انشا اللہ خان انشا کا تعارف، تصانیف اور رانی کیتکی کی کہانی کا خلاصہ

انشا تخلص سید انشا اللہ خا  ں نام تھا اور  سید حکیم میر ماشا اللہ خاں کے فرزند تھے ۔ بزرگوں کا اصل وطن نجف اشرف تھا۔ یہ خاندان ہندوستان میں وہیں سے آکر دہلی میں آباد ہوا ۔میر ماشا اللہ خان کا خاندانی پیشہ طبابت تھا۔ اس لیے اس فن میں خوب نام پیدا کیا ۔ شاعر بھی تھے مصدرؔ تخلص کرتے تھے ۔سلطنت مغلیہ کے زوال کے زمانے میں یہ مرشد آباد پہنچے اور وہیں انشا کی پیدائش ۱۷۵۶ء ۔۵۷ء میں ہوئی ۔ انشا کا رنگ گورا ، صورت جامہ زیب اور بدن گٹھا ہوا تھا ۔ انھوں نے اپنے والد کے سایہ عاطفت میں تعلیم و تربیت حاصل کی ۔ ان کو شعر گوئی کا شوق شروع ہی سے تھا اس لیے اس فن میں خوب طبع آزمائی کی۔ انھوں نے اپنے کلام پر کسی سے اصلاح نہیں لی، البتہ اپنا ابتدائی کلام اپنے والد کو ضرور دکھایا ۔شاہ عالم ثانی کے عہد میں انشا اپنے والد کے ہم راہ مرشد آباد سے دلی چلے آئے۔ بادشاہ چوں کہ خود بھی شاعر تھے اس لیے شاعروں کی بڑی قدر کرتے تھے ۔ انشا کو بھی بادشاہ نے اپنے درباریوں کے حلقے میں داخل کر لیا ۔ وہ اپنی حاضر جوابی، خوش طبعی اور بذلہ سنجی سے بادشاہ اور اہل دربار کو ایسا خوش کرتے کہ محفل کا رنگ ہی بدل جاتا ۔ بادشاہ ان کی ظرافت اور لطیفہ تراشی کے دل سے ایسے قائل تھے کہ اپنی آنکھ سے ذرا دیر کے لیے ان کا اوجھل ہونا بھی ان کو شاق گزرتا تھا ۔

لکھنؤ میں نواب آصف الدولہ کی سخاوتوں نے دھوم مچا رکھی تھی جو شاعر بھی دلی سے لکھنو گیا پھر واپس نہیں پلٹا ۔ انشا جوانی ہی میں دلی سے لکھنو چلے گئے اور مرزا سلیمان شکوہ کی سرکار سے وابستہ ہو گئے مصحفی پہلے ہی ۔ ہی سے یہاں موجود تھے اور مرزا سلیمان شکوہ سلیماں کے کلام پر اصلاح دینے کا کام ان کے سپرد تھا۔ لیکن انشا کی ذکاوت اور طباعی کے آگے مصحفی کا چراغ زیادہ دنوں تک روشن نہ رہ سکا ۔ ان کے پہنچنے سے مرزا سلیمان شکوہ مصحفی کے بجائے انشا سے اصلاح کا کام لینے لگے ۔لکھنو میں انشا اور مصحفی میں حسد و  رشک کی وجہ سے بڑے بڑے معرکے ہوئے جس سے ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔آخر میں علامہ تفضّل حسین خاں کی وساطت سے نواب سعادت علی خاں تک رسائی ہوئی۔ جہاں وہ اپنی بذلہ سنجی اور عجیب  غریب لطیفوں سے ان کا دل بہلاتے رہے۔ غرض انشا کی ساری  زندگی نوابوں کی صحبتوں میں گزری اور نوابوں کے زیر سایہ خوب مزے اڑائے۔

انشا نے دو شادیاں کی تھیں ۔بڑی بیوی کا نام عاشوی بیگم اور چھوٹی بیوی کا نام   اچھی بیگم  تھا۔ انشا بلا کے ذہین اور بذلہ سنج تھے اور بذلہ سنجی ان کا خاص مذاق تھا مگر انھوں نے اپنی شوخی اور ظرافت کا بری طرح خون کیا ۔ اگر وہ درباری شاعری کے جھمیلے میں نہ پڑے ہوتے اور اظہار ظرافت پہ ذرا بھی قابو رکھتے تو ان کی شاعری کا رنگ بدلا ہوا ہوتا ۔ ویسے انشا کی نظم و نثر دونوں شوخی اور ظرافت سے مالا مال   ہیں ۔ ان کو کئی زبانوں پر بڑی قدرت حاصل تھی۔ مشرق کی کوئی زبان ایسی نہیں جس میں کچھ کہا نہ ہو ۔ اردو زبان کے تو صحیح معنوں میں نبض شناس تھے اور عربی و فارسی کے ز بر دست عالم تھے ۔ انشا سب سے پہلے شخص  ہیں جنھوں نے اردو زبان کی قواعد’’ دریائے لطافت ‘‘فارسی زبان میں لکھ کر ار دو طبقے کو اس سے روشناس کرایا ۔

انشا کے جوان بیٹے کی موت نے ان کے دل و دماغ پر پر گہرا اثر کیا یہاں تک ہوش و حواس بھی کھو بیٹھے ۔ان کا نتقال  ۱۸۱۷ء میں لکھنؤ میں ہوا۔

انشا اللہ خان انشا کا تعارف، تصانیف اور رانی کیتکی کی کہانی کا خلاصہ

انشا اللہ خان کی شاعری

چند غزلوں سے قطع نظر انشا نے اپنے کلام میں حزن والم کو زیادہ راہ نہیں کی۔

خوش رہتے ہیں چار ابرو کی بتلا کے صفائی

 مانند قلندر

 نے ہم کو غم دزد نہ اندیشۂ کا را

ہے خوب فراغت

يا رب انشا ؔکو سدا عیش و طرب میں خوش رکھ

حیف ہے جو ر فلک سے ہو  حزیں ایسا شخص

انشاؔ دماغ شعر و سخن اب کہاں رہا

ہے سچ تو یوں کہ چاہئیے اس کو دماغ شرط

یہ بات صحیح نہیں کہ انشا نے عسرت ، ناداری اور انتشارکے دن نہیں دیکھے تھے ، ان کی نظروں کے سامنے دہلی کی بساط ہو رہی تھی حشمت و نشاط کی پر چھائیاں سیاسی میں غروب ہو رہی تھیں شیرازہ بکھر رہا اہل کمال تتر بتر ہو رہے تھے۔ان حالات کے اثرات ان کی غزلوں میں یوں ملتے ہیں۔

اے عشق مجھے شاہد اصل دکھا

قم  خَذ بیدی و فقکَ اللہ

کہاں تک کروں میں زمانے کا شکوہ

مصیبت ہے یوں تو سب اہلِ  ہنر پر

خصوصاً وہ جو وضعداروں میں ہیں یاں

برستا ہے افلاس ہی ان کے در پر

وہ جو سردار تھے اگلے زمانے کے بڑے ستم

یہ ان کا حال ہے اب عالم بے روزگاری  میں

پڑے سونا گھر چتے ہیں کسی ٹوٹے سے چاکو سے

کہیں جو رہ گیا ہے پاؤ کوڑی بھر کٹاری میں

تن میں ہمارے جلوہ گر جب نہ تھے ادھر اُدھر

پھرتے تھے مشکل بے کسان آتش و  باد آب و خاک

انشاؔ اللہ خان کو صاحب آپ نہ چھیڑیں مجلس  میں

 ان باتوں میں بیٹھے بٹھائے لاکھ بکھیڑے پڑتے ہیں

بنگالی زبان سے سید انشانے غالباً  یہیں واقفیت حاصل کی ہوگی جس کا اثر ان کی مثنوی’’ سلک گہر‘‘ کے اس حصے میں جہاں مسلمان ملاحوں کی بولی کی نقل اتاری ہے نمایاں ہوتا ہے۔یہ حصے بنگالی زبان اور لب و لہجہ سے مماثلت رکھتے ہیں ۔اور بنگال کے ملاحوں کے متعلق ہیں ۔ انشا جب دہلی آئے تو ان کی شخصیت ہمہ گیر ہو چکی تھی ۔ ایک طرف انھیں عربی فارسی کے علوم مروجہ پر دست گاہ تھی تو دوسری طرف کچھ بنگالی ، کچھ پنجابی ، کچھ ترکی اور اس کے بعد بھا کا اور عام بول چال کی ہندی زبانیں بھی آتی تھیں اور علم موسیقی پر بھی اچھی دستگاہ تھی ۔  ہندوستان کی رنگا رنگ  تہذیب  اور علم و فضل سے نکل کر وہ بھٹیارنوں کی سرائے ، پنگھٹ ، اور کوچہ و بازار تک پہنچے اور ایک ایسی زبان میں ،جو ابھی پوری طرح بنی بھی نہ تھی،  چٹکلے ، پہیلیاں  اور بیت لکھنے لگے ۔

انشا کی تصانیف

دریائے لطافت  ۱۸۰۲ء  میں اردو نحو و صرف اور قواعد پر مشتمل  اردو قواعد کی پہلی تصنیف ہے۔یہ  ایک صدف اور سات جزیروں پر مشتمل ہے۔ اس کی زبان فاری ہے جس کا اردو ترجمہ پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی نے کیا ہے۔دریائے لطافت سعادت علی خان کی فرمائش پر لکھی گئی تھی۔اس کے ۳۰۹ صفحات انشا کے جب کہ ۱۶۶ صفحات  مرزا محمد قتیل کے لکھے ہوئے ہیں۔

لطائف السعادت  میں انشا نے نواب سعادت علی خان کے ان لطائف کو جو   وقتاً فوقتاً  ان کی صحبتوں میں پیش آئے تھے ،جمع کیا ہے۔ اس کتاب سے دونوں کے تعلقات پر بھی روشنی تھے پر پڑتی ہے۔

سلک گوہر: یہ چھتیس صفحات کی مختصر داستان ہے۔ یہ صنعت غیر منقوطہ میں ہے۔

رانی کیکی کی کہانی ۱۸۰۳ء میں لکھی گئی مختصر ترین نثری طبع زاد داستان ہے۔

ترکی روزنامچہ، ایک ماہ اور چھ دن کے حالات پر مشتمل ہے۔ اس میں انشا نے روز کے واقعات لکھے ہیں ۔

رانی کیتکی کی کہانی

رانی کیتکی کی کہانی اردو کی مختصر ترین طبع زاد نثری داستان  ۱۸۰۳ء میں لکھی گئی۔انشا نے رانی کیتکی کی کہانی نواب صاحبزادہ حسین علی خان کی فرمائش پر فاری اور عربی لفظوں کے استعمال کے بغیر لکھی۔انشا نے دعوی کیا تھا کہ ایسی کہانی لکھوں گا جس میں غیر ملکی یعنی عربی و فارس الفاظ شامل نہ ہوں گے۔ انھوں نے اسے رانی کیتکی کی کہانی لکھ کر پورا کر دکھایا۔ کر پوراانشا نے لکھا ہے کہ’’ یہ وہ کہانی ہے جس میں ہندی چھٹ کسی اور بولی کا میل ہے نہ پٹ۔‘‘

انشا نے رانی کیکی کی کہانی میں نہ صرف خالص ہندی زبان کا استعمال کیا ہے بل کہ اس کے کردار بھی ہندو پیش کیے ہیں جن کا تعلق ہندو معاشرے سے ہے اور اس کا پلاٹ  بھی ہند وعلم الافہام کی مدد سے بنایا ہے۔

امتیاز علی عربی کے مطابق داستان رانی کیکی کی کہانی ۱۸۰۸ءمیں لکھی گئی  جب کہ مولوی عبدالحق  کے مطابق رانی کیکی کی کہانی کتابی صورت میں ۱۹۳۳ءمیں شائع  ہوئی۔

رانی کیتکی کا خلاصہ

راجہ سورج بھان کا بیٹا کنور اودے بھان ایک روز شکار کرنے کے لیے جنگل کی طرف  نکلااور ایک ہرنی کو دیکھ کر شام تک اس کا پیچھا کرتا ہوا ایک ایسے باغ میں جا پہنچا جہاں خوبرو دوشیزا  ئیں جھولے کا لطف لے رہی تھیں ۔ ان میں جگت پرکاش کی چاند جیسی بیٹی رانی کیتکی بھی تھی۔ کنور اردے بھان بھی کچھ کم خوب صورت نہیں تھا۔ باغ میں دونوں کی آنکھیں چار ہو ئیں اور دونوں ایک دوسرے پر فدا ہو گئے ۔ رانی کیتکی نے اپنی سہیلی مدن بان سے بتایا کہ وہ کنور اودے بھان کے عشق میں گرفتار ہو چکی ہے پھر مدن بان کے مشورے پر اودے بھان اور رانی کیتکی ایک دوسرے سے مل کر اپنا تعارف کراتے ہیں اور محبت کی نشانی کے طور پر ایک دوسرے کی انگوٹھیاں بدل لیتے ہیں ۔ پھر کنور اودے بھان اپنے وطن لوٹ آتا ہے۔

کنور اودے بھان اور رانی کیتکی پر ہجر کے لمحات مشکل سے گزرتے ہیں۔ ایک دوسرے کی یاد میں بے قرار و بے چین اور ہوش گم کیے رہتے ہیں ۔کنور اودے بھان کے والدین اس کی یہ حالت دیکھ کر پوچھتے ہیں کہ آخر ماجرا کیا ہے؟ تب وہ اس حادثہ محبت کے بارے میں بتاتا ہے جس کی وجہ سے اس کی یہ حالت ہوئی تھی۔ پھر کنور کے والدین رانی کیتکی کے والد جنت پرکاش کے یہاں ایک برہمن کی معرفت بیاہ کا سندیس بھیجتے ہیں۔ جگت پر کاش کنور اودے بھان کے والدین اس کی یہ حالت دیکھ کر پوچھتے ہیں کہ آخر ماجرا کیا ہے؟ تب وہ اس حادثہ محبت کے بارے میں بتاتا ہے جس کی وجہ سے اس کی یہ حالت ہوئی تھی۔ پھر کنور کے والدین رانی کیکی کے والد جگت پرکاش کے یہاں ایک برہمن کی معرفت بیاہ کا سندیس بھیجتے ہیں۔ جگت پرکاش اسے اپنی رسوائی سمجھ کر شادی کے رشتے کو قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے اور برہمن کو قید کر دیتا ہے۔ اسی وجہ سے کنور کے باپ سورج بھان اور کیتکی کے باپ جگت پر کاش کے درمیان لڑائی ہو جاتی ہے۔ لڑائی کے دوران کنور اودے بھان کیتکی کو اپنے ساتھ بھاگنےکو کہتا ہے  مگر کیتکی  بھاگنے سے انکار کرتی ہے۔  کیتکی کا باپ جگت پر کاش اپنے گرو جو گی مہندر گر جو کیلاس پہاڑ سے آیا تھا اس کی مدد سے اودے بھان ، اس کے باپ ،سورج بھان، اور اس کی ماں ،رانی لچھمی باس کو ہرن ہرنی کی روپ میں تبدیل کر دیتا اور ساری فوج ایک آگ کے بگولے سے تباہ کر دی جاتی ہے۔ کیتکی اس واقعہ سے غم زدہ  ہو جاتی ہے ۔  اس کی سہیلی مدن بان کے دلاسہ دینے سے کچھ سکون محسوس کرتی ہے۔ پھر کیتکی  ایک روز  چالاکی سے کھیلنے کے بہانے اپنی ماں، کام لتا، سے جو گی مہندر گر کا دیا ہوا وہ بھبھوت لے لیتی ہے جسے   آنکھوں میں لگانے  والے دوسروں کو  نظر نہیں آتے۔وہ  بھبھوت  کو آنکھوں میں لگا کر اپنے عاشق اود ے بھان کو تلاش کرنے کے لیے جنگل کی طرف نکل جاتی ہے۔ کیتکی کے اس طرح سے غائب ہو جا نے سے  اس کے والدین، جگت پر کاش اور کام لتا، پریشانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اس کی سہیلی مدن بان  کو بھی بھبھوت آنکھوں میں لگا کر کیتکی  کو تلاش کر کے واپس لانے کے لیے بھیجتے ہیں۔ بڑی تلاش و  جستجو کے بعد کیتکی واپس لائی جاتی ہے پھر رونگٹا جلا کر جو گی مہندر گر کو بلایا جاتا ہے اور تمام واقعات سے باخبر کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کنور اودے بھان اور اس کے والدین کو ہرن ہرنی سے واپس انسانی شکل میں تبدیلی کیا جاتا ہے۔پھر کنور اودے بھان اور رانی کیتکی کا نہایت تزک واحتشام کے ساتھ بیاہ رچا دیا جاتا ہے۔

انشا اللہ خان انشا کی تصانیف ،نیز انشا اللہ خان کی شخصیت پر کتب

A fable by a classic Urdu poet and pros writer name Insha Ulla Khan Insha, book name "Rani Kitki or kanwar odhy bhan ki kahani"
کہانی رانی کیتکی اور کنور اودے بھان کی مرتبہ مولوی عبد الحق
A classic Urdu fable name "Silk Gohar" by Insha Ulla Khan Insha
سلک گوہر۔انشا اللہ خان انشا
An Urdu poetry book "Intkhab e Insha" by Insha Ullah Khan Insha, compiled by Nasir Kazmi
انتخاب انشا
A fable by a classic Urdu poet and pros writer name Insha Ulla Khan Insha, book name "Rani Kitki or kanwar odhy bhan ki kahani" compiled by Prof Sahab Ali
رانی کیتکی کی کہانی۔انشا اللہ خان۔مرتبہ پروفیسر صاحب علی
Classic Urdu poetry "Kulyaat e Insha" by Insha Ullah Khan Insha
کلیات انشا۔انشا اللہ خان انشا
An Urdu grammar book by classical poet and pros writer Insha Ullah Khan Insha, book name "Darya e Latafat"
دریائے لطافت۔انشا اللہ خان انشا
An Urdu book name "Insha Ulla Khan Insha" by Dr Taqi Abidi on the work and life of Insha Ulla Khan
انشا اللہ خان انشا۔ڈاکٹر تقی عابدی

کلاسیکی ادب کا مطالعہ کریں

ہمارے بارے میں

ذوقِ ادب  ایک آن لائن ادبی دنیا ہے جہاں اردو کے دلدادہ افراد کو نثر و نظم کی مختلف اصناف، کلاسیکی و جدید ادب، تنقید، تحقیق، اور تخلیقی تحریریں پڑھنے اور لکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد اردو زبان و ادب کے فروغ، نئی نسل میں مطالعہ کا ذوق بیدار کرنے اور قاری و قلم کار کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنا ہے۔

Contact

+923214621836

lorelsara0@gmail.com

Scroll to Top