مثنوی پھول بن کا خلاصہ اور تنقیدی جائزہ

مثنوی ’’پھول بن ‘‘ کے مصنف ابنِ نشاطی کا تعارف

مثنوی ’’پھول بن ‘‘ کے مصنف ابن نشاطی  کا ذکر سب سے پہلے غالباً اسٹیوارٹ نے کیا تھا، جس کی فہرست میں پھول بن شامل تھی۔ اس نے مثنوی کے اشعار سے پتا چلا کر یہ بھی لکھا ہے کہ یہ ’’بساتین‘‘ کا ترجمہ ہے۔

ابنِ نشاطی کا تذکرہ سب سے پہلے گارساں دتاسی نے کسی قدر تفصیل سے کیا  اور لکھاکہ’’نشاطی  ایک مسلمان مصنف ہے ،جو شیعہ مذہب سے تعلق رکھتا  ہے ۔وہ حسب ذیل کتابوں کا مصنف ہے:

ایک پریوں کا افسانہ ،جو دکھنی نظم میں ہے اور جس کا عنوان’’پھول بن‘‘ ہے۔یہ طبلہ شاہ اور شہزادی پھول بن کا قصہ ہے۔ یہ ایک فارسی کتاب ’’ بساتین‘‘ کا ترجمہ ہے۔

اس کی ایک اور تصنیف ’’طوطی نامہ‘‘ ہے،جو ہندوستان کا ایک مقبول  قصّہ ہے۔یہ ایک مثنوی  جو ۱۶۳۹ء۔۴۰ء میں لکھی گئی ۔یہ بخشی کی فارسی کتاب کا ترجمہ ہے۔

اکبر الدین صدیقی لکھتے ہیں ’’پھول بن‘‘ ابن نشاطی کے عفوان شباب کا کارنامہ ہے۔ اگر اس نے بیس پچیس سال کی  عمر میں اس نے یہ کتاب لکھی ہو تو  اس لحاظ سے اس کی ولادت  کا زمانہ  ۱۰۴۰ء  سے ۱۰۴۵ء  تک ہو سکتا ہے۔پھول بن کے لکھے جانے کے اڑسٹھ سال بعد ۱۱۴۴ء میں گولکنڈہ کے ایک مشہور شاعر سید محمد عشرتی کے فرزند ہنر نے پھول بن کے جواب میں  مثنوی ’’ نیہ درپن‘‘ کے نام سے لکھی۔

مثنوی ’’پھول بن‘‘ کی لسانی و اسلوبیاتی خصوصیات

  مثنوی ’’پھول بن‘‘کو ابن نشاطی نے سلامت اور سادگی کے ساتھ ساتھ صناعی کا عمدہ نمونہ بنانے کی کوشش کی ہے۔یوں تو پوری نظم بلیغ ہے، لیکن جیسا کہ خود اس نے بیان کیا ہے۔ اس میں انتالیس صنعتیں استعمال کی ہیں۔ اس نظم میں انشا پر دازی کے مکمل لوازمات پائے جاتے ہیں ۔اس میں ایسی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو ہندوستانی شعری کارنامے میں پائی جاسکتی ہیں اس کے علاوہ پھولبن ، چند ایسی خصوصیتوں کی بھی حامل ہے جو اس زمانے کی دوسری  مثنویوں میں کم پائی جاتی ہیں ۔ ان میں سے ایک چیز کسی واقعہ کی جزئیات پر شاعر کی گہری نظر، اور اس کے بیان کی صداقت اور سلاست ہے ۔ قدیم ادب میں یہ کسی قدر بعد کے زمانے کی پیداوار ہے، اس لئے اس کی زبان بھی نسبتاً صاف اور قابل فہم ہے ۔ اس کے پڑھنے اور سمجھنے میں وہ دقتیں نہیں ہیں جو اس سے پہلے کے کارناموں مثلا نصرتی کی  مثنویوں یا اس کے ہم عصر مثنوی نگاروں  یا اس عہد کی دوسری  تصانیف میں ہو سکتی ہیں۔ ابن نشاطی کی زبان ، اس کے اکثر معاصرین کے مقابلے میں زیادہ صاف اور سلیس ہے ۔ ’’پھولبن‘‘ بہت زیادہ طویل مثنوی بھی نہیں ہے ، جس کے پڑھنے سے طبیعت اکتا جائے ۔ ایک اور امتیاز بھی پھولبن کو یہ حاصل ہے کہ اس میں بعض ایسے اشارے آگئے ہیں جن سے کچھ اہم معلومات حاصل ہو سکتی ہیں، ابن نشاطی نے اپنے سے پہلے کے بعض ایسے شعراء کا ذکر کیا ہے ، جن کے متعلق کسی اور جگہ سے مواد دستیاب نہیں ہو سکتا۔ آخری چیز یہ ہے کہ جو شخص بھی اس کے مطالعہ میں تھوڑی بہت زحمت برداشت کرے اس کے لئے دل چسپی کا سامان مہیا ہے۔ یہ مثنوی کا سادہ سیدھا اور بے تکلف اسلوب  شعری اعتبار سے پھولین کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کے اسلوب کی سادگی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ اس وقت تک اردو شاعری کافی ترقی کرچکی تھی پھر بھی پھول جن میں ابتدائی نظموں کی پوری سادگی موجود ہے ۔ اس زمانے تک شعری اصطلاحات یا لفظیات ، جیسی کوئی چیز اردو میں رائج نہیں ہوئی تھی، اور ہر شاعر حتی الامکان اپنی بول چال کی زبان ہی میں شعر لکھتا تھا۔

اسی لئے زبان اور اسلوب میں قدیم شعرا کی بعض وقت حد سے زیادہ غیر رسمیت اور بے تکلفانہ طرز نگارش بعد کی رسمی شاعری کی عادی طبیعتوں کے لئے ، اجنبی سی معلوم ہوتی ہے۔ دوسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں جگہ جگہ جزئیات کے ایسے نفیس مرتھے پڑھنے والے کی نظر کے سامنے سے گزر جاتے ہیں کہ ان سے نظم اور قصے کے لطف میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اس طرح کے مرقعے قدیم مثنویوں میں دستیاب ہوتے ، اور متوسط عہد کی  مثنویوں کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں دستیاب ہوتے ہیں لیکن یہ کہنا شاید مبالغہ نہیں کہ مرقع نگاری میں، پھولبن کو ایک امتیاز حاصل ہے۔ اس میں واقعات کے ایسے جزئیات بھی نظر انداز نہیں ہونے پاتے کہ ابن  نشا طی  کے اسلوب کا اسلوب  ِوصف درد اور اثر ہے۔

مثنوی ’’پھول بن‘‘ کی کہانی

مشرق میں کہیں ایک شہر تھا جو کنچن پٹن کہلاتا تھا ۔یہ شہر ندی کے کنارے اس طرح آباد تھا کہ ندی اس کے حصار کی خندق معلوم ہوتی تھی ۔پورا شہر  گویا سونے کا بنا ہوا تھا وہاں کے محلات ،زمین ،درخت ،کنکر سب سونے کے تھے۔ اس شہر کے استحکام کا یہ حال تھا کہ وہاں کبھی کسی نے کوئی جاسوس نہ سنا تھا نہ دیکھا تھا ۔وہاں ہر طرف خوشحالی تھی۔ بوڑھے اور جوان سب خوش باش حالت میں تھے ۔شہر کا ایک بادشاہ نہایت نامور اور خوش بخت تھا اسے دنیا کے بادشاہوں میں سروری حاصل تھی ۔بڑے بڑے تاجدار اس کی اطاعت میں تھے اور زمین پر اس کا کوئی ثانی نہ تھا ۔ایک رات اس نے خواب میں ایک بزرگ دیکھا جس کے ہاتھ میں ایک رنگین  عصا تھا ۔وہ ہاتھ میں مصلیٰ لیے ہوئے تھا اور اس کا دل ریاضت کی بدولت   مصفّا تھا۔  اگرچہ اس کا پورا جسم لہو سے خالی تھا لیکن پیشانی پر سجدے کی لالی موجود تھی ۔ وہ اس حالت  میں  بادشاہ کے دربار میں کھڑا نظر آیا  ،ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اجازت کا منتظر ہے۔

  جب بادشاہ نیند سے بیدار ہوا تو اس نے حکم دیا  کہ خادم ایسا درویش ڈھونڈ کر لائے ۔ملازم گلی گلی کوچہ کوچہ ڈھونڈتا رہا لیکن اسے ایسا درویش نہ ملا ۔آخر ایک خانقاہ میں پہنچا جس کے در و دیوار پر نور برستا تھا وہاں ارباب  اطاعت اور اہل عبادت جمع تھے اور آپس میں  طریقت اور معرفت کی گفتگو کر رہے تھے۔ خادم نے جب غور سے دیکھا تو وہ درویش انھی میں بیٹھا نظر آیا ۔دوڑ کر سجدہ کیا اور بادشاہ کا حکم سنایا ۔درویش روشن ضمیر پہلے ہی سے یہ بات جانتا تھا۔ اس نے ساتھیوں سے اجازت لی اور بادشاہ کے پاس حاضر ہوا ۔

درویش نیک ضمیر تھا، سب پہلے  ہی جانتا تھا ۔درویش ہر روز رات کو ایک قصہ بادشاہ کو سناتا اور بادشاہ کو ایک نیا سوز دیتا۔بادشاہ  قصہ سُن کر مست نظر آتا۔ ایک رات درویش نے اسے ملک خراسان کا ایک قصہ سنایا اور کہا کہ ملک خراسان، جو سب سے بڑا ملک ہے ،میرا باپ وہاں کا پردھان تھا اور کشمیر میں ایک نہایت عقلمند اور عادل بادشاہ تھا۔ اس کی حکومت ہر چیز پر تھی ۔ایک روز جب موسم  جوبن پر تھا اور  ہر طرف پھول کھلے ہوئے تھے تو ایک پھول کی مشک عنبر کی طرح ساری محفل میں پھیلی ہوئی تھی۔ باغبان نے وہ پھول بادشاہ کی نظر کیا اور بادشاہ گل کی طرح شگفتہ ہو کر تعجب سے پوچھنے لگا ۔’’اے بن کو سدا پانی دینے والے! ایسا پھول چمن میں آج تک نہیں دیکھا تھا۔ اگر اس کا پودا لا کر میرے چمن میں لگائے گا تو تیرا دہن کلی کی طرح زر سے پُر کر دوں گا۔ باغبان نے کئی دن بعد وہ پودا ڈھونڈ کر بادشاہ کے چمن میں لا کر لگا دیا ۔ایک روز جب بادشاہ نے وہ پھول دیکھا تو اس میں سوکھنے کے آثار نظر آئے اور رنجیدہ ہو کر مالی سے سبب دریافت کیا۔مالی نے بتایا کہ چمن میں ایک کالا  بلبل  اس گل کا عاشق ہے ۔ وہ کبھی پھول پر آکر پر پھیلاتا ہے، تو کبھی اپنا سینہ رگڑتا ہے، کبھی  پنکھڑیاں کھولتا ہے اور کبھی اس کی کلیاں تتر بتر کرتا ہے۔ اس سے علاحدہ ہو کر پھول کملا گیا۔ یہ سُن کر بادشاہ کو بہت دکھ ہوا اور اآس نے حکم دیا کہ  اُس بلبل کو جال بچھا کر پکڑ لیا جائے۔شکاری نے جال پچھایا اور جال میں دانے بھی ڈال دیے۔ ان دا نوں کی لالچ میں پھنس کر بلبل جال میں آ گیا۔

شکاری نے بلبل کو پنجرے میں قید کرکے بادشاہ کے حضور پیش کیا  اور بادشاہ نے اُسے اپنے محل کی زینت بنایا لیکن بلبل دن رات پھول کی جُدائی میں  آہ و زاری کرتا رہا ۔ ایک روز بادشاہ نے اس کے غم سے  پریشان ہو کر اس ی وجہ پوچھی تو اُس نے تمام قصہ  یوں کہہ سُنایا:۔

 میرا باپ ختن کا ایک  مال دار سوداگر تھا اور ہر ملک میں چکر کاٹتا تھا۔ ایک دن اس نے بھی اس کے ساتھ تجارت کے لیے گجرات کا سفر کیا۔ راستہ میں ایک جگہ رکے جہاں وہ ایک زاہد کی لڑکی پر عاشق ہو گیا۔ آخر زاہد کی بیٹی  نے اس سے نظریں چار کیں اور ان کا عشق پروان چڑھا۔ زاہد کو کسی نے خبر کر دی، اس نے اپنی آبرو جاتی دیکھ کر ایک منتر پڑھ کر ہماری صورت تبدیل کر دی۔ اس طرح  میں بلبل بن گیا اور زاہد کی بیٹی گل بن گئی۔ اسی وجہ سے وہ پریشانی میں مبتلا رہتا ہے۔

یہ سن کر بادشاہ کو اپنے خزانے میں رکھی ہوئی انگوٹھی کی یاد آتی ہے جس کو اس چیز پر  پھیرنے سے  اس کی اصلی صورت  واپس  آ جاتی ہے۔ بادشاہ ان دونوں پر انگوٹھی پھیرتا ہے تو ان دونوں کی صورت تبدیل ہو کر اصلی صورت بن جاتی ہے اور دونوں سوداگر کے لڑکے اور زاہد کی بیٹی کو ایک محل میں رکھ دیتے ہیں۔ اور ان دونوں کی شادی کر دیتے ہیں۔

بادشاہ سوداگر کے بیٹے کو دربار میں رکھ لیتا ہے۔ وہ ہر روز بادشاہ کا دل بہلانے کے لئے قصے سناتا ہے۔ ایک دن بادشاہ کی فرمائش پر اس نے ایک عشقیہ قصہ سنا یا۔بادشاہ ایک روز دربار میں ہی تھا کہ چین سے نقاش کے آنے کی خبر سن کر بڑا اداس ہو جاتا ہے اور غم خلط کرنے کے لیے ندیم ایک حکایت بیان کرتا ہے کہ ایک بادشاہ کو جوگیوں سے بڑا پیار تھا۔ دور دراز سے جو گی اس کے پاس آتے تھے۔ ایک دن بادشاہ کی ملاقات ایک ایسے جوگی سے ہوتی ہے جو نقل روح کا منتر جانتا ہے۔ بادشاہ نے یہ منتر جوگی سے سیکھ لیا جس سے وہ کسی اور کے جسم میں جاسکتا تھا اور واپس اپنے جسم میں بھی آسکتا تھا۔ ایک روز بادشاہ نے کسی بات پر مجبور ہو کر یہ منتر اپنے وزیر کو سکھلا دیا جس پر بادشاہ کو بہت پریشان ہو نا پڑا۔

ایک دن بادشاہ نے کسی مردہ ہرن کو دیکھ کر اپنی روح کو اس میں ڈال دی اور جنگل میں پھرنے لگا تاکہ ہرنوں کے ساتھ پھر کر جنگلوں کی سیر کر سکے۔ اب وزیر نے فوراً اپنی روح بادشاہ کے خالی جسم میں ڈال کر اپنے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ وزیر بادشاہ بن گیا اور بادشاہ بن کر بادشاہ کی بیوی ’’ رانی ستونتی‘‘ کے پاس چلا گیا۔ بادشاہ کی رانی ستونتی نے جب اس کے چال چلن نئے دیکھے تو اس کو شک ہو گیا ۔ جب کبھی وہ رانی سے محبت کا اظہار کرتا تو وہ اسے ٹال دیتی۔

بادشاہ جب وہاں آیا تو اپنے جسم کی جگہ خالی دیکھ کر بڑا اداس ہو ا اور ایک مردہ طوطے کو دیکھ کر اس کے جسم میں اپنی روح ڈال دی ۔پھر وہ ایک شکاری کے  ہاتھ لگ گیا ۔ شکاری طوطے کو بادشاہ (وزیر) کے  ہاتھ فروخت کر دیتا ہے ۔ ایک روز طوطے (بادشاہ) کی ملاقات رانی ستونتی سے ہوتی ہے۔ طوطا رانی کو سارا ماجرہ سناتا ہے۔ رانی نے طوطے کے کہنے کے مطابق عمل کیا۔ رانی نے نقلی بادشاہ کو مجبور کر کے جب مری ہوئی قمری اس کے پاس رکھی اور اس میں اس کی روح ڈالنے کے لیے کہا تو طوطے نے فورا ًاصلی بادشاہ کا جسم خالی دیکھ کر اپنی روح اس میں داخل کر دی اور قمری کی ٹانگیں چیر کر اسے پھینک دیا اور سلیمان کی طرح پھر تخت پر بیٹھ گیا۔ دنیا کو خوشی نصیب ہوئی۔اتنے میں ایک وزیر آتا ہے اور بادشاہ کو یوں قصہ سناتا ہے۔

قدیم زمانے میں ملک عجم کے بادشاہ کی بیٹی بڑی قبول صورت تھی۔ اس کا نام سمن بر تھا۔ مصر کا شہزادہ ہمایوں اس کے حسن کی تعریف سن کر اس پر عاشق ہو جاتا ہے اور جب عشق کا سوز دل میں ضبط نہ ہو سکا تو وہ ایک روز سمن بر کے محل کے پاس جاتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر بے قرار ہو جاتے ہیں۔ پہلے تو شہزادی اس پر یقین نہ کرتی تھی لیکن جب شہزادی نے  اس کے عشق کی آہ و زاری سُنی تو اس کو اپنا سچا عاشق مان گئی۔ دونوں نے آپس میں مشورہ کیا اور گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔

گنگا کے کنارے ایک محل میں قیام پذیر ہوئے۔ اس محل میں ایک مالن رہتی تھی وہ بادشاہ کے پاس پھول لے کر جایا کرتی تھی اور ہر روز سمن بر کے پاس بھی پھول  لے کر آیا کرتی تھی۔ ایک دن مالن سمن بر کے ہاتھوں کا گوندھا ہوا ہار لے کر بادشاہ کے پاس لے گئی۔ بادشاہ وہ ہار دیکھ کر بہت حیران ہوا اور مالن سے پوچھا کہ یہ ہار کس نے گوندا ہے۔

بادشاہ کو غصے میں دیکھ کر مالن نے ہمایوں اور سمن بر کے حسن کی تعریف کا سب حال بادشاہ کو بیان کر دیا۔ بادشاہ یہ سن کر سمن بر پر عاشق ہو گیا اور اپنی بادشاہی کی پر واہ بھی نہ کرتے ہوئے سمن بر کو پانا چاہا۔بادشاہ نے اپنے وزیر سے مل کر  منصوبہ تیار کیا ۔ پہلے تو وزیر نے بادشاہ کو سمجھایا کہ یہ بات بادشاہ کے شایان شان نہیں لیکن پھر اُس کو مشورہ دیا جس کے تحت انھوں نے ایک دن  ہمایوں کو اپنے پاس بلایا  اور اسے خوب شراب پلائی۔انھوں نے شرط  لگائی کہ اگر شطرنج میں ہمایوں بادشاہ سے ہار گیا تو دریا سے کنول لے کر آئے گا۔ اور شرط کے مطابق  ہمایوں کو مجبوراً دریا میں کودنا پڑتا ہے۔ وہ ایک مچھلی کے ہاتھ لگ جاتا ہے۔ بادشاہ نے اپنے وزیر کو سمن بر کے پاس بھیجا مگر وہ ناکام رہا۔ اس نے بہت سمجھایا کہ دنیا میں نام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ جو چیز دنیا میں موجود ہے وہ آخر ختم ہو جائے گی اور کہا کہ بادشاہ تیری محبت میں صادق ہے۔ وہ تیرے عشق میں دیوانہ ہے لیکن اس پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اب اسے یقین ہو گیا کہ ہمایوں کو انھوں نے ہی مروایا ہے۔

ادھر مصر کا بادشاہ اپنے بیٹے کی جدائی میں تڑپ رہا  تھا ۔ اس کے مرنے کی خبر سن کر غمزدہ ہو گیا   اور سندھ پر حملہ کرنے کی تیاری کرتا ہے۔ بڑی گھمسان کی  جنگ ہوئی۔ آخر مصر کے بادشاہ کی فتح ہوئی اور سندھ کے بادشاہ کو گرفتار کر لیا اور شہزادے کے بارے میں پوچھا۔

سندھ کا بادشاہ دریا میں مچھلی چھوڑتا ہے جس پر طلسم لکھے ہوئے تھے۔ اس کو مچھلی سے یہ پتہ چلا کہ شہزادہ ابھی زندہ ہے اور پریوں کی قید میں ہے۔ ہمایوں کا باپ جو مصر کا بادشاہ تھا جب اسے شہزادے کے زندہ رہنے کا حال معلوم ہوا تو وہ اپنے ملک کو روانہ ہو گیا۔

اب سمن بر نے شہزادے کے زندہ رہنے کی خبر سن کر مصر کا ارادہ کیا۔ راستے میں طرح طرح کی مصیبتیں برداشت کرنے کے بعد وہ ایک جزیرے میں پہنچتی ہے جو کہ جنت کا باغ ہوتا ہے۔ وہ یہاں ایک محل میں رہتی ہے۔وہاں ایک بادشاہ تھا جس کے حکم سے جن اور پریاں کام کرتی تھیں۔ اس کی ایک بیٹی تھی جس کا نام ملک آرا تھا۔ ملک آرا ایک دن سیر کو نکلتی ہے اور اس محل میں سمن بر کو دیکھ کر بہت خوش ہوتی ہے۔ سمن بر نے اس سے اپنے دل کا حال سنایا۔ ملک آرا نے جب اس کی درد بھری کہانی سنی تو وہ اسے اپنے ساتھ لے آئی۔ وہاں اسے ایک محل میں رکھا۔ شہزادہ ہمایوں جو پریوں کی قید میں تھا ملک آرا نے اس کی کھوج کے لئے پریوں کے بادشاہ کے پاس ایک خط بھیجا اس پر شہزادے کی کھوج ہوئی۔ بادشاہ نے شہزادے کو بڑی محبت سے اپنے پاس بٹھایا اور حال پوچھا۔ شہزادے نے سارا ماجرا کہہ سنایا۔ بادشاہ اس پر بہت خوش ہوا اور اسے دلاسہ دے کر پریوں کے ساتھ ملک آرا کو روانہ کیا۔

ملک آرا کو شہزادے کی خبر ہوئی۔ وہ سن کر خود اسے لینے گئی۔ ایک دن اچھی سی گھڑی دیکھ کر دونوں کو بلایا اور حفاظت کے ساتھ دونوں کو اپنے ملک مصر کو روانہ کیا۔ شہر میں پہنچتے ہی لوگوں نے بڑی خوشیاں منائیں۔ وزیروں نے خدمت بجالائی۔ شہزادہ کو بٹھا کر اس کی دُہائی  پھرائی گئی۔ ہر طرف خوشی کے شادیانے بجنے لگے۔

زاہد پارسا  نے یہ قصہ بادشاہ سے بیان کرکے بہت کچھ انعام و اکرام پایا اور دین و دنیا دونوں میں سُر خرو ہوا۔

پڑھیں ابنِ نشاطی کی مثنوی :پھول بن

A classical long Urdu poem name "Phool Ban" by classical Urdu Poet Ibn e Nishati
مثنوی۔پھول بن۔ابن نشاطی

یہ بھی پڑھیں۔۔۔

ہمارے بارے میں

ذوقِ ادب  ایک آن لائن ادبی دنیا ہے جہاں اردو کے دلدادہ افراد کو نثر و نظم کی مختلف اصناف، کلاسیکی و جدید ادب، تنقید، تحقیق، اور تخلیقی تحریریں پڑھنے اور لکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد اردو زبان و ادب کے فروغ، نئی نسل میں مطالعہ کا ذوق بیدار کرنے اور قاری و قلم کار کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنا ہے۔

Contact

+923214621836

lorelsara0@gmail.com

Scroll to Top