وجہی کی کئی تصانیف یاد گار ہیں جن میں ’’دیوان وجہہ‘‘(فارسی) کا مخطوطہ کتب خانۂ سر سالار جنگ میں محفوظ ہے۔مثنوی’’ قطب مشتری‘‘(۱۶۰۹ء) اور نثر میں ’’سب رس‘‘(۱۶۳۵ء) شایع ہو چکی ہے۔ان کے علاوہ قدیم بیا ضوں میں چند غزلیں بھی قطب مشتری اور سب رس کے علاوہ ہیں۔
’’قطب مشتری‘‘ محمد قلی قطب شاہ اور مشتری کے عشق کی داستان ہے اور اسی مناسبت سے اس کا نام ’’قطب مشتری‘‘ رکھا گیا ہے۔ یہ ’’مشتری‘‘ وہی ہے جو بھاگ متی کے نام سے مشہور تھی اور اپنے رقص و موسیقی اور حسن و جمال کی وجہ سے شہرت رکھتی تھی۔ محمد قلی قطب زمانہ ٔ شہزادگی میں اس پر عاشق ہو کر اس سے چھپ چھپ کر ملتا تھا۔اور جب باپ نے ملنے کے سارے راستے بند کر دیے تو عاشق نے گھوڑا دریا میں دریا میں ڈال دیا جس پر پدری شفقت جوش میں آئی اور باپ نے دریائے موسیٰ پر پُل بنوا دیا اور خاموش ہو گیا۔۱۵۸۰ء میں محمد قلی قطب شاہ تخت پر بیٹھا تو بھاگ متی کے بھاگ کھل گئے اور یہ نہ صرف بادشاہ کے حرم میں داخل ہو گئی بل کہ بھاگ متی کو’’مشتری‘‘کے نام سے بھی نوازا گیا اور پھر حیدر محل کا خطاب ملا۔محمد قلی کے کلیات میں مشتری پر دو نظموں کے علاوہ کئی اشعار اس اس طرف اشارہ کرتے ہیں۔ملا وجہی نے اس قصے کو مثنوی’’قطب مشتری‘‘کا نام دے کر قصے کا روپ دیا ہے۔
پروفیسر محی الدین قادری زور نے مشتری کا سال وفات ۱۶۰۷ء قیاس کیا ہے۔ وجہی نے ایک شعر میں واضح کیا ہے کہ اس نے یہ مثنوی صرف بارہ دن میں مکمل کی تھی۔ملا وجہی نے بادشاہ کے حکم کے مطابق اس مثنوی کے کردار تخلیق و تبدیل کیے تھے ،جن میں چند اصل اور چند تبدیل کردیے گئے تھے۔ جیسا کہ بادشاہ کے جنون کا یہ عالم تھا کہ اس نے بھاگ متی کے عشق میں نیا شہر بسا کر اس کا نام پہلے بھاگ نگر اور پھر حیدر محل رکھا اور پھر حیدر آباد رکھ دیا۔ اور مثنوی میں بھاگ متی کو رقاصہ کے بجائے بنگالہ کی شہزادی دکھایا گیا ہے۔
قطب مشتری کے اولین نقاد ڈاکٹر عبد الحق ہیں ۔اس مثنوی کی پہلی خوبی تو یہی ہے کہ اس مثنوی میں فن شاعری کے تعلق سے ایک باب بہ عنوان’’ در شرحِ شعر گوید‘‘ قلم بند کیا گیا ہے ۔ یہ باب اپنے عہد کے خاص مزاج ِشاعری اور تنقیدی شعور کا آئینہ دار ہے۔ وجہیؔ نے اس سلسلے میں سب سے پہلے سلامت اور روانی پر زور دیا ہے ۔ اسی کے ساتھ بے مزہ بے کیف بسیار گوئی پر ظاہری اور معنوی حسن سے معمور ایک شعر کو ترجیح دی ہے:
جو بے ربط بولے توں بتیاں پچیس
بھلا ہے جو یک بیت بولے سلیس
نکو کر توں لئی بولنے کا ہوس
اگر خوب بولے تو یک بیت بس
لیکن وجہی نے صرف الفاظ کے انتخاب اور ان کی حسن ترتیب پر ہی زور نہیں دیا ہے بل کہ معنی آفرینی اور بلندی تخیل کی بھی تاکید کی ہے۔وجہی گھسے پٹے مضامین کو قابل اعتنا نہیں سمجھتا وہ نادر خیالی اور جدت طرازی کا موئید ہے دوسروں کے بتائے پامال راستوں پر چلنا اسے گوارا نہیں ۔ اس کے تئیں تو وہی فن کار لائق ستائش ہے جس نے اپنی جودت طبع سے الفاظ و معنی کے نئے نئے گل کھلائے ہوں ۔ وجہی کے خیال میں بہترین شاعرو ہی ہے جو خوبصورت الفاظ کے استعمال کرنے میں ایسی بات پیش کرے جو سیدھی سامع یا قاری کے دل میں جا بیٹھے ۔ طرز ادا ایسا دل نشین اور بات ایسی جامع اور بلند ہو کہ پڑھنے والا چونک اٹھے۔
(قطب مشتری،اسد اللہ وجہی،مرتبہ ڈاکٹر حمیر اجلیلی،ترقی اردو بیورو،نئی دہلی،۱۹۹۲ء،ص۹۔۱۰)
ملا وجہی کی مثنوی’’ قطب مشتری‘‘ دکنی داستان گوئی کی ایک درخشاں مثال ہے جس میں عشق، مہم جوئی اور ماورائی عناصر ایک دوسرے میں یوں حل ہو جاتے ہیں کہ پوری حکایت طلسماتی فضا میں سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔ اس داستان میں کرداروں کے نام سیاروں اور فلکیاتی علامتوں سے ماخوذ ہیں، جو اس مثنوی کی تخلیقی فضا کو اور زیادہ رمز آفریں بنا دیتے ہیں۔ اس مثنوی کے اہم کردار کل بارہ ہیں اور ہر کردار اپنے عمل، مزاج اور تعلق کے باعث داستان کے کسی نہ کسی مرحلے میں بنیادی اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
سلطان ابراہیم قطب شاہ برسوں سے اولادِ نرینہ کی دعا میں مصروف تھا۔ تقدیر نے بالآخر اس کی التجائیں سن لیں اور محل میں ایسا فرزند پیدا ہوا جس کے حسن کی تابانی کا چرچا دکن سے سرحدوں کے پار تک جا پہنچا۔ یہی شہزادہ بعد ازاں محمد قلی قطب شاہ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔شہزادہ جب شباب کی دہلیز پر پہنچا تو ایک رات اس کی خواب گاہ میں نور کی بارش سی ہوئی، اور خواب میں ایک ایسی دوشیزہ نمودار ہوئی جس کے حسن نے اس کی روح پر نقشِ لازوال بنا دیا۔ بیدار ہوا تو گویا دل اور ہوش سب خواب کی اسی پری رو شہزادی کے ہاتھ گروی رکھ آیا تھا۔ اس کے غم و اندوہ نے پورے قصر میں اضطراب پھیلا دیا۔
سلطان نے شہزادے کی اداسی کا مداوا کرنے کے لیے اطراف و بلاد کی حسیناؤں کو جمع کیا، مگر شہزادے کی نگاہ کسی پر نہ ٹھہری۔ بالآخر اس نے اپنی کیفیتِ عشق بادشاہ کو بتائی، جس پر سلطان نے اپنا قدیم سفیرِ خاص عطارد طلب کیا،جو مصوری میں یکتا، سیاحت میں کامل اور دنیادیدہ شخص تھا۔عطارد نے بتایا کہ دنیا کی سب سے حسین شہزادی ’’مشتری‘‘ ہے، جو بنگالہ کے شاہی خاندان سے وابستہ ہے۔ اس نے اس شہزادی کی تصویر بھی دکھائی، جسے دیکھ کر شہزادے نے فوراً پہچان لیا کہ یہی وہ سراپا ہے جو اس کے خواب میں جلوہ گر ہوئی تھی۔
اس کے بعد قطب شاہ اور عطارد سوداگر کے روپ میں بنگالہ کی جانب نکلتے ہیں۔ راستے میں اژدہوں سے مقابلے ہوتے ہیں، دیو قامت راکشس رکاوٹیں بنتے ہیں، اور کئی پراسرار کردار راہ میں آتے ہیں۔ انہی مہمات کے دوران شہزادے کی ملاقات مریخ خان سے ہوتی ہے جو اسد خان کا بیٹا ہے اور اپنی خواب دیدہ معشوقہ زہرہ (مشتری کی بہن) کی تلاش میں بھٹکتا پھر رہا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے رفیقِ سفر بن جاتے ہیں۔
راکشس کے قید خانے سے چھٹکارا پانے کے بعد سفر انھیں قلعۂ گلستان تک لے جاتا ہے، جو دیوستان اور پریستان کا سنگم سا تھا۔ یہاں مہتاب پری شہزادے کے حسن و خُلق پر فریفتہ ہو جاتی ہے اور اسے اپنے محل میں جگہ دیتی ہے۔ شہزادہ وقتی طور پر اس مہتابی دلربائی میں محو رہتا ہے، مگر دل کی نگاہیں اسی مشتری کے تصور میں روشن رہتی ہیں۔
دوسری طرف عطارد بنگالہ پہنچ کر اپنے فنِ مصوری کے ذریعہ وہاں شہرت حاصل کرتا ہے۔ جب وہ مشتری کے محل میں دیوار نگاری کے لیے بلایا جاتا ہے تو ادھر شہزادہ قطب کی ایک تصویر دیکھ کر مشتری خود بھی اس کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ عطارد اس موقع کو غنیمت جان کر شہزادے کو خبر دیتا ہے۔شہزادہ مہتاب پری سے اجازت لے کر بنگالہ روانہ ہوتا ہے، اور پری اسے ایک طلسمی گھوڑا ’’ترنگ بادپا‘‘بطور تحفہ دیتی ہے۔ بنگالہ پہنچ کر قطب اور مشتری کی ملاقات ایک جشن و سرور کی فضا میں ہوتی ہے۔ ادھر زہرہ کے لیے مریخ خان کا رشتہ طے پاتا ہے اور بنگالہ کی سلطنت اسی کے حوالے کیے جانے کا فیصلہ ہوتا ہے۔
قصہ یہاں سے اختتام کی جانب بڑھتا ہے جب قطب اور مشتری دکن پہنچتے ہیں۔ شاہی دربار میں شادی کی پرتکلف تقریبات منعقد ہوتی ہیں اور ابراہیم قطب شاہ اپنی سلطنت بیٹے کے سپرد کر دیتا ہے۔ یوں مثنوی ایک دل کش اور خوشگوار انجام پر منتج ہوتی ہے۔
مثنوی کا مرکزی کردار، حسن و شجاعت کا پیکر اور روحانی کشش کا حامل شہزادہ جس کی داستانِ عشق پوری مثنوی کا محور ہے۔
بنگالہ کی شہزادی، حسن، نزاکت اور وقار کی مکمل تصویر۔ اس کا حسن شہزادے کے خواب میں جلوہ گر ہوتا ہے اور یہی جلوہ پوری داستان کو آگے بڑھاتا ہے۔
مشتری کی بہن ہے جودل کش آواز اور لطیف طبیعت کی مالک ہے اس پر مریخ خان اس پر دل ہار بیٹھتا ہے اور اس کی تلاش میں بھٹکتا ہے۔
حلب کے وزیر اعظم اسد خان کا بیٹا، بلند حوصلہ اور عاشق مزاج ہے۔ زہرہ کے عشق میں گرفتار ہو کر دور دراز ملکوں میں سرگرداں ہے۔
داستان کا اہم ترین معاون کردار ہے۔مصوری، حکمت اور سفارت کا عجیب امتزاج، جو واقعات کے دھارے کو آگے بڑھاتا ہے۔
مریخ خان کا والد اور حلب کے بادشاہ شاہ سلطان کا وزیرِ اعظم ہے۔ وقار اور دانش کا حامل کردار ہے۔
حلب کا فرمانروا، طاقت اور دبدبے کی علامت ہے۔ اس کی سلطنت مریخ خان کے پس منظر کو جلا دیتی ہے۔
قلعۂ گلستان کی معصوم دل والی پری جو اپنے حسین اور نرم دل مزاج کے سبب شہزادے پر فدا ہو جاتی ہے اور طلسمی معاونت دیتی ہے۔
مہتاب پری کی کنیز اور رازدار۔ داستان میں ماورائی ماحول کے فروغ میں اس کا کردار نمایاں ہے۔
مشتری کی دائی اور شاہی محل کی اہم خادمہ جس کے ذریعے کئی مخفی امور کا سراغ ملتا ہے۔
اگرچہ جاندار نہیں، مگر قصے میں فعال کردار رکھتا ہے۔ مختلف مراحل میں شہزادے کی مدد کرتا ہے۔
داستان کا خوفناک مخالف، جس کی ہلاکت سے شہزادے کی بہادری مزید نمایاں ہوتی ہے۔
مثنوی ’’قطبِ مشتری‘‘ اردو کلاسیکی ادب کی ان بلند پایہ تصنیفات میں شمار ہوتی ہے ،جس نے برصغیر کی داستانوی روایت، تہذیبی مزاج اور شعری اسلوب کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔ اس مثنوی کی نسبت ملا وجہی کی طرف جاتی ہے اور اس نسبت کے داخلی شواہد، اسلوبی مماثلت اور روایتی حوالہ جات اس نسبت کی توثیق کرتے ہیں۔’’قطب مشتری‘‘ کا متن نہ صرف داستانی فضا میں ڈوبا ہوا ہے بل کہ ایک منظم شعری ساخت، مضبوط استعارہ نگاری اور ماورائی علامتوں کے استعمال کے سبب اردو مثنویوں کے ذخیرے میں اپنی ایک منفرد پہچان رکھتا ہے۔
’’قطبِ مشتری‘‘ کی داخلی ساخت مکمل طور پر کلاسیکی مثنوی کے اصولوں پر قائم ہے۔ اس میں قصے کے لیے متصل روایتی فضا، مسلسل شعری رَو، اور عشقیہ بیانیے کا صوفیانہ پس منظر نمایاں طور پر موجود ہے۔ مصنف نے قصے کے مرکزی دھارے کو عاشقانہ واردات، فلکیاتی استعاروں اور اخلاقی تمثیل کے ذریعے اس طرح ترتیب دیا ہے کہ متن َبَیک وقت جذباتی، روحانی اور سماجی تینوں جہتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ قطب اور مشتری کی علامتیں کائناتی ترتیب، انسانی خواہش اور روحانی کشمکش کے پیچیدہ رشتے کو نہایت سفاک صداقت کے ساتھ ظاہر کرتی ہیں۔
اس مثنوی کا مرکزی موضوع محبت اور طاقت کی باہمی کشمکش ہے۔ یہاں عشق محض جذباتی واردات نہیں بل کہ سماجی رکاوٹوں کے خلاف ایک شعوری بغاوت کی صورت اختیار کرتا ہے۔ درباری نظام، نسبی رتبے، اور خاندانی تقاضے بار بار فرد کی راہ میں حائل ہوتے ہیں، اور یہ تصادم متن کے اصل ڈرامائی تناؤ کو جنم دیتا ہے۔ کرداروں کی داخلی نفسیات، ان کا عملی فیصلہ، اور ان فیصلہ جات کے سماجی و سیاسی نتائج اس متن کو ایک محض رومانی قصہ ہونے سے بلند کر کے ایک سماجی دستاویز کی سطح پر لے آتے ہیں۔
لسانی سطح پر ’’قطبِ مشتری‘‘ اپنی تہذیبی گہرائی، محاوراتی قوت اور فارسی اسلوب کے لطیف اثر کے باعث ایک دل کش نمونۂ نثر و نظم ہے۔ اس میں الفاظ کا انتخاب تجربہ، شعوری مہارت اور زبان کی تہذیبی روایت کے پختہ شعور کا غماز ہے۔ عروض کی سخت پابندی، مضامین کی روانی، اور تشبیہ و استعارے کی قوت اس مثنوی کو ادبی معیار کے اعتبار سے مستحکم اور معتبر بناتے ہیں۔
تاریخی سطح پر ’’قطبِ مشتری‘‘ اُس عہد کے درباری ماحول، سماجی قوتوں، طبقاتی تقسیم اور روحانیت و دنیاوی اختیار کے باہمی رشتے کا عکاس ہے۔ متن واضح طور پر سیاسی خاندانوں کے اندر موجود تضادات، مبنی بر طاقت فیصلوں، اور شخصیت و اختیار کی باہمی کشمکش کو بے نقاب کرتا ہے۔ کرداروں کی عملی زندگی، خاندانی نظام کے تقاضے اور معاشرتی ساختیں کسی تخیل نہیں بل کہ حقیقی سیاسی فضا کی نمائندہ حیثیت رکھتی ہیں۔
تنقیدی نظر سے دیکھا جائے تو ’’قطبِ مشتری‘‘ اپنی علامتی گہرائی، استعارہ سازی اور سماجی شعور کے باعث ایک ہمہ جہتی ادبی متں ہے۔ اس کی سب سے بڑی قوت اس کا بیانیاتی تسلسل اور کرداروں کی فکری اور جذباتی سطح پر واضح تشکیل ہے۔ مثنوی کی چند کمزوریاں اس کے بیانیے کی بعض جگہوں پر حد درجہ روایتی سختی اور اخلاقی سبق کی شدت میں نظر آتی ہیں، تاہم یہ کمزوریاں متن کی ادبی اہمیت کو متاثر نہیں کرتیں بل کہ اسے اپنی کلاسیکی روایت سے مزید مضبوطی سے جوڑ دیتی ہیں۔
’’قطبِ مشتری‘‘ یقیناً اردو ادبیات کی مثنوی روایت کا ایک مستند اور قیمتی ورثہ ہے۔ یہ نہ صرف عشق کی جمالیات کو پیش کرتا ہے بل کہ سماج، تاریخ اور اخلاقیات کے گٹھ جوڑ کو بھی تہذیبی تناظر میں دکھاتا ہے۔ اس مثنوی کی ادبی شان، لسانی پختگی اور فکری پیچیدگی اس امر کی متقاضی ہے کہ اسے نہ صرف ادبی تحقیق کا حصہ بنایا جائے بل کہ اسے جنوبی ایشیائی بیانیے کے اجتماعی ورثے میں بھی نمایاں مقام دیا جائے۔