غلام ہمدانی مصحفی کا تعارف، تصانیف اور شعری خصوصیات

اردو زبان و ادب کی تاریخ میں شیخ غلام ہمدانی مصحفی کا نام ان شخصیات میں شمار ہوتا ہے جنھوں نے نہ صرف کلاسیکی شعری روایت کو جِلا بخشی بل کہ اپنے فکری اور ادبی ورثے سے آنے والی نسلوں پر بھی گہرا اثر ڈالا۔
ان کا اصل نام شیخ غلام ہمدانی اور تخلص مصحفی ؔتھا۔ وہ ۱۷۵۰ء میں ضلع مرادآباد کے نواحی علاقے امروہہ (بعض روایات میں امرودہ) کے ایک معزز اور علم دوست خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شیخ ولی محمد ایک نیک سیرت اور صاحبِ علم شخصیت تھے جن کے زیرِ سایہ مصحفی نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔

مصحفی نے اوائلِ جوانی میں ہی امروہہ سے دہلی کا رخ کیا، جہاں اس زمانے میں علمی و ادبی سرگرمیوں کا مرکز آباد تھا۔ دہلی پہنچ کر وہ تحصیلِ علم میں مشغول ہوئے اور جلد ہی عربی و فارسی زبانوں پر گہری دست گاہ حاصل کر لی۔ کتب بینی ان کا محبوب مشغلہ تھا، اور مطالعے کے اسی ذوق نے انھیں شاعری کے اسرار و رموز سے روشناس کیا۔ ان کا علمی افق وسیع اور ذوقِ مطالعہ نہایت عمیق تھا، چناں چہ انھوں نے نظم و نثر کی بیش تر کلاسیکی تصانیف کا بغور مطالعہ کیا، جس کے اثرات ان کے شعری اسلوب میں جا بجا نمایاں ہیں۔

جب دہلی کی علمی و تہذیبی فضا زوال پذیر ہوئی اور شہر کی رونقیں ماند پڑ گئیں تو مصحفی نے ترکِ قیام کیا اور ٹانڈہ (ضلع فیض آباد) چلے گئے۔ کچھ عرصہ بعد وہ لکھنؤ تشریف لے گئے، جہاں اس وقت ادب و سخن کا نیا دور شروع ہو چکا تھا۔ یہاں ان کا قیام ان کے ادبی کمالات کے فروغ کا سبب بنا۔ نواب آصف الدولہ کے عہد میں وہ شہزادہ سلیمان شکوہ کے دربار سے وابستہ ہوئے اور اس ماحول نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید نکھارا۔

لکھنؤ میں مصحفی کا شمار ان ممتاز شعرا میں ہوا جنھوں نے شہر کی ادبی فضا کو جِلا بخشی۔ ان کے ہم عصر شعرا میں میر حسنؔ، جراتؔ، انشاؔ، اور رنگینؔ جیسے بڑے نام شامل تھے، جن کے ساتھ وہ نہ صرف ہم کلام رہے بل کہ سخن فہمی کے کئی یادگار معرکے بھی ان کے درمیان ہوئے۔ ان مباحث نے اردو غزل کے فنی اور فکری جہات میں نئی راہیں روشن کیں۔

مصحفی کی طبیعت میں مطالعے اور تخلیق کا رجحان آخر عمر تک قائم رہا، اگرچہ بڑھاپے میں سماعت کمزور ہو گئی تھی۔ وہ تا دمِ آخر لکھنؤ ہی میں مقیم رہے اور ۱۸۲۴ء میں وہیں وفات پائی۔ ان کی وفات کے ساتھ اردو شاعری کے ایک درخشندہ باب کا اختتام ہوا۔

ان کی تصانیف علمی و ادبی لحاظ سے نہایت وقیع ہیں۔ فارسی میں ان کے تین دیوان اور ایک مختصر مگر معتبر تذکرہ “عقدِ ثریا” قابلِ ذکر ہیں، جس میں انھوں نے ہم عصر شعرا کا تعارف نہایت خوش اسلوبی سے پیش کیا ہے۔ اردو میں ان کے آٹھ دیوان اور دو مشہور تذکرے “تذکرۂ ہندی” اور “ریاض الفصحا” شامل ہیں، جو اُردو تذکرہ نگاری کی روایت میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
مصحفی نے اپنی فکری و تخلیقی کاوش کے طور پر میر حسن کی شہرۂ آفاق مثنوی “دریائے عشق” کو نئے رنگ و آہنگ میں “بحرالمحبت” کے عنوان سے دوبارہ نظم کیا، جو ان کے فنی ذوق اور لسانی قدرت کی شاہد ہے۔ ان کا ایک عربی دیوان بھی موجود ہے جس کا نادر خطی نسخہ آج بھی پنجاب یونیورسٹی لائبریری میں محفوظ ہے۔

ان کے علاوہ سات چھوٹے چھوٹے رسالے بھی تصنیف کئے،جن کے نام یہ ہیں

خلاصہ العروض ،مفيد الشعرا ،مجمع الفوائد ،نثرہفتِ تصویر ،خطبۂ نشاط ِباغ ،رسالہ در فضیلت انسان و بعضے جانوران، مکتوب بہ طور ِپہنچ مکتوب ملّا ظہوری۔۔بحوالہ :فرہنگ کلیات مصحفی، محقق سلیمان،مقالہ برائے ایم فل اردو، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، شعبہ ٔ اردو، اسلام آباد۔

مصحفی کا کلام اپنے عہد کی تہذیبی نفاست، فکری وسعت اور لسانی مہارت کا آئینہ دار ہے۔ ان کی شاعری میں جذبہ و وجدان کی گہرائی، بیان کی سلاست، اور خیال کی لطافت یکجا نظر آتی ہے۔ ان کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جنھوں نے دہلی اور لکھنؤ دونوں دبستانوں کی خصوصیات کو اپنی تخلیقات میں نہایت خوبصورتی سے ہم آہنگ کیا۔یوں مصحفی محض ایک شاعر نہیں بل کہ اردو کے ارتقائی سفر میں ایک نظریاتی و فکری پُل کی حیثیت رکھتے ہیں ،وہ شاعر جس کے ذریعے کلاسیکی روایت نے جدید شعری شعور کا راستہ پایا۔

انھوں نے غزل کے علاوہ  مثنویاں اور قصید سے بھی لکھے ہیں ۔

ترے کوچے اس بہانے مجھے دن سے رات کرنا

کبھی اس سے بات کرنا کبھی اس سے بات کرنا

کبھو تک کے در کو کھڑے رہے کبھو آہ بھر کے چلے گئے

 ترے کوچے میں اگر آئے بھی تو ٹھہر ٹھہر کے چلے گئے

کنج قفس میں ہم تو رہے  مصحفی  اسیر

 فصل بہار باغ میں دھو میں بچا گئی

آیا لیے ہوئے جو وہ کل ہاتھ میں چھڑی

آتے ہی جڑ دی پہلی ملاقات میں چھڑی

آنکھوں میں اس کی میں نے جو تصویر کھینچ لی

سرمے نے اس کی چشم کی شمشیر کھینچ لی

ہم سمجھے تھے جس کو مصحفی ؔیار

وہ خانہ خراب کچھ نہ نکلا

آکے مری خاک پہ کل گردوباد

دیر  تلک خاک بسر کر گیا

کلیات و فرہنگ کلیات مصحفیؔ

An Urdu poetry book, name "Kulyaat e Mushafi Vol 5" by a classic Urdu poet name Ghulam Hamdani Mushafi, compiled by Prof Noor ul Hasan Naqvi
کلیات مصحفی۔جلد پنجم۔مرتبہ پروفیسر نور الحسن نقوی
A thesis for the glossary of all the poetry of Ghulam Hamdani Mushafi, a classical Urdu poet
فرہنگ کلیات مصحفی۔مقالہ ایم فل۔
An Urdu poetry book, name "Kulyaat e Mushafi Vol 4" by a classic Urdu poet name Ghulam Hamdani Mushafi, compiled by Nisar Ahmad Farooqi
کلیات مصحفی۔جلد چہارم۔مرتبہ نثار احمد فاروقی
An Urdu poetry book, name "Kulyaat e Mushafi Vol 8" by a classic Urdu poet name Ghulam Hamdani Mushafi, compiled by Prof Noor ul Hasan Naqvi
کلیات مصحفی۔جلد ہشتم۔مرتبہ پروفیسر نور الحسن نقوی
An Urdu poetry book, name "Kulyaat e Mushafi Vol 2" by a classic Urdu poet name Ghulam Hamdani Mushafi, compiled by Nisar Ahmad Farooqi
کلیات مصحفی۔جلد دوّم۔مرتبہ نثار احمد فاروقی
An Urdu poetry book, name "Kulyaat e Mushafi Vol 7" by a classic Urdu poet name Ghulam Hamdani Mushafi, compiled by Prof Noor ul Hasan Naqvi
کلیات مصحفی۔جلد ہفتم۔مرتبہ پروفیسر نور الحسن نقوی
An Urdu poetry book, name "Kulyaat e Mushafi Vol 1" by a classic Urdu poet name Ghulam Hamdani Mushafi, compiled by Nisar Ahmad Farooqi
کلیات مصحفی۔جلد اوّل۔مرتبہ نثار احمد فاروقی
An Urdu poetry book, name "Kulyaat e Mushafi Vol 6" by a classic Urdu poet name Ghulam Hamdani Mushafi, compiled by Prof Noor ul Hasan Naqvi
کلیات مصحفی۔جلد ششم۔مرتبہ پروفیسر نور الحسن نقوی
Scroll to Top