خواجہ میر دردؔ۔شاعری اور حالات ِ زندگی

سید خواجہ میر دردؔ، اردو شاعری کے ان درخشاں ناموں میں سے ہیں جنھوں نے نہ صرف اپنے دور کی روحانی فضا کو اپنی شاعری میں سمویا بل کہ تصوف کی لطافتوں کو غزل کے نازک پیکر میں اس طرح ڈھالا کہ ان کی شاعری روحانی واردات کا آئینہ بن گئی۔ دردؔ ۱۷۲۰ءمیں دہلی میں پیدا ہوئے۔ سلسلۂ نسب عظیم صوفی بزرگ خواجہ بہاء الدین نقشبند سے ملتا ہے، اسی وجہ سے ان کے خاندان میں پیری مریدی اور روحانی سلسلے کو خاص مقام حاصل تھا۔ ان کے والد خواجہ محمد ناصر، جو “عندلیبؔ” تخلص کرتے تھے، فارسی زبان کے خوش ذوق شاعر اور صاحبِ طرز ادیب تھے۔

دردؔ نے کم عمری ہی میں شعر و سخن کا شوق اپنے والد سے وراثت میں پایا اور اصلاح بھی انھی سے لیتے رہے۔ بچپن ہی سے ان کی طبیعت میں صوفیانہ رنگ اور روحانی جھکاؤ نمایاں تھا۔ والد کے انتقال کے بعد وہ سجادہ نشین ہوئے اور روحانیت و شاعری دونوں میں یکساں انہماک کے ساتھ مصروف رہے۔ نوجوانی میں انھوں نے اردو میں کئی رسائل تحریر کیے جو ان کے علم و ذوق کی گہرائی کا ثبوت ہیں۔

ان کے زمانے میں دہلی سیاسی و سماجی انتشار کی گرفت میں تھی۔ احمد شاہ ابدالی اور مرہٹوں کے متواتر حملوں نے اس شہرِ علم و ادب کو کھنڈر بنا دیا تھا۔ بیش تر شعراء نے دہلی کو خیر باد کہہ کر لکھنؤ یا دیگر شہروں کا رخ کیا، مگر دردؔ نے اس افراتفری کے عالم میں بھی دہلی کو ترک نہ کیا اور تا دمِ مرگ اپنے شہر اور اپنے مشرب سے وابستہ رہے۔ بالآخر ۱۷۸۴ءمیں وہ دہلی ہی میں وفات پا گئے۔

خواجہ میر دردر نے پندرہ سال کی عمر سے تصنیف و تالیف کا کام شروع کیا۔ ان کی پہلی  تصنیف رسالہ ’’ اسرار الصلواۃ ‘‘ ہے۔یہ رسالہ  ۱۱۴۸ ھ میں لکھا گیا۔ اس رسالے میں انھوں نے نماز کے مختلف پہلوؤں کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ رسالہ ’’واردات ‘‘ ان کا دوسرا رسالہ  ۱۱ ۷۲ ھ میں  لکھا جس میں  معرفت و حقیقت  کی باتیں کی گئی ہیں۔ یہ رسالہ ۲۹ سال کی عمر میں لکھا گیا۔اس میں ۱۱۱ وارداتیں ہیں۔ تیسری تصنیف ’’ علم الکتاب ‘‘ خاصی ضخیم ہے جو ۱۱۱ واردات کی تشریح ہے۔چوتھا رسالہ ’’نالہ درد‘‘  ہے ،اس  کا موضوع بھی تصوف  ہے۔اس کے علاہ ’’آہ سرد،شمع محفل، درد دل، حرمت غنا، واقعات درد، اور سوز دل ‘‘ کے عنوانات سے ۱۱۹۵ھ تا ۱۱۹۹ھ کے دوران  تصوف  کے موضوع پر لکھے۔ درد کی تصانیف میں ایک فارسی اور ایک اُردو دیوان بھی  ہیں۔

ادبی حیثیت سے دردؔ کو اردو غزل کے منفرد اور ممتاز شعرا میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی غزلوں میں سادگی، صفائی، سوز و گداز اور روحانی لطافت نمایاں ہے۔ دردؔ کے کلام میں اختصارِ بیان ان کی شعری انفرادیت کا مظہر ہے۔ ان کی شاعری میں تصوف کی وہ لطیف روشنی ہے جو محض نظری نہیں بل کہ ان کے اپنے تجرباتِ زندگی سے پھوٹی ہے۔ ان کے ہاں عشقِ حقیقی اور عشقِ مجازی دونوں کی کیفیات جلوہ گر ہیں، مگر یہ جلوے کسی تصنع کے نہیں  بل کہ قلبی واردات کے ہیں۔

دردؔ کا ہر شعر پاکیزگی، بلندیِ خیال اور روحانی تاثیر سے لبریز ہے۔ وہ میرؔ، سوداؔ اور میر حسنؔ کے ہم عصر تھے اور اس عہد کی جمالیاتی روح کو اپنی جداگانہ طرز میں پیش کیا۔ چھوٹی چھوٹی بحروں میں کہی گئی ان کی غزلیں اردو شاعری کا قیمتی سرمایہ ہیں، جو آج بھی اپنے اخلاص، صداقت اور درد مندی کی وجہ سے زندہ و تابندہ ہیں۔

آہ معلوم نہیں ساتھ سے اپنے شب وروز

لوگ جاتے ہیں چلے سو یہ کدھر جاتے ہیں ؟

عنقا کی طرح جتنے تھے یاں نامور فلک

تو نے خدا ہی جانے یہ کید ھر اڑا دیئے؟

یا رب یہ کیا طلسم ہے اور اک وفہم یاں

 دوڑے ہزار آپ سے باہر نہ جاسکے

ہر آن ہے واردات دل پر

 آتا ہے یہ قافلہ کہاں سے؟

نظر میرے دل کی پڑی درد ؔکس پر

 جدھر دیکھتا ہوں وہی روبرو ہے

جان سے ہو گئے بدن خالی

جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا

روندے ہے نقش پا کی طرح خلق یاں مجھے

 اے عمر رفتہ چھوڑ گئی تو کہاں مجھے

تحقیق ہے یا کہ افواہ ہے ؟

کہ دل کے نہیں دل سے یاں   راہ ہے

ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے

تجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے

میر دردؔ کی تصانیف

Poetry work of a classical Urdu poet name Khwaja Meer Dard in Urdu book "Deewan e Dard"
دیوانِ درد
A poetry book by Khawaj Meer dard, a classical Urdu poet, compiled by Khwaja Muhammad Shafi
شرح میر درد ۔خواجہ محمد شفیع
An Urdu book on the poetry of Khwaja meer dard name "Khwaja Meer Dard Hayat o Intqadiat" by Sayad Taleef Haider
خواجہ میر درد۔حیات و انتقادیات۔از سید تالیف حیدر
نالۂ درد۔ خواجہ میر درد
دیوان فارسی۔خواجہ میر درد
A book by Khwaja Meer Dard name "Israr ul Salat"
اسرار الصلواۃ ۔خواجہ میر درد
دیوانِ درد مرتب ڈاکٹر نسیم احمد
Scroll to Top