’’قطب مشتری‘‘ محمد قلی قطب شاہ اور مشتری کے عشق کی داستان ہے اور اسی مناسبت سے اس کا نام ’’قطب مشتری‘‘ رکھا گیا ہے۔…
مرزا اسداللہ خان غالب (پ: ۱۷۹۶ء، آگرہ) اردو اور فارسی کے اُن نابغۂ روزگار اہلِ قلم میں سے ہیں جنھوں نے برِّصغیر کی فکری و ادبی روایت کو غیر معمولی وسعت بخشی۔ وہ ایک ترکمانی النسل خاندان کے وارث تھے۔ ان کے اجداد میں سے سب سے پہلے عبدالصمد خان ہندوستان آئے اور شاہ عالم ثانی کے دربار میں منصب دار مقرر ہوئے۔مرزا کے دادا،مزرا قوقان بیگ کچھ عرصہ لاہور میں رہے بھر دہلی پہنچے اور شاہ عالم ثانی کی فوج میں ملازم ہوئے۔ان کے دو بیٹے تھے، عبد اللہ بیگ اور نصر اللہ بیگ۔ عبد اللہ بیگ کے تین بچے ،ایک بیٹی اور دو بیٹے تھے۔ بڑے بیٹے اسد اللہ بیگ اور چھوٹے مرزا یوسف تھے۔ غالب کے والد عبد اللہ بیگ فوج میں برسرِ خدمت تھے اور الور کی مہم میں شہید ہوئے۔ بعد ازاں چند سال چچا کی سرپرستی میں پرورش پانے کے بعد حکومت کی جانب سے وظیفہ مقرر ہوا۔ ابتدائی تعلیم و تربیت آگرہ میں ہی ہوئی، اور محض تیرہ برس کی عمر میں شادی کے بعد وہ ہمیشہ کے لیے دہلی منتقل ہوگئے،وہی دہلی جس نے ان کے فن کو جِلا دی اور انہیں آسمانِ سخن کا درخشاں ستارہ بنا دیا۔
غالب کو بادشاہِ دہلی بہادر شاہ ظفر نے نجم الدولہ، دبیر الملک اور نظام جنگ جیسے معزز القابات سے نوازا۔ یہ اعزازات نہ صرف اُن کی علمی حیثیت کے اثبات تھے بل کہ دربار میں ان کے قد و قامت کا واضح اعتراف بھی تھے۔
اردو کے شعری ارتقا میں غالب کی شاعری ایک ایسی عظیم معنوی کائنات ہے جس میں کلاسیکی روایت، فارسی دبستان کی بلاغت، اور ایک جدید طرزِ فکر ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔ ان کا ابتدائی کلام اگرچہ مشکل پسندی اور دقیق اظہار کی وجہ سے خواص کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے، لیکن مولوی فضلِ حق خیرآبادی جیسے اربابِ ذوق کی رہنمائی نے ان کے لہجے میں شگفتگی اور زبان میں سلاست پیدا کی۔ باوجود اس کے، فارسی آہنگ اور گہری فکری تہیں ان کے سخن کا بنیادی وصف رہیں۔
غالب کے یہاں عشق، فلسفہ، تصوف، تخیل کی بلندی، اور انسانی داخلی تجربات ایک ہی سانس میں جلوہ گر نظر آتے ہیں۔ ان کی شاعری میں جو وجدانی رنگ، شوخیِ بیان، لطیف تراکیب، اور بلند آہنگ موسیقیت پائی جاتی ہے وہ اردو کے کسی اور شاعر کے یہاں اس کمال کے ساتھ نظر نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ غالب کا کلام تہ دار، معنویت سے بھرپور، اور مسلسل نئے معنی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
غالب کے خطوط اردو نثر کے ارتقائی سفر میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے خط کو محض خیریت نامہ سے نکال کر مکالمہ، خود کلامی اور فکری تبصرے کے اسلوب میں ڈھالا۔ ان کے خطوط میں طنز و مزاح کی شوخی بھی ہے، ظرافت کی چمک بھی، اور دل آویزی کی وہ کیفیت بھی جو اُن کی شخصیت کا حصہ تھی۔ انھوں نے مسجع و مقفیٰ اور متکلف عبارت سے شعوری گریز کرتے ہوئے عام محاوراتی، رواں، اور زندہ زبان کو فروغ دیا۔یہی وجہ ہے کہ انھیں اردو نثر کا بانیِ جدید اسلوب بھی کہا جاتا ہے۔
غالب کی شخصیت کئی جہات سے عبارت ہے۔ ترکمانی نسلی روایات کے شکوہ و جلال کے ساتھ ساتھ دہلی کے تہذیبی ماحول نے انھیں جمالیات کا نادر احساس بخشا۔ ان کے مزاج میں جو سرشاری، لذت اندوزی، اور زندگی کے حسن کو پوری شدت سے برتنے کا رجحان ملتا ہے، وہ اُن کے خاندانی پس منظر سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ ان کا ذہن آزاد، بے باک اور تجسس پسند تھا، اسی لیے ان کی شاعری قنوطیت کے بجائے جستجو، بے چینی، سوال اور سرکشی پر استوار ہے۔
غالب کا حافظہ غیر معمولی تھا ۔وہ فارسی میں ایران کے اہم شعراء عرفی،نظیری ، طالب وغیرہ کے مدح تھے اور سبک ہندی کے شعراء کو پسند نہیں کرتے تھے۔ غالب نے اپنی پنشن کا مقدمہ ۳۳ سال تک لڑا۔ان کو قمار بازی کے الزام میں قید بھی ہوئی۔غالب فارسی میں عربی الفاظ کی آمیزش کو پسند نہیں کرتے تھے۔غالب کے شعری تخیل کی پرواز وسیع بھی ہے اور باریک بین بھی۔انھوں نے ۱۸۰۹ء میں شعر گوئی کی ابتدا کی۔ اُن کے ہاں نہ صرف فکری تجزیہ موجود ہے بل کہ جذباتی گہرائی، نفسیاتی پیچیدگی اور فلسفیانہ رس بھی یکجا نظر آتا ہے۔ یہی تنوع انھیں اردو ادب کی پہلی مکمل ، ہمہ گیر، پُر رنگ اور پُر تاثیر شخصیت بناتا ہے۔
مرزا غالب کی تصانیف اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ذیل میں ان کی نمایاں، مستند اور تحقیقی طور پر معروف کتابوں کی فہرست شامل کی جا رہی ہے
کلیاتِ فارسی
سبد چیں (مختصر مجموعہ)
پنج آہنگ(۱۸۲۵ء۔اس میں ۵ ابواب ہیں جن میں مکتوب نگاری،مصادر و مصطلحات،اشعار مکتوبی، خطبات، تقاریظ وغیرہ ہیں)
دستَنبو(۱۸۵۷ء۔غدر کے ہنگامے کے حالات۔نومبر ۱۸۵۸ء میں شایع ہوئی۔دستنبو کا اردو ترجمہ خواجہ احمد فاروقی نے کیا)
مہرِ نیم روز(۱۸۵۰ء مغلیہ خاندان کی تاریخ ،’’ماہ نیم ماہ‘‘ کے نام سے نصف ۱۸۵۷ء میں شایع ہوئی)
قاطعِ برہان(۱۸۶۰ء میں مکمل ہوئی اور ۱۸۶۲ء میں شایع ہوئی)
درفشِ کاویانی(قاطع برہان کو نظر ثانی اور اضافوں کے ساتھ ۱۸۶۵ء میں طبع کرایا)
دیوانِ غالب (آخری اشاعت ۱۸۶۳ء اور اشعار کی تعداد ۱۸۶۵ ہے)
نسخۂ امروہہ اور نسخۂ بھوپال (غالب نے اپنا دیوان پہلی مرتبہ انیس سال کی عمر میں مرتب کیا جو غالب کی صد سالہ برسی کے سال ۱۹۶۹ء میں دریافت ہوا۔ اسے نثار احمد فاروقی نے نسخہ امروہہ کا نام دیا ہے۔جب کہ مفتی انوار الحق نے ۱۹۲۱ء میں دیوان غالب مرتب کرکے شایع کیا تھا جو کہ نسخۂ بھوپال کے نام سے یاد کیا جاتا ہے)
گلِ رعنا(غالب نے اپنے دوست منشی سراج الدین کی فرمائش پر اپنے اردو اور فارسی کلام کا انتخاب ’’گل رعنا‘‘ کے عنوان سے مرتب کرکے طبع کرایا تھا جو ۱۹۷۰ء میں مالک رام نے شایع کرایا)
عودِ ہندی(وفات کے بعد شایع ہوئے)
اردوئے معلیٰ (وفات کے بعد شایع ہوئے)
سرسید کی ’’آئین اکبری‘‘ کی مثنوی کی صورت میں تفریظ لکھی
۱۱ مثنویاں(ابر گہر بار ان کی طویل ترین مثنوی ہے)
۴ قصیدے(دو مولا علی کی تعریف میں ،دو بہادر شاہ ظفر کی تعریف میں)
ان تصانیف نے نہ صرف غالب کو برصغیر کے علمی افق پر بلندی عطا کی بل کہ ان کے اثرات بیسویں صدی اور اس کے بعد کے عہد میں بھی اردو شعری و نثری روایت کی تشکیل میں نمایاں رہے۔
عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
دائم پڑا ہوا تیرے در پر نہیں ہوں میں
خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں
دہر خیر جلوۂ یکتائی معشوق نہیں
ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود بیں
غالب اردو کے وہ پہلے شاعر ہیں جن کی شخصیت اور فن میں ہمہ گیری، رنگا رنگی، تہہ داری اور نفسیاتی پیچیدگی اس حد تک موجود ہے کہ ان کے بعد آنے والے ہر بڑے شاعر نے کسی نہ کسی پیرایے میں ان سے اثر قبول کیا۔ حالی نے ’’یادگارِ غالب‘‘ میں بجا طور پر اعتراف کیا کہ غالب کی جامعیت اور فکری رسائی انہیں اردو کا سب سے منفرد شاعر بناتی ہے۔
غالب محض شاعر نہیں بل کہ ادب کی فکری روایت کے معمار بھی ہیں۔ اُن کے یہاں دنیا ایک مسلسل سوال ہے، ایک انجانی بے چینی ہے، ایک ایسا جمالیاتی انتشار ہے جس سے معنویت جنم لیتی ہے۔ ان کے خطوط میں جو بے تکلف سادگی، حقیقت پسندی اور داخلی سچائی جھلکتی ہے وہ اردو نثر کی جدید بنیادوں کا پیش خیمہ بنی۔
بیسویں صدی کی اردو شاعری ،خصوصاً فراق گورکھپوری، ن م راشد، فیض، اور مجید امجد،کے فکری اور علامتی نظام میں غالب کے اشارات، استعارات، اور فلسفیانہ جہتوں کے اثرات واضح نظر آتے ہیں۔ غالب آج بھی اردو ادب کا زندہ حصہ ہیں، اور اُن کا تخلیقی ورثہ آج بھی تحقیق، تنقید اور تخلیق کے نئے زاویے طے کرنے میں رہنما ہے۔
’’قطب مشتری‘‘ محمد قلی قطب شاہ اور مشتری کے عشق کی داستان ہے اور اسی مناسبت سے اس کا نام ’’قطب مشتری‘‘ رکھا گیا ہے۔…
شیخ امام بخش، جنھیں دنیائے ادب میں ناسخؔ کے تخلص سے شہرت حاصل ہوئی، اردو شاعری کے ان درخشاں ستاروں میں شمار ہوتے ہیں جنھوں…
ان کا اصل نام شیخ غلام ہمدانی اور تخلص مصحفی ؔتھا۔ وہ ۱۷۵۰ء میں ضلع مرادآباد کے نواحی علاقے امروہہ (بعض روایات میں امرودہ) کے…
انشا تخلص سید انشا اللہ خا ں نام تھا اور سید حکیم میر ماشا اللہ خاں کے فرزند تھے ۔ ان کا خاندان سلطنت مغلیہ…
اردو ادب کے کلاسیکی شعرا میں میر غلام حسن جن کا تخلص حسنؔ تھا، ایک نمایاں اور منفرد مقام رکھتے ہیں۔ان کی سب سے مشہور…
ذوقِ ادب ایک آن لائن ادبی دنیا ہے جہاں اردو کے دلدادہ افراد کو نثر و نظم کی مختلف اصناف، کلاسیکی و جدید ادب، تنقید، تحقیق، اور تخلیقی تحریریں پڑھنے اور لکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد اردو زبان و ادب کے فروغ، نئی نسل میں مطالعہ کا ذوق بیدار کرنے اور قاری و قلم کار کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنا ہے۔
+923214621836
lorelsara0@gmail.com