سید حیدر بخش حیدری کا تعارف اور توتا کہانی
سید حیدر بخش حیدری کی پیدائش کے متعلق تاریخ میں کوئی ثبوت نہیں ملتے ہیں تاہم انھوں نے ۱۸۳۳ھ کو وفات پائی۔ تو تا کہانی سید حیدر
پریم چند کے ہاں افسانے کا مرکزی کردار اکثر وہی ہوتا ہے جو زندگی کی مشکلات سے دوچار ہے، چاہے وہ کسان ہو، مزدور، عورت یا بچہ۔ وہ سماج کے ہر اس طبقے کے ترجمان ہیں جو ہمیشہ پس منظر میں رہا جس کی وجہ سے ان کے افسانے عوامی ادب میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ ان کی کہانیوں میں پلاٹ کی سادگی کے باوجود ایک گہری معنویت پائی جاتی ہے۔ وہ کسی فلسفے یا مصنوعی پیچیدگی کے قائل نہیں تھے بل کہ انسانی تجربات کی سچائی پر یقین رکھتے تھے۔عورت ان کے افسانوں کا نمایاں اور اہم کردار ہے جس کے لیے پریم چند کے ہاں گہری معنویت اور معاشرتی روایات کے خلاف بغاوت بھی نظر آتی ہے۔بقول پریم گوپال متّل
یہ حقیقت ہے کہ پریم چند نے اردو افسانے کی جو بنیاد ڈالی تھی آگے چل کہ اس پر اردو فِکشن کی ایک شان دار اور جان دارا مارت تعمیر ہوئی۔ آج اُردو افسانہ جس مقام پر ہے اس کا تمام تر سہرا پریم چند کے سر ہے۔ پریم چند کو ایک اور خصوصیت حاصل ہوئی جو بہت کمر ادیبوں کے حصے میں آئی ہے کہ انھیں بہ یک وقت ملک کی دو بڑی زبانوں یعنی اُردو اور ہندی نے اپنا اپنا ادیب تسلیم کیا اور اس طرح وہ نہ صرف جدید اُردو افسانے بل کہ جدید ہندی افسانے کے بانی بھی مانے گئے۔ ہندی میں پریم چند پر اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ شاید اب مزید کوئی نئی بات کہنے کی گنجائش نہ رہی ہو لیکن ہماری زبان اُردو میں ابھی اس طرح کی کاوشوں کی بہت گنجائش ہے۔ ہندی میں پریم چند کی جملہ تصانیف ناول افسانے بہ آسانی دستیاب ہیں جب کہ اُردو اس کی منتظر ہے۔
سید حیدر بخش حیدری کی پیدائش کے متعلق تاریخ میں کوئی ثبوت نہیں ملتے ہیں تاہم انھوں نے ۱۸۳۳ھ کو وفات پائی۔ تو تا کہانی سید حیدر
احمد ہمیش کو پاکستان میں نثری نظم کا پہلا شاعر تصور کیا جاتا ہے۔ احمد ہمیش نے ۱۹۶۰ءمیں ہندی شاعری کے زیر اثر اردو میں نثری نظم
معروف افسانہ نگار، شاعر اور مترجم اسد محمد خان ۲۶ستمبر ۱۹۳۲ءکو بھوپال (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۵۰ءمیں وہ ہجرت کر کے پاکستان آئے اور مستقل طور
اُردو زبان کے سب سے پہلے برے شاعر ولیؔ کی شخصیت کے بعض پہلو ایسے ہیں جن پر محققین مختلف رائیں رکھتے ہیں لیکن یہ اختلافات ولی
سودا کے اجداد بخارا سے ہندوستان آئے اور دہلی میں سکونت اختیار کی۔مولانا محمد حسین آزاد نے’’ آبِ حیات‘‘ میں ان کے اجداد کا پیشہ سپہ گری
کلیات ولی دکنی نور الحسن ہاشمی کا مرتبہ مستند اوربا اعتماد کلیات ہے جس میں ولی دکنی کا تمام کلام جلوہ آراء ہے
ذوقِ ادب ایک آن لائن ادبی دنیا ہے جہاں اردو کے دلدادہ افراد کو نثر و نظم کی مختلف اصناف، کلاسیکی و جدید ادب، تنقید، تحقیق، اور تخلیقی تحریریں پڑھنے اور لکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد اردو زبان و ادب کے فروغ، نئی نسل میں مطالعہ کا ذوق بیدار کرنے اور قاری و قلم کار کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنا ہے۔
+923214621836
lorelsara0@gmail.com