پھول کی کوئی قیمت نہیں – آغا بابر کا افسانہ

پھول کی کوئی قیمت نہیں ۔آغا بابر کے طویل افسانوں میں  سے ایک مشہور  افسانہ ہے جس میں انھوں نے بڑی چابک دستی سے معاشرے کے افراد کی نفسیاتی الجھنوں کا مطالعہ کیا ہے اور ان کو انسانی لاشعور کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔

افسانے’’پھول کی کوئی قیمت نہیں ‘‘ کا تعارف اور موضوعاتی تجزیہ

آغا بابر کا افسانہ ’’پھول کی کوئی قیمت نہیں‘‘ سماجی حقیقت اور طلسماتی رنگ کا حسین امتزاج ہے۔ اس افسانے میں بابا مراد ایک غریب اور پریشان حال بوڑھا شخص ہے جس کا جوان بیٹا پہلوان ہونے کے باوجود معذور ہو چکا ہے، بیٹی شادی شدہ ہونے کے باوجود میکے میں بوجھ بنی ہوئی ہے اور گھر کے معاشی حالات نہایت ابتر ہیں۔ اس ناامیدی کے ماحول میں تاج دین پھول بیچنے والا ایک ہمدرد اور نیک دل انسان ہے جو بابا مراد کو پھول بیچنے کا مشورہ دیتا ہے۔

افسانے میں امیر بیگم کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ محض دولت مند عورت نہیں بل کہ رحم دل اور انسان دوست شخصیت کی علامت ہے۔ بابا مراد کا اس بیگم کو پھول بیچنا دراصل اس کے دکھوں کا بیج بونے کے مترادف ہے، جو بعد میں خیر اور برکت کی صورت میں پھوٹتا ہے۔ جب بابا مراد اپنے بیمار نواسے کے علاج کے لیے بیگم سے پیسے لیتا ہے اور اسے احسان سمجھ کر واپس کرنا چاہتا ہے تو بیگم کا یہ جملہ:
’’پھول کی کوئی قیمت نہیں ہوتی‘‘
پورے افسانے کا مرکزی نکتہ بن جاتا ہے۔

یہ جملہ علامت ہے کہ خلوص، محبت اور ہمدردی کو دولت سے نہیں تولا جا سکتا۔ بیگم کے انتقال کے بعد بابا مراد کے پھولوں کی ٹوکری کا خود بخود بھر جانا اور بک جانا طلسماتی اسلوب کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی بل کہ کسی نہ کسی صورت میں لوٹ آتی ہے۔ اسی نیکی کے اثر سے بابا مراد کی بیٹی کا گھر بس جاتا ہے اور معذور بیٹا بچوں کو پہلوانی سکھانے لگتا ہے، یعنی معذوری بھی زندگی کی نئی راہیں پیدا کرتی ہے۔

آغا بابر نے اس افسانے میں یہ دکھایا ہے کہ انسانی رشتے صرف خون کے نہیں بلکہ ہمدردی اور احسان کے بھی ہوتے ہیں۔ امیر بیگم، بابا مراد اور تاج دین کے درمیان جو تعلق قائم ہوتا ہے وہ موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے، جو افسانے کو ایک روحانی اور علامتی فضا عطا کرتا ہے۔ اس طرح ’’پھول کی کوئی قیمت نہیں‘‘ ایک اصلاحی افسانہ ہے جو قاری کو یہ سکھاتا ہے کہ اصل دولت انسان کا کردار اور اس کی نیکی ہے، نہ کہ اس کا مال و زر۔

پھول کی کوئی قیمت نہیں

پھول کی کوئی قیمت نہیں ۔ از آغا بابر۔ افسانہ

صفحہ:
Scroll to Top