میر حسن دہلوی کی مثنوی نگاری اور حالاتِ زندگی

اردو ادب کے کلاسیکی شعرا میں میر غلام حسن جن کا تخلص حسنؔ تھا، ایک نمایاں اور منفرد مقام رکھتے ہیں۔ وہ قدیم دہلی کے محلہ سید واڑہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام میر غلام حسین ضاحکؔ تھا جو خود بھی شاعر تھے۔ میر حسنؔ نے اپنی ابتدائی تعلیم و تربیت دہلی میں حاصل کی، جہاں وہ پہلے اپنے والد کے زیرِ تربیت رہے، بعد ازاں خواجہ میر دردؔ جیسے ممتاز صوفی شاعر کے شاگرد بنے۔ لکھنؤ آنے کے بعد ان کی شعری تربیت میر ضیاء الدین ضیاؔ کے زیرِ اثر ہوئی۔

دہلی سے فیض آباد کی طرف ان کی ہجرت دراصل اس وقت کے سیاسی اور تہذیبی تغیرات کا نتیجہ تھی۔ جب نواب آصف الدولہ نے اہلِ علم و فن کی سرپرستی کو فروغ دیا تو دہلی کے بہت سے ممتاز شعرا فیض آباد اور لکھنؤ کا رخ کرنے لگے۔ میر حسنؔ بھی انھی میں شامل تھے۔ لکھنؤ پہنچ کر ان کے تخلیقی جوہر نکھر کر سامنے آئے اور وہ جلد ہی اس دبستانِ شاعری کے معتبر رکن بن گئے۔

میر حسنؔ کی شخصیت نہ صرف فنونِ لطیفہ سے آشنا تھی بل کہ ان کی ظرافت، خوش مزاجی اور شگفتہ طبیعت نے بھی انہیں اہلِ لکھنؤ میں مقبول بنا دیا۔ ظاہری وضع قطع کے لحاظ سے وہ درمیانے قد، گوری رنگت اور نہایت سلیقہ شعار شخصیت کے مالک تھے۔ سر پر بانکی ٹوپی اور کمر سے دوپٹہ باندھنا ان کی وضع داری کا حصہ تھا۔ ۱۷۸۶ءمیں ان کا انتقال لکھنؤ میں ہوا اور انھیں مفتی گنج میں نواب قاسم علی خاں کے باغ کے عقب میں سپردِ خاک کیا گیا۔

میر حسنؔ کا خانوادہ اردو مرثیہ نگاری کی روایت میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ان کے فرزندوں میں میر خلیقؔ اور میر خلقؔ نے مرثیہ گوئی میں شہرت حاصل کی، مگر اس خانوادے کو دوام میر انیسؔ کے ذریعے حاصل ہوا، جنھوں نے مرثیہ گوئی کو ایک فنِ کامل کی حیثیت عطا کی۔

میر حسنؔ کی تصانیف میں ایک دیوانِ شاعری، ایک تذکرۂ شعرائے اردو اور متعدد مثنویاں شامل ہیں۔ ان کی سب سے مشہور مثنوی “سحرالبیان” ہے جو ان کی ادبی زندگی کا شاہکار شمار کی جاتی ہے۔ یہ مثنوی ۱۷۸۴ءمیں ان کے انتقال سے تقریباً تین سال قبل مکمل ہوئی۔ بعد ازاں جان گل کرسٹ کی خواہش پر میر بہادر علی حسینی نے اسے ۱۸۰۲ء میں نثر کے قالب میں ڈھالا، اور ۱۸۰۳ءمیں یہ مثنوی پہلی مرتبہ فورٹ ولیم کالج، کلکتہ سے شائع ہوئی۔ اس کی غیر معمولی مقبولیت کے باعث ۱۸۰۵ءمیں اس کا دوسرا ایڈیشن بھی شائع ہوا۔ بعدازاں اس کے انگریزی، ہندی اور پشتو زبانوں میں تراجم ہوئے، جن میں ملا احمد تراہی کا پشتو منظوم ترجمہ (۱۸۸۰ء) خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔

ادبی اعتبار سے میر حسنؔ نے غزل، قصیدہ، مرثیہ اور مثنوی ،تمام اصناف میں طبع آزمائی کی، تاہم ان کی اصل شہرت مثنوی نگاری سے وابستہ ہے۔ ان کی شاعری میں روانی، فصاحت، محاورہ بندی اور فکری توازن نمایاں ہے۔ اگرچہ ان کی غزلوں میں بھی شعریت کا حسن موجود ہے، لیکن مثنویوں میں ان کے تخلیقی جوہر اپنی معراج کو پہنچے۔ “سحرالبیان” نہ صرف میر حسنؔ کی فنی بلوغت کا مظہر ہے بل کہ اردو مثنوی کو کلاسیکی وقار بخشنے والی ایک ایسی تخلیق ہے جس نے آنے والے شعرا کے لیے اسلوب، موضوع اور ساخت کے نئے راستے متعین کیے۔

اردو شاعری میں میر حسن کا درجہ بہت بلند ہے۔ انھوں نے مرثیے ، قصیدے ،غزلیں اور مثنویاں لکھی ہیں۔ غزل میں بھی اُن کا درجہ خاصا بلند ہے۔کلام میں روانی اور بے ساختگی بہت ہے مگر ان اصناف میں سب سے زیادہ شہرت اور مقبولیت  مثنوی نگاری میں ہوئی۔ مثنویاں تو کئی لکھیں مگر ان میں سب سے زیادہ شہرت صرف ’’ سحر البیان ‘‘ کو نصیب ہوئی جو  ان کے آخری دور کی یادگار ہے۔ اور ان کا قابل قدر کارنامہ ہے۔

میرحسن نے مثنوی’’ سحر البیان ‘‘میں شہزادہ بے نظیر اور شہزادی بدر منیر کا قصہ نظم کیا ہے۔ یہ  مثنوی اردو ادب میں کلا سیک  کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کا طرز بیان نہایت صاف اور  سلجھا ہوا ہے ۔ زبان بھی سلیس اور با محاورہ استعمال کی ہے۔ مثنوی کے اہم کردار ’’بے نظیر، بدر منیر ،نجم النساء، ماہ رخ اور فیروز  شاہ ‘‘ہیں۔ میر حسن نے  مثنوی میں اپنی مصورانہ شاعری کا کمال اس انداز سے پیش کیا ہے کہ واقعات کی تصویر ہو بہو سامنے آجاتی ہے۔

اردو میں بے شمار شنویاں لکھی گئی ہیں مگر میر حسن کی مثنوی کا اگر کسی سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے تو وہ پنڈت دیا شنکر نسیم کی مثنوی’’ گلزار نسیم ‘‘ہے۔ لیکن سحر البیان کی زبان میں سلاست، روانی اور بے ساختگی ہے جو  دیا شنکر نسیم کی  مثنوی میں نہیں  ہے۔ نسیم کی مثنوی میں نازک خیالی اور معنی آفرینی ہے ۔

 اس کے بہت سے  شعر ضرب المثل بن گئے ہیں ۔ الفاظ میں سادگی اور  سلاست کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے ۔ چند شعر ملاحظہ ہوں ۔

سرا عیش دوراں دکھاتا نہیں

گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

کٹی رات حرف و حکایات میں

سحر ہو گئی بات کی بات میں

کسی پاس دولت یہ رہتی  نہیں

 سدا نا ؤ کا غذ کی بہتی نہیں

درختوں کی کچھ چھاؤں اورکچھ  وہ  دھوپ

وہ دھانوں کی سبزی و ہ سرسوں کا روپ

اب دیوانی سی ہر سمت پھرنے لگی

درختوں میں جا جا کے گرنے لگی

چین پر نہ مائل نہ گل پر نظر

وہی سامنے صورت آٹھوں پہر

میر حسنؔ کا عہد اور مثنوی "سحرالبیان" کا تاریخی و ادبی پس منظر

ہندوستان میں وہ زمانہ جس میں میر حسنؔ نے اپنی مثنوی “سحرالبیان” تصنیف کی، موجودہ دور سے نہایت مختلف اور پیچیدہ تاریخی حالات کا حامل تھا۔ اٹھارہویں صدی کے اواخر میں جاگیردارانہ نظام زوال پذیر ہو چکا تھا۔ سلطنتِ دہلی کی کمزوری اپنی انتہاؤں کو چھو رہی تھی اور حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ اب اس کے استحکام کی کوئی صورت باقی نہ تھی۔ سیاسی انتشار اور سماجی ابتری نے پورے نظامِ زندگی کو انحطاط کی گہرائیوں میں دھکیل دیا تھا۔
ایسے میں یہ توقع رکھنا کہ محض خاندانوں کی تبدیلی یا تخت نشینوں کے آنے جانے سے زوال کی یہ لہر تھم جائے گی، ایک خوش فہمی سے زیادہ نہ تھا۔ تاریخی نقطۂ نظر سے لکھنؤ کی حالت بھی مختلف نہ تھی؛ البتہ وہاں کے نوابین، خصوصاً شجاع الدولہ اور آصف الدولہ نے اپنے علم پرور، فیاض اور اہلِ ذوق مزاج کے باعث شعر و ادب، فنونِ لطیفہ، اور تہذیبی اقدار کو عارضی سہارا ضرور دیا۔ لیکن یہ سرپرستی اس عظیم تہذیبی زوال کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکی جو پورے برصغیر کو اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا۔

دہلی صدیوں کے عروج کے بعد اب پستی کی جانب مائل تھی۔ سیاسی و تمدنی مرکز کے طور پر اس کا اعتماد متزلزل ہو چکا تھا، اور ذہنی و فکری نگاہیں یورپ کے نئے ابھرتے ہوئے مرکز کی جانب متوجہ ہونے لگی تھیں، جہاں سے علم، سائنس، اور فکر کے نئے امکانات جنم لے رہے تھے۔ ایسے میں دہلی کے اہلِ قلم، شعرا اور فن کاروں نے اپنا رخ آہستہ آہستہ لکھنؤ کی طرف موڑ لیا،وہ شہر جو دولت، قدر شناسی اور علم دوستی کے اعتبار سے ایک نئے تہذیبی محور کی صورت اختیار کر چکا تھا۔

اس عبوری دور کے پس منظر میں میر حسنؔ نے “سحرالبیان” جیسی مثنوی تخلیق کی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستانی ادب میں حقیقت نگاری کا شعور ابھی ابتدائی صورت میں تھا۔ اس وقت کی تخلیقات زیادہ تر علامتی، مافوق الفطرت اور کہانیاتی فضا میں بسر کرتی تھیں۔ سادہ دل عوام ان قصوں کو محض تفریح نہیں بل کہ حقیقت کا آئینہ سمجھ کر قبول کرتے تھے۔ کہانیاں لکھی جاتی تھیں، لیکن ان کا مقصد اخلاقی یا جذباتی اثر قائم کرنا ہوتا، حقیقت نگاری نہیں۔

“سحرالبیان” بھی اسی داستانی روایت کا تسلسل ہے۔ اس میں میر حسنؔ نے ایک ایسی کہانی کو بنیاد بنایا ہے جو اگرچہ اپنی جزئیات میں کہیں اور بعینہٖ نہیں ملتی، مگر اس کے تمام عناصر قدیم روایتی قصوں سے ماخوذ ہیں۔ بادشاہ کا تخت و تاج کا وارث نہ ہونا، اس کا گوشہ نشین ہو جانا، نجومیوں کی پیشین گوئیاں، پری کا شہزادے پر عاشق ہونا، طلسمی گھوڑے کی سیر، خواب میں راز کا منکشف ہونا، اور وزیرزادی کا وفاداری و تدبیر سے مشکلیں حل کرنا ،یہ سب عناصر مشرقی داستان گوئی کے مروجہ سانچوں سے لیے گئے ہیں۔

تاہم میر حسنؔ کی ادبی بصیرت اور تخلیقی ہنر نے ان فرسودہ عناصر میں نئی روح پھونک دی۔ ان کی مثنوی میں قصے کی ترتیب، مکالموں کا توازن، منظر نگاری، اور جذباتی کشمکش اس درجہ مؤثر ہے کہ یہ کہانی پرانی ہونے کے باوجود تازگی کی خوشبو رکھتی ہے۔ میر حسنؔ نے روایتی قصے کے قالب میں اپنے عہد کی معاشرت، طبقاتی ساخت، اور انسانی جذبات کی عکاسی اس انداز سے کی کہ یہ مثنوی محض داستان نہیں بل کہ اپنے زمانے کے تمدنی شعور کا عکاس ادب پارہ بن گئی۔

یوں “سحرالبیان” میں میر حسنؔ نے یہ ثابت کر دیا کہ ادبی تخلیق کے لیے محض موضوع کی جدت نہیں بل کہ اسلوب کی جدت، اظہار کی تازگی، اور مشاہدے کی گہرائی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے ان کی یہ مثنوی محض ایک عشقیہ داستان نہیں بل کہ اردو ادب میں فکری بلوغت اور ادبی مہارت کی مثال سمجھی جاتی ہے۔

سو میں اک کہانی بنا کر نئی

دُر فکر سے کوند لڑیاں کئی

لے آیا ہوں خدمت میں بہر نیاز

 یہ اُمید ہے پھر کہ ہوں سر فراز

میر حسنؔ نے اس کہانی پر کافی وقت صرف کیا ہے۔ مواد اور صورت دونوں کے ترتیب دینے میں عمر گزاری ہے۔ اس لیے کہانی نئی ہو یا پرانی میر حسن کے قلم نے اسے زندہ بنا دیا ہے۔ وہ تمام عیوب جو مثالیت ، معیار پرستی اور مافوق الفطرت کی آمیزش سے پیدا ہوتے ہیں حسن بیان میں کھو جاتے ہیں ۔

خواصوں کا اور لونڈیوں کا ہجوم

محل کی چہلیں وہ آپس کی دھوم

تکلف سے پہنے پھریں سب لباس

رہیں رات دن شاہزادے کے پاس

کنیز ان مہرو کی ہر سمت ریل

چنبیلی کوئی اور کوئی رائے بیل

رنگیلی کوئی اور کوئی  خام روپ

کوئی چت لگن اور کوئی کا روپ

 کوئی کیتکی اور کوئی گلاب

کوئی مہر تن اور کوئی ماہتاب

“سحر البیان” پر غور کرتے ہوئے اسے نظر انداز نہ کرنا چاہئیے کہ اس میں کسی معاشرت کا نقشہ پیش کیا گیا ہے، اس لیے اس کہانی میں جو قابل ذکر کر دار آتے ہیں و ہ عوام کے نمایندے نہیں ہیں بل کہ و ہی لوگ ہیں جن کا ذکر کہانی میں زیب دیتا ہے۔ جو بہترین ہیں اور قدرت کی تمام نعمتیں جن کے لیے ہیں ۔ ان کرداروں کا تعلق خاص طبقے سے ہے لیکن ان میں عمومیت پائی جاتی ہے۔ چناں چہ آغاز داستان کا پہلا ہی شعر ” کسی “اور” کوئی” کے لفظوں کو جگہ دیتا ہے ۔

کسی شہر میں تھا کوئی بادشاہ

کہ تھا وہ شہنشاہ گیتی پناه

سحرالبیان کا تحقیقی و تنقیدی خلاصہ

میر حسن کی مثنوی “سحرالبیان” اردو ادب کی کلاسیکی مثنویات میں وہ بلند پایہ تخلیق ہے جس نے نہ صرف اردو شاعری میں قصہ گوئی کی ایک نئی جہت پیدا کی بل کہ اس دور کے سماجی، اخلاقی اور جمالیاتی ذوق کا بھی آئینہ بن کر سامنے آئی۔ اس مثنوی کا مرکزی پلاٹ اگرچہ محض ایک عشقیہ داستان پر مبنی ہے، تاہم اس کے اندر انسانی جذبات، تقدیر کے اثرات، عقل و احساس کی کشمکش، اور حسن و عشق کے فلسفیانہ پہلوؤں کو نہایت باریک بینی سے سمویا گیا ہے۔

کہانی کا آغاز ایک ایسے بادشاہ سے ہوتا ہے جو اقتدار و ثروت کے باوجود اولاد کی نعمت سے محروم ہے۔ نجومیوں کی پیش گوئی کے مطابق بادشاہ کے ہاں ایک فرزند پیدا ہونا تھا جو بارہویں برس میں آفات و مشکلات سے دوچار ہوگا۔ وقت گزرنے پر شہزادہ بے نظیر پیدا ہوتا ہے اور اس کی پیدائش پر ملک بھر میں جشن منایا جاتا ہے۔ مگر قسمت اپنا رنگ دکھاتی ہے اورماہِ رُخ پری شہزادے کو دیکھ کر اس پر فریفتہ ہو جاتی ہے اور اُسے پرستان لے جاتی ہے۔ یہاں میر حسن نے تقدیر کے عنصر اور انسانی بےبسی کو بڑی فنی مہارت سے پیش کیا ہے۔

پری کی تمام کوششوں کے باوجود شہزادہ بے نظیر اپنے والدین اور وطن کی یاد سے غمزدہ رہتا ہے۔ اسے سیر و سیاحت کی اجازت ملتی ہے اور ایک دن وہ شہزادی بدر منیر کو دیکھ کر عشق میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ دونوں کے درمیان محبت پروان چڑھتی ہے، مگر جب ماہ رخ پری کو اس راز کا علم ہوتا ہے تو وہ حسد میں آکر بے نظیر کو قیدِ قاف میں ڈال دیتی ہے۔ میر حسن نے یہاں عورت کے جذباتِ رقابت اور عشق کی جلن کو نہایت نفسیاتی گہرائی کے ساتھ پیش کیا ہے۔

ادھر بدر منیر، جدائی کے صدمے میں تڑپتی رہتی ہے اور خواب میں اپنے محبوب کو قید میں دیکھ کر وزیرزادی نجم النسا کو راز بتاتی ہے۔ نجم النسا کا کردار اس مثنوی میں عقل و تدبیر، وفا اور ایثار کی علامت ہے۔ وہ جوگن بن کر تلاش میں نکلتی ہے اور جنات کے شہزادے فیروز شاہ کی مدد سے بے نظیر کو قید سے آزاد کراتی ہے۔ انجام میں دونوں جوڑوں ،بے نظیر و بدر منیر، نجم النسا و فیروز شاہ، کا وصال ہوتا ہے اور کہانی خیر و خوشی پر ختم ہوتی ہے۔

تنقیدی جائزہ

سحرالبیان محض ایک عشقیہ داستان نہیں بل کہ انسانی جذبات کی نفسیاتی تصویریں پیش کرنے والی مثنوی ہے۔ میر حسن نے اس میں فارسی مثنوی کی رومانیت کو برصغیر کی تہذیبی فضا کے ساتھ ہم آہنگ کر کے اردو شاعری کو ایک نیا بیانیاتی اسلوب دیا۔ اس مثنوی کی زبان نہایت شستہ، نرم اور محاورہ آشنا ہے۔ تشبیہات و استعارات کی کثرت اسے شاعرانہ حسن عطا کرتی ہے۔

کردار نگاری میں میر حسن نے تضادِ جذبات (عشق و عقل، جذبہ و تدبیر) کو نمایاں کیا ہے۔ بے نظیر اور بدر منیر انسانی محبت و وفا کے پیکر ہیں، جب کہ ماہ رخ پری اور فیروز شاہ ماورائی عناصر کے ذریعے غیر انسانی قوتوں کی مداخلت کا استعارہ بن جاتے ہیں۔

ادبی اعتبار سے یہ مثنوی اردو میں قصہ گوئی کی وہ بنیاد ہے جس نے بعد میں آنے والے شعرا کو نظیر اکبرآبادی، میر انیس اور داغ دہلوی تک گہرا اثر دیا۔ میر حسن کی تخلیقی بصیرت نے داستانی روایت کو شاعرانہ قالب میں ڈھال کر اردو مثنوی کو کلاسیکی کمال تک پہنچایا۔

مثنوی سحر البیان

Urdu long classical poem name "Seher ul Bian" by Meer Hasan Dehelvi compiled by Rasheed Hasan Khan
دیوان میر حسن دہلوی
Book or Urdu classical poetry name "Deewan e Meer Hasan" by Meer Hasan Dehelvi
دیوان میر حسن دہلوی

دیوان میر حسن دہلوی

کلاسیکی ادب کا مطالعہ کریں

ہمارے بارے میں

ذوقِ ادب  ایک آن لائن ادبی دنیا ہے جہاں اردو کے دلدادہ افراد کو نثر و نظم کی مختلف اصناف، کلاسیکی و جدید ادب، تنقید، تحقیق، اور تخلیقی تحریریں پڑھنے اور لکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد اردو زبان و ادب کے فروغ، نئی نسل میں مطالعہ کا ذوق بیدار کرنے اور قاری و قلم کار کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنا ہے۔

Contact

+923214621836

lorelsara0@gmail.com

Scroll to Top