمن گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جسٹس جگت نرائن ملا لکھنؤ کے ممتاز وکیل اور بااثر
دردؔ ۱۷۲۰ءمیں دہلی میں پیدا ہوئے۔انھوں نے اپنے دور کی روحانی فضا کو اپنی شاعری میں سمویا اور غزل کی لطافتوں کو روحانی واردات کا آئینہ بنایا۔
مثنوی ’’پھول بن‘‘کو ابن نشاطی نے سلامت اور سادگی کے ساتھ ساتھ صناعی کا عمدہ نمونہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس نظم میں انشا پر
ذوقِ ادب ایک آن لائن ادبی دنیا ہے جہاں اردو کے دلدادہ افراد کو نثر و نظم کی مختلف اصناف، کلاسیکی و جدید ادب، تنقید، تحقیق، اور تخلیقی تحریریں پڑھنے اور لکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد اردو زبان و ادب کے فروغ، نئی نسل میں مطالعہ کا ذوق بیدار کرنے اور قاری و قلم کار کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنا ہے۔
+923214621836
lorelsara0@gmail.com