احمد ہمیش کو پاکستان میں نثری نظم کا پہلا شاعر تصور کیا جاتا ہے۔ احمد ہمیش نے ۱۹۶۰ءمیں ہندی شاعری کے زیر اثر اردو…
ملک حجاز کے ناموافق حالات سے تنگ آکر ایک خاندان ہجرت کرکے دکن پہنچا اور کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد احمد آباد آگیا۔ اس خاندان کے کچھ افراد وہیں رہ گئے جب کہ کچھ ہجرت کر کے تلاشِ روز کار کے سلسلے میں مغلوں کے دورِ حکومت میں اکبر آباد آگئے۔یہاں کی آب و ہوا انھیں راس نہ آئی اور اُن میں صرف ایک لڑکا ،میرا کے دادا ،بچا۔انھوں نے فوج میں ملازمت کی اور پچاس سال کی عمر پائی۔ان کے دو لڑکے تھے۔ایک جوانی میں ہی خلد دماغ کے باعث وفات پاگئے جب کہ دوسرے بیٹے محمد علی نے ،شاہ کلیم اللہ اکبر آبادی سے علومِ متداولہ کی تحصیل کرکے درویشی اختیار کرلی اور اپنے زہد و تقویٰ کی بنا پر علی متقی کہلائے۔ان کی پہلی شادی سراج الدین علی خان آرزو کی بڑی بہن سے ہوئی جن سے محمد حسن پیدا ہوئے اور دوسری بیوی سے دو بیٹے محمد تقی اور محمد رضی اور ایک بیٹی پیدا ہوئے۔محمد تقی بڑے ہوکر خُدائے سخن میر تقی میر کہلائے۔
محمد تقی میر (۱۷۲۲ء۔۲۳ء۔ستمبر ۱۸۱۰ء) کی ولادت کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔لیکن میر کے بھتیجے محمد محسن نے جو عبارت ’’دیوان چہارم‘‘ پر تحریر کی ہے اس کے مطابق’’ میر ۲۰ شعبان ۱۲۲۵ھ کو براز جمعہ بوقت شام لکھنو کے محلہ میں نوّے سال کی عمر پوری کرکے انتقال کر گئے‘‘۔ اور یہ کہ میر صاحب اکھاڑہ بھیم قبرستان میں اپنے اقربا کے قریب مدفون ہوئے۔(۱)
میر کا زمانہ برِ عظیم کی تاریخ میں انتشار و خلفشار کا دور تھا۔ معاشرے تہذیبی و فکری رودو بدل سے معاشرت تہذیبی زوال کا شکار تھی۔میر تقی میر کے زمانے کا عہد سیاسی، سماجی اور تہذیبی زوال کا زمانہ تھا۔ دہلی کی چمکتی ہوئی گلیاں اجڑ چکی تھیں، سلطنتِ مغلیہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی، درباروں کی رونق ماند پڑ گئی تھی اور اہلِ علم و فن معاشی تنگی اور بے قدری کا شکار تھے۔ اقدار بدل رہی تھیں، عشق و ادب کی نرمیوں کی جگہ دنیا داری، خود غرضی اور مفاد پرستی نے لے لی تھی۔ میر کے اشعار میں اسی ٹوٹے ہوئے معاشرے کی صدائیں، دل شکستگی، اجڑتے ہوئے شہر اور بکھرتی ہوئی انسانی قدریں ایک دردناک موسیقی کی صورت سنائی دیتی ہیں۔مختصراً، یہ وہ دور تھا جب تہذیب کے چراغ بجھ رہے تھے، اور میر کے شعر ان بجھتے چراغوں کی آخری روشنی بن گئے۔
میر نے اپنے والد کی وفات (دسمبر ۱۷۳۳ء) کے بعد اپنے چھوٹے بھائی ،محمد رضی ، کو گھر بٹھا کر اطرافِ شہر میں روزگار کی تلاش کی اور ۱۷۳۴ء۔۳۵ء میں شاہجہان آباد کے لیے روانہ ہوئے۔کچھ عرصہ بعد دہلی میں خواجہ محمد باسط سے ان کی ملاقات ہوئی اور انھوں نے میر کو اپنے چچا صعصام الدولہ کی خدمت میں پیش کیا۔انھوں نے ایک روپیہ روز وظیفہ مقر کردیا اور یہ وظیفہ میر کو ۱۷۳۹ء تک ملتا رہا۔
اس وقت دلہ میں نادر شاہ نے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ جب وہ یہاں سے روانہ ہوا تو میر ناچار اپریل ۱۷۳۹ء کو کو دوسری بار دلی اپنے سوتیلے ماموں سراج الدین علی خان آرزا کے پاس ٹھہرے۔اس وقت میر سترہ سال کے تھے اور وہاں سات سال رہے پھر ان سے ناراض ہو کر ریاعت خاں کے متوسل ہوئے تو پہلی بار ۱۷۴۷ء۔۴۸ء میں ،احمد شاہ ابدالی کی افواج کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے میر بھی رعایت خاں کے ساتھ تھے۔
میر تقی میر نے خان آرزو سے زانوئے تلمذ بھی کیا ۔میر نے ۱۷۴۰ء۔۴۱ء میں حالتِ جنون میں خان آرزو کے مشورے سے ریختہ گوئی شروع کی۔میر ۱۷۳۹ء میں دلی آئے تھے اور کچھ عرصے بعد جنون کے مرض، جو کہ ان کا خندانی مرض تھا، میں مبتلا ہو گئے۔ ان کے چچا اسی بیماری میں فوت ہوئے۔میر کو صحت یاب ہونے میں ایک سال سے زیادہ کا عرصہ لگا ۔ اس کا ذکر میر نے ’’ذکرِ میر‘‘ میں کیا ہے اور اس موضوع پر ایک مثنوی ’’خواب و خیال‘‘ بھی لکھی۔میر کی شاعری کا آغاز ان کی بیماری کے دوران ہوا،اور بیماری کے بعد تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔
کچھ عرصہ بعد میر نے خواجہ سرا نواب بہادر جاوید خاں کی ملازمت اختیار کرلی۔میر کا یہ زمانہ قدرے آرام سے گزرا اور اسی زمانے میں میر نے اپنا تذکرہ ’’نکات الشعرا‘‘ مکمل کیا۔۱۷۵۳ء۔۵۴ء میں مرہٹوں نے پھر دلی کو تاراج کیا اور عماد الملک نے احمد شاہ کی آنکھوں میں سلائیوں بھیر کر اندھا کردیا۔ میر کا یہ شعر اسی واقعے کی طرف اشارہ کرتا ہے
شہاں کہ کحلِ جواہر تھی خاکِ پا جن کی
انھی کی آنکھوں میں پھرتے سلائیاں دیکھیں
میر اس سفر میں احمد شاہ کے ہم راہ تھے اور واپس آ کر گوشہ نشین ہو گئے۔۱۷۵۷ء میں احمد شاہ ابدالی نے دلی پر پھر حملہ کیا تو میر اپنے اہل و عیال کے ساتھ دلی سے نکل کھڑے ہوئے۔راستے میں راجہ جگل کشور کی بیوی انھیں اپنے ساتھ برسانہ لے گئیں وہاں سے میر کھمبیر پہنچے اور راجہ ناکر مل سے وظیفہ حاصل کیا جو ۱۳ سال قائم رہا۔اس کے بعد پے در پے حملوں سے میر پھر بے آسرا ہو گئے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی لکھتے ہیں
اگر ان سب حالات پر نظر ڈالی جائے تو اپنے والد کی وفات سے لے کر ۱۷۷۲ء تک میر نے زندگی میں پریشانیوں ،افلاس، ویرانیوں اور خانہ جنگیوں کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا۔ آسودگی نام کی کوئی چیز ان کی زندگی میں کبھی نہیں آئی۔(۲)
۔۱۷۷۲ء سے لکھنؤ جانے تک ۱۷۸۲ء کا زمانہ ،جسے میر نے خانہ نشینی کا زمانہ کہا ہے، معاشی بدنصیبیوں کا زمانہ تھا۔میر لکھنؤ پہنچے تو آصف الدولہ نے وظیفہ (مختلف روایات ے مطابق ۲۰۰۔۳۰۰) روپے ماہوار) مقرر کیا۔میر نے اپنی زنگی کے ۳۱ سال لکھنؤ میں گزارے اور ۱۸۱۰ء میں وفات پائی۔
میر تقی میر کی سیرت پر ان کے زمانے کے حالات و واقعات نے گہرے اثرات چھوڑے۔ وہ ایسے پُرآشوب دور میں زندہ رہے جب دہلی، جو کبھی علم و ادب اور تہذیب و شائستگی کا مرکز تھی، زوال کا شکار ہو رہی تھی۔ مغلیہ سلطنت کی کمزوری، نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی کے حملے، قتل و غارت، فاقہ کشی، اور بربادی نے میر جیسے حساس شاعر کے دل و دماغ پر گہرا نقش چھوڑا۔ بقول عبد الغنی
میر کے حالات یقیناً درد انگیز تھے اور ان کا ماحول یاس انگیز تھا۔ وہ رقیق القلب بھی تھے اور ان کی طبیعت میں انفعال کی کیفیت تھی۔ ان کے بے شمار اشعار اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں، ان کا آگرہ سے دلی اور دلی سے لکھنؤ منتقل ہونا بجائے خود ایک قلبی اضطراب کی نشان دہی کرتا ہے۔ ان کے دلِ پُر خوں کی مستی ہمیں معلوم ہے۔ان کی زیست میں نامرادی کا عنصر موجود ہے مگر ان تلخ حقیقتوں کے درمیان ان کا طور و طریق کیا تھا؟ وہ کہتے ہیں
مرے سلیقہ سے میری نبھی محبت
تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا(۳)
ان حالات نے میر کی طبیعت میں غم، تنہائی، احساسِ شکست اور گہری داخلیت پیدا کی۔ وہ ظاہری دنیا سے مایوس ہو کر اپنے اندر کی دنیا میں پناہ لینے لگے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں درد،سوز ،کرب اور شکستگیِ دل کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کی سیرت میں انکسار ،خود داری ،حساسیت ، اور غم پرور مزاج ان حالات کی دین ہے۔ بقول شاہد پرویز
میر کی شخصیت کی انا پسندی اور خود پسندی دراصل ان کا علم تھا۔ وہ علم محض شعر ہی نہیں تھا بل کہ اپنے عہد کے علمی ماحول میں ان سارے لوگوں کا تھا جو ان کے معاصر تھے اور ان کی جملہ صلاحیت میں میر اپنے کو فوقیت دیتے تھے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی شخصیت کی ظاہری پیچیدگیوں کے اندر ایک ناقابل تسخیر شخصیت تھی جو اس وقت بھی اور آج بھی چونکاتی ہے۔‘‘(۴)
میر نے چھ دواوین پر مشتمل اپنا ضخیم کلیات اُردو ، جس میں بیش تر اصنافِ سخن موجود ہیں، یادگار چھوڑا بل کہ فارسی دیوان کے علاوہ فارسی نثر میں اُردو شعرا کا ’’تذکرہ نکات الشعرا، فیض میر، دریائے عشق، اور ذکرِ میر‘‘ بھی تصنیف کیے ۔
’’نکات الشعراء‘‘۱۷۵۲ء اہم تذکرہ ہے جس میں ایک سو تین اُردو شاعروں کے مختصر حالات کے ساتھ اُن کے کلام کا انتخاب بھی درج ہے۔
’’فیض میر‘‘ میر نے اپنے بڑے بیٹے فیض علی میر کے لیے ۱۷۶۰ء۔۶۲ء میں لکھی تھی۔اس میں میر نے خدا رسیدہ درویشوں اور مجذوبوں کے محیر العقول واقعات و کرامات کو حکایات کے انداز میں بیان کیا ہے۔
’’دریائے عشق‘‘ میر کی مشہور اردو مثنوی ہے۔ میر نے اسی قصے کو فارسی نثر(دریائے عشق کے نام سے) میں بھی لکھا ہے۔
’’ذکرِ میر‘‘ کود نوشت سوانح ہے جو میر کے عہد کے بہت سے راز کھولتی ہے۔یہ فارسی میں لکھی گئی ہے۔
اس میں چھ دواوین شامل ہیں جن میں غزلیات اور مثنویوں کے ساتھ اس عہد کی کم وبیش تمام اصناف شاعری موجود ہیں۔
ان کے شعری سرمایہ کو اردو ادب میں اعلیٰ مقام حاصل ہے۔
ان کلیات میں میر کی غزلوں کا خاص اسلوب، سوز و گداز، اور انسانی جذبات کی گہرائی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔
کلیاتِ میر کے مختلف ایڈیشن شائع ہوتے رہے۔
ابتدائی اشاعت ۱۸۱۱ء میں ہوئی جب کہ بعد میں کئی محققین نے اس کی تصحیح و تدوین کی۔
۔۱۹۱۶ءمیں مولوی عبدالحکیم شرر نے اس کا ایک معتبر ایڈیشن شائع کیا۔
دیوان اول میں ۵۶۰ غزلیات ہیں۔
دیوان دوم میں ۳۹۱ غزلیات،سوم میں ۲۴۵،چہارم میں ۲۲۰ غزلیات، دیوان پنجم میں ۲۵۹ غزلیات اور دیوان ششم میں ۱۳۳ غزلیات ہیں جس سے کل اشعار کی تعداد ۱۳۵۸۵ بنتی ہے ۔
یہ تاحال غیر مطبوعہ ہے البتہ اس کے قلمی نسخے کئی جگہوں پر محفوظ ہیں۔
یہ میر کی نثری تالیف ہے جس میں انھوں نے تقریباً ۱۰۳مشہور شعراء کے حالاتِ زندگی، کلام اور ان کے اسلوب پر تنقیدی اظہارِ خیال کیا ہے۔
یہ کتاب اردو تنقید کی ابتدائی اور اہم تالیف شمار کی جاتی ہے۔اس مین شعراء کا مختصر کلام اور حالات درج ہیں۔
یہ میر کی مختصر فارسی تصنیف ہے اس کے بارے میں معلومات درج کردی گئی ہیں۔
میر نے اپنی مثنوی دریائے عشق کو فارسی قصے کی صورت میں ’’دریائے عشق‘‘ کے عنوان سے لکھا۔
یہ میر کی خودنوشت سوانح عمری ہے جو فارسی زبان میں لکھی گئی۔اس میں میر نے اپنی زندگی کے حالات، مشاہدات، اور اپنے دور کے سیاسی و سماجی حالات کا بیان بڑی سچائی سے کیا ہے۔یہ تصنیف نہ صرف میر کی ذاتی زندگی کا آئینہ ہے بل کہ اُس دور کی تاریخ، معاشرت اور ادب کی بھی جھلک پیش کرتی ہے۔
اردو تحقیق میں “ذکرِ میر” کو بہت اہم مقام حاصل ہے۔اس میں میر نے اپنی سوانح بیان کرتے ہوئے اپنی فطرت، مزاج، اور فنِ شعر کی بنیادوں کو واضح کیا ہے۔
اس کا اردو ترجمہ نثار احمد فاروقی نے شایع کیا ہے۔
میر کی عشقیہ مثنویوں کی تعداد ۹ ہے۔شعلۂ عشق، دریائے عشق، معاملات عشق، جوشِ عشق، اعجاز عشق، عشقیہ(افغان پسر)،مثنوی مور نامہ،مثنوی(سرا کی عشقیہ کہانی)، مثنوی ساقی نامہ
واقعاتی مثنویوں کی تعداد ۱۳ہے۔ خواب و خیال، نسنگ نامہ، مثنوی کتخدائی آصف الدولہ، مثنوی ہولی(اول)، مثنوی ہولی(دوم)، شکار نامہ(اول)، شکار نامہ(دوم)،جنگ نامہ آصف الدولہ، مثنوی کتخدائی بشن سنگھ،مثنوی کپی بچہ، موہنی بلی،مرثیۂ خروس کہ در خانۂ فقیر بود، دربیان مرغ بازاں
ہجویہ مثنویوں کی تعداد ۱۳ ہے۔ہجو عاقل خان، در ہجو خانۂ خود (اول)، در ہجو خانۂ خود(دوم)،در مذمت بر شگال، در ہجو نا اہل مسمّیٰ بہ زبان زدِ عالم،در ہجو شخص ہیچ مدان ، تہنیہ الجہال، اژدر نامہ، در مذمت آئینہ دار، مثنوی در ہجو آکول، در بیان کذب، ہجو خواجہ سرا، در مذمتِ دنیا
قصائد کی تعداد ۷ ہے،۱۰۹ رباعیاں ہیں جب کہ مرثیے مختلف اصناف میں کہے ہیں۔اس کے علاوہ میر کے کلیات میں دیگر متعدد اصناف شاعری بھی موجود ہیں۔(۵)
فیض علی۔ فیض علی کی ولادت ۱۱۶۲ھ میں پہلے بیوی سے ہوئی۔
بیگم۔یہ میر کی صاحب زادی تھیں یہ بھی پہلی زوجہ سے تھیں ۔ ان کی پیدائش ۱۲۰۰ھ میں ہوئی اور یہ شاعرہ تھیں۔میرکے داماد کا نام تجلی تھا۔
میر کلو عرش۔ان کا اصل نام محمد عسکری تھا یہ میر کی لکھنوی بیگم کے بطن سے تقریباً ۱۲۰۱ھ میں پیدا ہوئے۔یہ بھی شاعر تھے۔
محسن۔محمد محسن نام تھا۔میر کے بڑے بھائی حافظ محمد حسین کے بیٹے کا میر کے شاگرد تھے۔
رضا۔ان کا نام محمد رضا تھا اور ان کو برادر زادۂ میرؔ کیا گیا ہے۔ غالباً یہ میر کے چھوٹے بھائی محمد رضی کے ڈاحب زادے ہوں گے۔ یہ شاعر اور میر کے شاگرد تھے۔(۶)
میر نے اپنے زمانے کی سیاسی و سماجی تباہی کو کھلی آنکھوں سے دیکھا۔ دہلی کی بربادی، قتلِ عام، لُوٹ مار اور غلامی کے مناظر نے ان کی طبیعت کو گہرے طور پر متاثر کیا۔ یہی تجربات ان کی شاعری میں درد، سوز اور المیے کا سرچشمہ بنے۔
میرؔکے کلام میں حرمان و مایوسی کے جو مناظر نظر آتے ہیں اُس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سلطنت مغلیہ کا چراغ ٹمٹما رہا تھا۔ ہر طرف یاس کا عالم تھا۔ اس کیفیت کو میرؔ کی طبیعت نے قبول کیا ۔ان کی شاعری دلی کی مایوسیوں کی زندہ تصویر ہے۔(۷)
اگرچہ میر نے ذاتی اور اجتماعی دونوں طرح کے دکھ جھیلے، مگر وہ ان سے ٹوٹے نہیں بل کہ ان دکھوں کو تخلیقی توانائی میں بدل دیا۔ وہ غم کے سامنے ہار نہیں مانتے بل کہ اسے اپنی فنّی طاقت بنا لیتے ہیں۔میر میں خودداری، قناعت اور عزتِ نفس ان کے خاندانی ورثے میں شامل تھی۔وہ ذاتی وقار پر سمجھوتہ نہیں کرتے تھے ۔ معمولی توہین یا بے قدری پر ملازمت چھوڑ دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔میر کے باپ نے بچپن سے انھیں عشق کو زندگی کی اصل روح سمجھنے کی تلقین کی۔اسی لیے میر کی سیرت میں عشقِ حقیقی اور عشقِ انسانی دونوں کی جھلک موجود ہے، جو ان کے فن کا بنیادی رنگ بھی ہے۔
ماں باپ کے جلد انتقال کے بعد میر نے کم سنی میں ہی بہن بھائیوں کی کفالت کی۔ان کی زندگی ذاتی قربانیوں، ایثار اور ذمہ داری کے احساس سے معمور رہی۔میر محض گوشہ نشین شاعر نہیں تھے۔انھوں نے سپاہی، مصاحب، اور سفیر کی حیثیت سے عملی زندگی میں بھی حصہ لیا۔وہ اپنے عہد کی سیاست، جنگوں اور معاشرت سے گہری آگاہی رکھتے تھے۔میر نے اپنے عہد کی تہذیبی، اخلاقی اور سیاسی انحطاط کو باریک بینی سے دیکھا اور بیان کیا۔ان کی خودنوشت ’’ذکرِ میر‘‘ ان کے گہرے مشاہدے اور حقیقت نگاری کی بہترین مثال ہے۔
اگرچہ میر کے کلام میں درد و غم غالب ہے، مگر وہ خوش مزاج، شوخ گو، اور بذلہ سنج بھی تھے۔’’ذکرِ میر‘‘ کے لطیفے ثابت کرتے ہیں کہ وہ دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق اور ظریفانہ گفتگو سے بھی لطف اندوز ہوتے تھے۔
میر کے مزاج میں خودداری، عزتِ نفس، قناعت، گوشہ گیری، خودبینی اور نازک مزاجی کی صنعتیں اُسی شدت کے ساتھ موجود تھیں جس شدت سے انگلستان کے مشہور طنز نگار سوئفٹ کے کریکٹر میں یہ صنعتیں پائی جاتی تھیں ۔ میرؔ کی نازک دماغی اور وضع داری دوسروں کی امداد و ہم دردی کی بھی متحمل نہیں ہو سکتی تھی ۔ انھوں نے فطرت سے ایک حساس اور جلد برہم ہو جانے والا دماغ پایا تھا۔ اپنی اس کم زوری کا انھوں نے خود اعتراف کیا ہے
ہم خستہ دل ہیں تجھ سے بھی نازک مزاج تر
تیوری چڑھائی تو نے کہ یاں جی نکل گیا۔۔(۸)
میر نہ فرشتہ سیرت تھے، نہ مافوق الفطرت بل کہ ایک مکمل انسان تھے جن میں خوبی اور خامی دونوں موجود تھیں۔ان میں جذبات، خودی، انا، حسد، محبت، مزاح اور غم سب ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔میر کو اپنی شاعری پر فخر تھا، مگر یہ احساس بھی کہ زمانے نے ان کی صحیح قدر نہیں کی۔یہ گلہ ان کے شعورِ فن اور خود آگاہی کا مظہر ہے۔ بابائے اُردو مولوی عبد الحق لکھتے ہیں
جہاں سے دیکھئے یک شعر شور انگیز نکلے ہے
قیامت کا سا ہنگامہ ہے ہر جا میرے دیوان میں
میر تقی میرؔ سرتاج شعرائے اُردو ہیں۔ اُن کا کلام اسی ذوق و شوق سے پڑھا جائے گا جیسے سعدیؔ کا کلام فارسی زبان میں۔ اگر دنیا کے ایسے شاعروں کی ایک فہرست تیار کی جائے جن کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا تو میرؔ کا نام اس فہرست میں ضرور داخل کرنا ہوگا۔(۹)
۔میر نے ہم عصر شاعروں پر بے لاگ تنقید کی، چاہے وہ ان کے استاد یا محسن ہی کیوں نہ ہوں۔ان کی صاف گوئی اور بے خوفی ان کے آزاد مزاج اور خود اعتمادی کو ظاہر کرتی ہے۔میر کے ہاں زبان، لہجے، اور اظہار کی پاکیزگی نمایاں ہے۔ان کی شاعری اور نثر دونوں میں تہذیبی لطافت، زبان کی نفاست، اور فکری گہرائی جھلکتی ہے۔
دلی کالج میگزین،میر نمبر، مرتبہ نثار احمد فاروقی ،دلی، ۱۹۶۲ء
غزلِ میر کا تلمیحاتی مطالعہ،مطلوب حسین،ماجد مشتاق،نورِ تحقیق، جلد ۵،شمارہ ۲۰، گیریژن یونیورسٹی ،لاہور
میر تقی میر کی شخصیت اور فن پر منتخب مضامین،محمد طفیل،نقوش،ادارہ فروغ اردو،لاہور
شعلۂ عشق، میر تقی میر ،مطبع مصطفائی بقلم طبع درکشید،۱۲۵۹ھ
میر کے نشتر،مسعود الرحمٰن خاں ندوی،رام نرائن لال پبلشر،۱۹۳۰ء
فلسفہ میر، ڈاکٹر آہ سیتا پوری،جولائی ۱۹۳۶ء
کلیات میر،مطبع منشی نولکشور، لکھنؤ،۱۹۴۱ء
میخانۂ تغزل، مرتبہ پروفیسر سید شاہ عطا الرحمٰن عطا کاکوی، ایوانِ اُردو ،پٹنہ،۱۹۵۴ء
میر تقی میر ۔حالات زندگی اور انتخاب کلام،مرتبہ امیر حسن نورانی،نول کشور بک ڈپو،لکھنؤ،۱۹۵۷ء
اسالیب میر، محمد عبد الرشید ،جدت برقی پریس،مراد آباد، ۱۹۶۳ء
افکارِ میر،ایم حبیب خاں، عبد الحق اکیڈمی، دہلی،۱۹۶۷ء
مثنوی دریائے عشق، میر تقی میر، مرتبہ سید اظہر مسعود رضوی،نظامی پریس ،لکھنؤ،۱۹۶۸ء
میر تقی میر کے ادبی معرکے، محمد یعقوب،مکتبہ اردو ،دہلی،۱۹۷۱ء
میر اور میریات،صفدر آہ،علوی بک ڈپو،بمبئی،۱۹۷۱ء
اٹھارویں صدی میں ہندوستانی معاشرت۔میر کا عہد،ڈاکٹر محمد عمر،مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی،۱۹۷۳ء
کارگہہ شیشہ گری۔میر تقی میر کا مطالعہ،حامد کاشمیری،ادارہ ادب ،کشمیر، ۱۹۸۲ء
میر کی غزل گوئی، راشد آزر،انجمن ترقی اردو ہند،نئی دہلی،۱۹۹۱ء
میر کا تغزل،عبد الغنی،خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ،۲۰۰۰ء
غزلیات میر کی اسلوبیات، شاہد پرویز، اردو انڈیا انٹرنیشنل،نئی دہلی،۲۰۰۱ء
میر اور مثنویاتِ میر، وہاب اشرفی، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی،۲۰۰۳ء
نکات الشعراء،میر تقی میر، مرتبہ ڈاکٹر محمود الہیٰ، اترپردیش اردو اکادمی ،لکھنؤ،۲۰۰۳ء
میر تقی میر، نثار احمد فاروقی، قومی کو نسل برائے فروغ اردو زبان،۲۰۰۴ء
کلیات میر، جلد دوم، تحقیق و ترتیب، احمد محفوظ،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ،نئی دہلی،۲۰۰۷ء
فرہنگ کلام میر، تحقیق و ترتیب عبد الرشید،دلی کتاب گھر،دسمبر ۲۰۰۸ء
میر تقی میر ۔مونو گراف،پروفیسر مظفر حنفی،اردو اکادمی دہلی،۲۰۰۹ء
فیض میر،میر تقی میر،ترتیب و تدوین شریف حسین قاسمی، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ،نئی دہلی،اپریل ۲۰۱۰ء
میر صاحب، محمد حسن عسکری، مرتب جاوید اختر بھٹی، پورب اکادمی،اسلام آباد ،۲۰۱۰ء
میر تقی میر(منتخب مضامین)،مرتبین ڈاکٹر تحسین فراقی، ڈاکٹر عزیز ابن ُ الحسین، مقتدرہ قومی زبان،اسلام آباد، ۲۰۱۰ء
ذکرِ میر، مرتبہ شریف حسین قاسمی، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،نئی دہلی،۲۰۱۱ء
کلام میر تقی میر، ترتیب سنبل سرفراز،مکتبہ الفتوح،لاہور
مزا میر،نواب جعفر علی خاں صاحب اثر لکھنوی، کتابی دنیا لمیٹڈ، دہلی
جھلکیاں،’’ہمارے شاعر اور اتباع میر‘‘،محمد حسن عسکری،مرتبہ محمد سہیل عمر، نفیس اکیڈمی کراچی
۔(۱)تاریخ ادب اُردو،جلد دوّم، ڈاکٹر جمیل جالبی،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ، دہلی،۱۹۸۴ء،ص۵۰۲۔۵۰۵
۔(۲)ایضاً، ص ۵۱۳
۔(۳)میر کا تغزل،عبد الغنی،خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ،۲۰۰۰ء،ص۵۔۶
۔(۴)غزلیات میر کی اسلوبیات، شاہد پرویز، اردو انڈیا انٹرنیشنل،نئی دہلی،۲۰۰۱ء،ص۳۹
۔(۵)میر اور میریات،صفدر آہ،علوی بک ڈپو،بمبئی،۱۹۷۱ء،ص۲۱۳
۔(۶)ایضاً
۔(۷)میر کے نشتر،مسعود الرحمٰن خاں ندوی،رام نرائن لال پبلشر،۱۹۳۰ء،ص۶
۔(۸)اسالیب میر، محمد عبد الرشید ،جدت برقی پریس،مراد آباد، ۱۹۶۳ء،ص۱۲
’’۔(۹)میر تقی میر‘‘ از بابائے اردو مولوی عبد الحق ، مشمول افکارِ میر،مرتبہ ایم حبیب خاں، عبد الحق اکیڈمی، دہلی،۱۹۶۷ء،ص۱۱۸
احمد ہمیش کو پاکستان میں نثری نظم کا پہلا شاعر تصور کیا جاتا ہے۔ احمد ہمیش نے ۱۹۶۰ءمیں ہندی شاعری کے زیر اثر اردو…
اُردو زبان کے سب سے پہلے برے شاعر ولیؔ کی شخصیت کے بعض پہلو ایسے ہیں جن پر محققین مختلف رائیں رکھتے ہیں لیکن…
سودا کے اجداد بخارا سے ہندوستان آئے اور دہلی میں سکونت اختیار کی۔مولانا محمد حسین آزاد نے’’ آبِ حیات‘‘ میں ان کے اجداد کا…
کلیات ولی دکنی نور الحسن ہاشمی کا مرتبہ مستند اوربا اعتماد کلیات ہے جس میں ولی دکنی کا تمام کلام جلوہ آراء ہے
تخلص ’’ولی‘‘ اور اصل نام کے حوالے سے محققین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض نے ان کا نام شمس الدین محمد ولی،…
ذوقِ ادب ایک آن لائن ادبی دنیا ہے جہاں اردو کے دلدادہ افراد کو نثر و نظم کی مختلف اصناف، کلاسیکی و جدید ادب، تنقید، تحقیق، اور تخلیقی تحریریں پڑھنے اور لکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد اردو زبان و ادب کے فروغ، نئی نسل میں مطالعہ کا ذوق بیدار کرنے اور قاری و قلم کار کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنا ہے۔
+923214621836
lorelsara0@gmail.com