میر تقی میر کی غزل اور حالات زندگی
میر کے حالات یقیناً درد انگیز تھے اور ان کا ماحول یاس انگیز تھا۔ وہ رقیق القلب بھی تھے اور ان کی طبیعت میں انفعال کی کیفیت
پریم چند کے ہاں افسانے کا مرکزی کردار اکثر وہی ہوتا ہے جو زندگی کی مشکلات سے دوچار ہے، چاہے وہ کسان ہو، مزدور، عورت یا بچہ۔ وہ سماج کے ہر اس طبقے کے ترجمان ہیں جو ہمیشہ پس منظر میں رہا جس کی وجہ سے ان کے افسانے عوامی ادب میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ ان کی کہانیوں میں پلاٹ کی سادگی کے باوجود ایک گہری معنویت پائی جاتی ہے۔ وہ کسی فلسفے یا مصنوعی پیچیدگی کے قائل نہیں تھے بل کہ انسانی تجربات کی سچائی پر یقین رکھتے تھے۔عورت ان کے افسانوں کا نمایاں اور اہم کردار ہے جس کے لیے پریم چند کے ہاں گہری معنویت اور معاشرتی روایات کے خلاف بغاوت بھی نظر آتی ہے۔بقول پریم گوپال متّل
یہ حقیقت ہے کہ پریم چند نے اردو افسانے کی جو بنیاد ڈالی تھی آگے چل کہ اس پر اردو فِکشن کی ایک شان دار اور جان دارا مارت تعمیر ہوئی۔ آج اُردو افسانہ جس مقام پر ہے اس کا تمام تر سہرا پریم چند کے سر ہے۔ پریم چند کو ایک اور خصوصیت حاصل ہوئی جو بہت کمر ادیبوں کے حصے میں آئی ہے کہ انھیں بہ یک وقت ملک کی دو بڑی زبانوں یعنی اُردو اور ہندی نے اپنا اپنا ادیب تسلیم کیا اور اس طرح وہ نہ صرف جدید اُردو افسانے بل کہ جدید ہندی افسانے کے بانی بھی مانے گئے۔ ہندی میں پریم چند پر اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ شاید اب مزید کوئی نئی بات کہنے کی گنجائش نہ رہی ہو لیکن ہماری زبان اُردو میں ابھی اس طرح کی کاوشوں کی بہت گنجائش ہے۔ ہندی میں پریم چند کی جملہ تصانیف ناول افسانے بہ آسانی دستیاب ہیں جب کہ اُردو اس کی منتظر ہے۔
میر کے حالات یقیناً درد انگیز تھے اور ان کا ماحول یاس انگیز تھا۔ وہ رقیق القلب بھی تھے اور ان کی طبیعت میں انفعال کی کیفیت
پریم چند کے ناول ہندوستانی سماج کی روح کی عکاسی کرتے ہیں۔ وہ زندگی کو محض کہانی کے پیرائے میں نہیں، بل کہ ایک سچائی کی صورت
پریم چند کے ہاں افسانے کا مرکزی کردار اکثر وہی ہوتا ہے جو زندگی کی مشکلات سے دوچار ہے، چاہے وہ کسان ہو، مزدور، عورت یا بچہ۔
پریم چند کے افسانے اُن کے وسیع مشاہدے اور گہرے نفسیاتی مطالعے کے سبب فطرت انسانی کے بہترین مرقعے بن گئے ہیں۔ ان کے افسانوں میں
تنقیدی نقطہ نظر سے پریم چند کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اردو افسانے کو محض رومان و جذبات کی تخیلاتی فضا سے
تو تا کہانی سید حیدر بخش حیدری کی تیسری تصنیف ہے جو انھوں نے فورٹ ولیم کالج میں تحریر کی تھی۔ حیدری نے جان گلکرسٹ کی فرمائش
ذوقِ ادب ایک آن لائن ادبی دنیا ہے جہاں اردو کے دلدادہ افراد کو نثر و نظم کی مختلف اصناف، کلاسیکی و جدید ادب، تنقید، تحقیق، اور تخلیقی تحریریں پڑھنے اور لکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد اردو زبان و ادب کے فروغ، نئی نسل میں مطالعہ کا ذوق بیدار کرنے اور قاری و قلم کار کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنا ہے۔
+923214621836
lorelsara0@gmail.com