مرزا محمد رفیع سوداؔ

سودا کے اجداد  بخارا سے ہندوستان آئے اور دہلی میں سکونت اختیار کی۔مولانا محمد حسین آزاد نے’’ آبِ حیات‘‘ میں ان کے اجداد کا  پیشہ سپہ گری لکھا ہے۔ مرزا کے والد مرزا شفیع کے بارے میں قیاس ہے کہ دہلی میں پیدا ہوئے اور ایک تاجر تھے۔مرزا محمد رفیع سودا کی  تاریخ پیدائش کے بارے میں وثوق سے نہیں کہا جا سکتا البتہ ان کا سال دلادت مختلف ذرائع کی بنا پر۱۷۰۶ء۔ ۱۷۰۳ء  کے مابین قرار دیا گیا ہے اور  وفات کے وقت ان کی  عمر  ۸۰ سے زیادہ تھی ۔انھوں نے اپنے دور کے مروّجہ علوم ضرور حاصل کیے ہوں گے،یہ ان کے کلام سے اندازہ ہوتا ہے کیوں کہ ان کو زبان پر خاصی قدرت حاصل ہے۔

مرزا کے ہم عصر تذکرہ نگاروں میں سے  صرف گردیزی نے انھیں سپاہی پیشہ لکھا ہے۔سری رام کے مطابق مرزا کو ترکی،فارسی، اور عربی میں  دست گاہ تھی۔(خم خانہ جاوید،سری رام،ص۳۶۴)ڈاکٹر اشپنگر نے مرزا کے تخلص ’’سواد‘‘ کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ تخلص انھوں نے اپنے والد کے پیشے کے لحاظ سے رکھا جب کہ خان آرزو نے سوداگری کے پیشے کو اس تخلص کی وجہ بتایا ہے۔

تذکرہ نگاروں کے ہاں مرزا کے چار استادوں کے  نام ملتے ہیں:’’قائم نے لکھا ہے  کہ سواداؔ خانِ آرزو کے شاگرد تھے۔لیکن  اپنے کچھ اشعار حاتم کو بھی سناتے تھے۔کریم الدین نے بھی انھیں شاگردِ خانِ آرزو لکھا ہے۔ (مرزا محمد رفیع سودا، ڈاکٹر خلیق انجم ، ص۸۱۔۸۴) سودا کے استادوں میں دوسرا نام سلمان قلی خاں  کا ہے۔تیسر ےاستاد شاہ حاتم ؔ تھے۔جب کہ قدرت اللہ قاسم نے اس سلسلے میں نظام الدین احمد  صانع کا نام بھی لیا ہے۔

روایت کے مطابق نواب آصف الدولہ نے سوداؔ کو ملک الشعراء کا خطاب دیا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ  اس  خطاب سے شیخ حزیںؔ نے اس شعر پر سودا کو نوازا تھا۔

         ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں   

تڑپھے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں

بعض تذکرہ نگاروں نے میر غلام حیدر مجذوبؔ کو مرزا سودا کا بیٹا اور بعض نے شاگرد بتایا ہے۔مولانا آزاد نے ان کے ایک نواسے  کا بھی ذکر کیا ہے۔

سوداکے عہد میں علم مجلسی باقاعدہ ایک فن تھا۔ مروجہ علوم کے ساتھ ساتھ اس فن پر بھی پوری توجہ دی جاتی اور شعر و شاعری علم مجلسی کا ایک حصہ تھی۔ لوگ اپنے بچوں کی تربیت کے لیے گھر پر استا د رکھتے تھے۔جو انھیں آداب مجلس سے واقف کرتے اور اُن کی طبیعتوں میں شعر و شاعری سے ایک لگاؤ پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔ شگفتہ مزاجی ، برجستگی ، شعر و شاعری سے لگا ؤ، محفل میں نشست و برخاست کے آداب اور  بڑوں کا ادب و احترام  وغیرہ خصوصیات تھیں جو ہر مہذب انسان کے لیے ضروری تھیں۔

سودا کے احباب اور شاگروں کی تعداد کثیر تھی۔چوں کہ ان کے مزاج میں ظراف کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اس لیے وہ غیر معمولی طور پر مشہور تھے۔مرزا رفیع سوداؔ کو موسیقی کے علاوہ کتے پالنے کا بھی شوق تھا۔

سودا جب اودھ پہنچے تو نواب شجاع الدولہ کا زمانہ تھا۔سودا نے فیض آباد میں قیام کیا۔نواب ان کی بہت عزت کرتے تھے۔جب نواب کی وفات کے بعد نواب آصف الدولہ مسند نشین ہوئے تو تو سودا لکھنؤ چلے گئے۔ لکھنؤ میں ان کی مالی حالت اچھی نہ تھی۔

ادبی پس منظر

سودا ؔمیدان ادب میں  اُس وقت آئے ہیں جب شمالی ہندمیں اُردو شاعری کے با قاعدہ آغاز کو لگ بھگ نصف صدی گزر چکی تھی۔ شاعروں کی پوری ایک نسل یعنی خان آرزو اور ان کے تلامذہ کا عہد ہی ختم ہو چکا تھا اور دوسری نسل کے شاعروں میں مرزا مظہر کے شاگرد آسمان ِ ادب پر چھائے ہوئے تھے ۔ سودا کی زندگی کا اچھا خاصا حصہ پہلی نسل کے اساتذ فن کی صحبت میں گزرا جہاں ان کی ذہنی ساخت و پرداخت ہوئی۔یہ نو دارد ایہام گوئی کے خلاف تھے۔ فطری طور پر سودا نہ صرف اس نئی تحریک سے متاثر ہوئے بل کہ انھوں نے سادہ گوئی کو رواج اور فروغ دینے میں کسی سے کم حصہ نہیں لیا۔

 سودا  کی طبعیت کی شوخی اور حسِ ظرافت نے ان میں نا مساعد حالات سےنبرد آزما ہونے کی صلاحیت کو تقویت دی۔ ان کی زندہ دلی، شگفتہ مزاجی، فقرہ بازی اور برجستہ گوئی کی مثالیں تذکروں میں بہت مل جاتی ہیں۔ مثلاً میر نے فضل علی رانا کے حال میں، قائم نے خاکسار کے ترجمے میں، ابوالحسن نے سودا ہی کے ترجمے میں اور قاسم نے آرزو اور شیخ قائم علی کے بیان میں سودا کے چند لطیفے دیئے ہیں۔

سودا کی تصانیف

 نایاب تحریروں کو چھوڑ کر سودا کی تصنیفات کی تفصیل یہ ہے:

اُردو غزلیات کا ایک دیوان جس میں متفرق اشعار اور مطلع بھی شامل ہیں۔

بیس  سے زائد اُردو مثنویاں ۔

چالیس سے زائد اُردو قصیدے۔

تیس سے زائد اُردو مخمس ۔

ستر سے زائد اُردو رباعیاں اور چند مستزاد۔

پچاس کے قریب اُردو قطعے ۔

دوترجیع بند ۔

ایک ترکیب بند، واسوخت۔

گنتی کے چند مسدس ۔

کئی مرثیے اور سلام۔

اُردو نثر میں ایک دیباچہ جو میر تقی گھاسی کے مرثیے پر تنقیدی نظم کے پیش لفظ کے طور پر لکھا گیا ہے۔

فارسی غزلوں کا ایک دیوان۔

فارسی میں لکھے ہوئے چند قطعے، رباعیاں، مخمس، ایک قصیدہ ۔

فارسی نثر میں ایک رسالہ’ عبرت الغافلین‘ جس میں فاخر مکین کی شاعری اور دوسرے شاعروں پر اس کے اعتراضات کو نشانۂ انتقاد بنایا گیا ہے۔

تقریباً ایک سو ہندی پہیلیاں۔

ایک پنجابی غزل جو فدوی کی ہجو میں ہے۔

مرزا محمد رفیع سوداؔ کے فن اور شخصیت پر کتب

سواد،شیخ چاند،انجمن ترقی اُردو،اورنگ آباد،۱۹۳۶ء

کیفیہ،پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی، انجمن ترقی اُردو ،دہلی، ۱۹۴۲ء

بحث و نظر،سید  عبد اللہ ، مکتبہ اردو، لاہور ،۱۹۵۲ء

نقد ِ میر،سید عبد اللہ، جہانگیر بُک ڈپو،دہلی

افکارِ سودا،پروفیسر شارب ردولوی، شاہین پبلشرز، الہٰ آباد، اکتوبر ۱۹۶۱ء

مرزا محمد رفیع سودا، ڈاکٹر خلیق انجم ، انجمن ترقی اُردو ہند، علی گڑھ،جنوری۱۹۶۶ء

سودا،مرزا محمد رفیع،کلیات سوداؔ، مرتبہ میر عبد الرحمٰن آہی،دہلی،۱۲۷۲ھ

تفہیم سودا،علی عمران عثمانی،جے۔کے۔آفسیٹ،دہلی

مطالعۂ سودا، ڈاکٹر محمد حسن،ادارہ فروغ اُردو، لکھنؤ،۱۹۶۵ء

ارسطو سے ایلیٹ تک،ڈاکٹر جمیل جالبی،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی،۱۹۸۴ء

کلیات سوداؔ،جلد اوّل،مرتبہ ڈاکٹر محمد حسن

کلیات ِسوداؔ۔سلام و مراثی،جلد دوم،مرتبہ،ڈاکٹر محمد حسن،ترقی اُردو بیورو، نئی دہلی،جنوری ۱۹۸۵ء

اردو میں قصیدہ نگاری،ڈاکٹر ابو محمد سحر، نسیم بک ڈپو،لکھنؤ،۱۹۸۹ء

مرزا محمد رفیع سوداؔ، اردو ادب کے معمار، قاضی افضال حسین،ساہتیہ اکادمی،۱۹۹۰ء

مونو گراف۔مرزا محمد رفیع سوداؔ، مظہر احمد، اُردو اکادمی، دہلی،۲۰۰۷ء

مرزا محمد رفیع سوداؔ ۔تحقیقی و تنقیدی جائزے،غالب انسٹی ٹیوٹ ، نئی دہلی،

کلیاتِ سوداؔ (حصہ اول)،مرتبہ:ڈاکٹر امرت لعل عشرت، رام نرائن لال بینی مادھو، کٹرہ الہٰ آباد

کلیاتِ سوداؔ (حصہ دوم)،مرتبہ:ڈاکٹر امرت لعل عشرت، رام نرائن لال بینی مادھو، کٹرہ الہٰ آباد

سودا مرزا محمد رفیع، کلیات سودا،  حبیب  سیکشن، آزاد لائبریری علی گڑھ

سودا ، مرزا محمد رفیع، کلیات سودا، ادارہ ادبیات اُردو ، حیدر آباد

سودا ، مرزا محمد رفیع ، قصائد سودا ، آصفیہ لائبریری ،حیدر آباد

سودا ، مرزا محمد رفیع ، کلیات سودا ، خدا بخش لائبریری پٹنہ

رسائل

اورینٹل کالج میگزین، لاہور،نومبر ۱۹۴۳ء

نوائے ادب، جنوری،بمبئی،۱۹۵۲ء

سب رس، حیدر آباد، نومبر، ۱۹۶۰ء

نقوش ،نئی،دسمبر،لاہور،،۱۹۶۱ء

مجلّہ عثمانیہ ،دکنی ادب نمبر،۱۹۶۳ء

سویرا، خاص نمبر، لاہور،۱۹۶۹ء

کلیات سودا۔پی ۔ڈی۔ایف

A book of Urdu poetry by classical Urdu poet, Muhammad Rafi Soda, name "Kulyat e Soda"
کلیات سودا۔جلد اول
A book of Urdu poetry by classical Urdu poet, Muhammad Rafi Soda, name "Kulyat e Soda (Part 2)"
کلیات سودا۔جلد دوم
Scroll to Top