میر تقی میر کی غزل اور حالات زندگی
میر کے حالات یقیناً درد انگیز تھے اور ان کا ماحول یاس انگیز تھا۔ وہ رقیق القلب بھی تھے اور ان کی طبیعت میں انفعال کی کیفیت تھی۔ ان کے بے شمار اشعار اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں
اسد محمد خاں،حیات اور فن
ولی گجراتیؔ مرتبہ ڈاکٹر سیّد ظہیر الدین مدنی
مرزا محمد رفیع سوداؔ
کلیات ولی دکنی
ولی دکنی: حیات، تعلیم، عہد اور ادبی خدمات
میر کے حالات یقیناً درد انگیز تھے اور ان کا ماحول یاس انگیز تھا۔ وہ رقیق القلب بھی تھے اور ان کی طبیعت میں انفعال کی کیفیت تھی۔ ان کے بے شمار اشعار اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں
پریم چند کے ناول ہندوستانی سماج کی روح کی عکاسی کرتے ہیں۔ وہ زندگی کو محض کہانی کے پیرائے میں نہیں، بل کہ ایک سچائی کی صورت پیش کرتے ہیں۔
پریم چند کے ہاں افسانے کا مرکزی کردار اکثر وہی ہوتا ہے جو زندگی کی مشکلات سے دوچار ہے، چاہے وہ کسان ہو، مزدور، عورت یا بچہ۔ وہ سماج کے ہر اس طبقے کے ترجمان ہیں جو ہمیشہ پس منظر میں رہا جس کی وجہ سے ان کے افسانے عوامی ادب میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔
پریم چند کے افسانے اُن کے وسیع مشاہدے اور گہرے نفسیاتی مطالعے کے سبب فطرت انسانی کے بہترین مرقعے بن گئے ہیں۔ ان کے افسانوں میں ہندستان کے سماجی ، سیاسی اور معاشی حالات کی بھر پور عکاسی کی گئی ہے۔
تنقیدی نقطہ نظر سے پریم چند کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اردو افسانے کو محض رومان و جذبات کی تخیلاتی فضا سے نکال کر زندگی کے حقیقی مسائل کی زمین پر کھڑا کیا۔ ان کے کردار عام زندگی سے لیے گئے
تو تا کہانی سید حیدر بخش حیدری کی تیسری تصنیف ہے جو انھوں نے فورٹ ولیم کالج میں تحریر کی تھی۔ حیدری نے جان گلکرسٹ کی فرمائش پر اسے ۱۲۱۵ھ / ۱۸۰۱ءمیں میں لکھا۔
ذوقِ ادب ایک آن لائن ادبی دنیا ہے جہاں اردو کے دلدادہ افراد کو نثر و نظم کی مختلف اصناف، کلاسیکی و جدید ادب، تنقید، تحقیق، اور تخلیقی تحریریں پڑھنے اور لکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد اردو زبان و ادب کے فروغ، نئی نسل میں مطالعہ کا ذوق بیدار کرنے اور قاری و قلم کار کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنا ہے۔
+923214621836
lorelsara0@gmail.com