سید حیدر بخش حیدری کا تعارف اور توتا کہانی
سید حیدر بخش حیدری کی پیدائش کے متعلق تاریخ میں کوئی ثبوت نہیں ملتے ہیں تاہم انھوں نے ۱۸۳۳ھ کو وفات پائی۔ تو تا کہانی سید حیدر بخش حیدری کی تیسری تصنیف ہے جو انھوں نے فورٹ ولیم کالج میں تحریر کی تھی۔
سید حیدر بخش حیدری کی پیدائش کے متعلق تاریخ میں کوئی ثبوت نہیں ملتے ہیں تاہم انھوں نے ۱۸۳۳ھ کو وفات پائی۔ تو تا کہانی سید حیدر بخش حیدری کی تیسری تصنیف ہے جو انھوں نے فورٹ ولیم کالج میں تحریر کی تھی۔
احمد ہمیش کو پاکستان میں نثری نظم کا پہلا شاعر تصور کیا جاتا ہے۔ احمد ہمیش نے ۱۹۶۰ءمیں ہندی شاعری کے زیر اثر اردو میں نثری نظم لکھنا شروع کیا۔ اس سلسلے میں انھوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ۱۹۶۰ءمیں میں نے اردو میں نثری نظم کی بنیاد رکھی۔
معروف افسانہ نگار، شاعر اور مترجم اسد محمد خان ۲۶ستمبر ۱۹۳۲ءکو بھوپال (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۵۰ءمیں وہ ہجرت کر کے پاکستان آئے اور مستقل طور پر کراچی میں سکونت اختیار کی، جہاں سے انھوں نے اپنی تعلیم مکمل کی۔
اُردو زبان کے سب سے پہلے برے شاعر ولیؔ کی شخصیت کے بعض پہلو ایسے ہیں جن پر محققین مختلف رائیں رکھتے ہیں لیکن یہ اختلافات ولی کے حق میں مفید ثابت ہوئے اور انھی اختلافات نے اہلِ علم کو اس بات پر آمادہ کیا کہ اس کی زندگی سے متعلق ہر قسم کے واقعات جاننے اور اس کے گونا گوں کمالات کی تلاش و جستجو میں حتیٰ الامکان کوشش کریں۔
سودا کے اجداد بخارا سے ہندوستان آئے اور دہلی میں سکونت اختیار کی۔مولانا محمد حسین آزاد نے’’ آبِ حیات‘‘ میں ان کے اجداد کا پیشہ سپہ گری لکھا ہے۔ مرزا کے والد مرزا شفیع کے بارے میں قیاس ہے کہ دہلی میں پیدا ہوئے اور ایک تاجر تھے۔
کلیات ولی دکنی نور الحسن ہاشمی کا مرتبہ مستند اوربا اعتماد کلیات ہے جس میں ولی دکنی کا تمام کلام جلوہ آراء ہے
ذوقِ ادب ایک آن لائن ادبی دنیا ہے جہاں اردو کے دلدادہ افراد کو نثر و نظم کی مختلف اصناف، کلاسیکی و جدید ادب، تنقید، تحقیق، اور تخلیقی تحریریں پڑھنے اور لکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد اردو زبان و ادب کے فروغ، نئی نسل میں مطالعہ کا ذوق بیدار کرنے اور قاری و قلم کار کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنا ہے۔
+923214621836
lorelsara0@gmail.com