حیدر بخش حیدری کی توتا کہانی
اردو نثر کی ارتقائی تاریخ میں اگر چند ایسے نام تلاش کیے جائیں جنھوں نے نثر کو داستان کی صورت میں نہ صرف جِلا بخشی بل کہ اسے فنی سطح پر بھی مضبوط بنیاد فراہم کی، تو حیدر بخش حیدری کا نام ان میں نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کا دور وہ تھا جب اردو نثر فارسی اسلوب کی جھلک سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہوئی تھی، مگر حیدری نے اپنے طرزِ نگارش سے ایک ایسا میانہ روی کا راستہ اختیار کیا جس میں روایت کی شائستگی اور فطری اظہار کی تازگی یکجا دکھائی دیتی ہے۔
حیدری کی نثر کا بنیادی جوہر سادگی، صفائی اور قدرتی روانی ہے۔ ان کے ہاں عبارت نگاری میں لفظوں کی تراش خراش اور فکری وضاحت دونوں کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ وہ مقفع و مسجع انداز سے اجتناب کرتے ہیں، لیکن اس وقت کے ادبی ذوق کے تحت فارسی و عربی الفاظ کے مناسب استعمال سے اپنی نثر میں ایک وقار اور شائستگی پیدا کرتے ہیں۔ ان کا یہ اسلوب نہ صرف ان کے زمانے کے لیے قابلِ قدر تھا بل کہ بعد کے نثر نگاروں کے لیے بھی ایک رہنما نمونہ بن گیا۔