داستان امیر حمزہ اور طلسم ہوش ربا کا تعارف ،تجزیہ ،کہانی اور کرداروں کا مطالعہ
داستانِ امیر حمزہ اردو ادب کی عظیم اور کلاسیکی داستانوں میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ داستانِ امیر حمزہ کا سب سے مشہور اور مقبول حصہ طلسمِ
پریم چند اردو اور ہندی فکشن کے وہ نابغۂ روزگار ادیب ہیں جن کے یہاں سماجی حقیقت نگاری کا گہرا رنگ ملتا ہے۔ پریم چند کے حالاتِ زندگی کا مطالعہ یہ واضح کرتا ہے کہ ان کی عملی زندگی، معاشرتی مشاہدات اور طبقاتی ناہمواریوں کا براہِ راست اثر ان کی تحریروں پر پڑا۔ پریم چند کا فنی و فکری مطالعہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے عہد کے سب سے بڑے حقیقت پسند تھے بل کہ انسانی درد، معاشی نابرابری اور اخلاقی زوال جیسے موضوعات کو فن کے اعلیٰ معیار کے ساتھ پیش کرنے کی خداداد صلاحیت رکھتے تھے۔ پریم چند کا فکری شعور سماجی انصاف، انسان دوستی، اخلاقی بیداری اور قومی وحدت کے تصورات کے گرد گھومتا ہے، اسی لیے ان کے افسانے اور ناول آج بھی فکری رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں موضوعاتی تنوع، کرداروں کی حقیقت پسندی، زبان کی سادگی اور اظہار کا خلوص وہ نمایاں خصائص ہیں جنھوں نے پریم چند کو برصغیر کے ادبی منظرنامے میں ایک مستقل اور معتبر مقام عطا کیا۔
پریم چند کے والد منشی عجائب لال تھے اور والدہ آنندی دیوی تھیں۔پریم چند ۳۱ جولائی ۱۸۸۰ء کو ہفتے کے روز پیدا ہوئے۔والد نے خوش ہو کر ان کا نام دھنپت رائے رکھا لیکن تایا یعنی مہا ویر لال انھیں نواب کہہ کر پکارتے تھے(۱) ان کا اصل نام دھنپت رائے تھا اور گھر میں انھیں نواب رائے کہا جاتا تھا۔ اسی نام سے انھوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا۔ ان کے والد عجائب رائے ڈاک خانے میں ۲۰روپے ماہوار کے ملازم تھے اور زندگی تنگی سے بسر ہوتی تھی۔پریم چند کی ابتدائی اُردو اور فارسی کی تعلیم ایک مولوی کے ہاں لال پور گاؤں میں ہوئی جو پیشے کے اعتبار سے درزی تھے۔اس وقت ان کی عمر پانچ برس کی تھی۔پریم چند نے ایک طویل عرصے کے بعد بچپن کی یادوں کو کہانیوں کے روپ میں پیش کیا۔
چوری (مادھوری،ستمبر،۱۹۲۵ء،پریم چالیسی۱)
قزاقی (مادھوری،اپریل، ۱۹۲۶ء، پریم چالیسی۱)
رام لیلا (مادھوری،اکتوبر ، ۱۹۲۶ء، پریم چالیسی۱)
گلی ڈنڈا (ہنس،فروری،۱۹۳۳ء،واردات)
ہولی کی چھٹی (زادِراہ) (۲)
والدہ کی سنگرہنی کے دائمی مرض سے ۱۸۸۷ء۔۸۹ ء میں وفات کے ایک ڈیڑھ سال بعد والد نے دوسری شادی کرلی اور پریم چند کی سوتیلی ماں نے ان سے ہمیشہ بُرا سلوک کیا جس کا ذکر انھوں نے اپنی یادوں میں کیا ہے۔
۔۱۸۹۲ء میں منشی عجائب لال کا تبادلہ گورگھپور ہوجانے کے بعد تیرہ سال کی عمر میں دھنپت رائے باقاعدہ سکول میں چھٹے درجے میں مشن ہائی سکول میں داخل کرو ائےگئے۔اسی دوران انھیں پتنگ بازی، سگرٹ بیڑی اور کہانیاں پڑھنے کا بھی شوق پیدا ہوا۔آٹھویں جماعت کے بعد باپ کے جمنیاکے لیے تبادلے سے بنارس میں داخلہ لیا اور ۱۸۹۷ء میں سوتیلی ماں کے والد کی تجویز کردہ لڑکی سے بیاہ ہو گیا۔اس وقت دھنپت کی عمر سولہ برس کے پاس تھی۔دھنپت کو اپنی بیوی کی بد صورتی سے نفرت تھی۔ اسی دوران باپ کی حالت خراب ہونے پر رحلت ہو گئی۔اس کے بعد دھنپت اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی تمنا میں مزدوری و محنت کرتے رہے اور پیسہ کما کر گھر بھی دیتے رہے،ساتھ ہی ناول گردانی کا شوق بھی برارا چلتا رہا۔
کوئنس کالج کے پرنسپل مسٹر بیکن کی کوشش سے ۲۱ ستمبر ۱۹۰۰ء میں ماسٹر کے طور پر بہرائچ سرکاری سکول میں بیس روپیہ ماہوار پر ان کی تقرری ہو گئی۔ پریم چند کی پہلی تخلیق ایک مزاحیہ ڈرامہ تھا جو انھوں نے ۱۴سال کی عمر میں اپنے ماموں کا خاکہ اڑاتے ہوئے لکھا تھا۔ اگلے سال انھوں نے ایک اور ڈرامہ ’’ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات‘‘ لکھا۔ یہ دونوں ڈرامے طبع نہیں ہوئے۔ ان کی ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز پانچ چھہ برس بعد ایک مختصر ناول ’’اسرار معابد‘‘ سے ہوا جو ۱۹۰۳ءاور ۱۹۰۴ءکے دوران بنارس کے ہفت روزہ ’’آوازۂ حق‘‘ میں قسط وار شائع ہوا۔اسی دوران لکھنے کا سلسلہ جاری رہا لیکن پہلی تحریری ایک مقالے کی صورت میں بنارس کے غیر معروف ہفتہ وار اخبار ’’آوازۂ خلق ‘‘ میں یکم مئی ۱۹۰۳ء کو شایع ہوئی،جس کا نام’’آ لیور کرا م ویل‘‘ تھا اور یہ قسط وار ۲۴۔ستمبر ۱۹۰۳ء تک شایع ہوتا رہا۔امرت رائے نے ’’وودھ پرسنگ‘‘ جلد۔۱ میں اس کا ہندی ترجمہ شایع کیا ہے۔(۳) اس کے بعد انھوں نے ۱۹۰۴ءمیں الہٰ آباد ٹریننگ اسکول سے تدریس کی سند حاصل کی اور ۱۹۰۵ءمیں ان کا تقرر کانپور کے سرکاری اسکول میں ہو گیا۔ یہیں ان کی ملاقات رسالہ ’’زمانہ‘‘ کے اڈیٹر منشی دیا نرائن نگم سے ہوئی جہاں سے ان کو مقبولیت ملی۔
پریم چند کے بیوی سے تعلقات اچھے نہیں تھے اس لیے وہ اسے اپنی سوتیلی ماں کے پاس ہی رکھتے تھے اور ایک عورت سے داشتہ کے طور پر تعلقات قائم کررکھے تھے۔ بعد میں دوسری شادی شورانی دیوی کے ساتھ ہوئی تو بھی کچھ عرصہ اس عورت سے تعلقات رہے۔شادی کے بعد پریم چند سب ڈپٹی انسپکٹر ہو گئے تھے۔
پریم چند کی پہلے کہانی’’عشقِ دنیا اور حُبِ وطن ‘‘ کے نام سے ’’زمانہ‘‘ میں اپریل کے شمارے میں شایع ہو کر مقبول ہوئی تھی۔(۴)
یکم اپریل ۱۹۱۹ء میں انھوں نے بی۔اے کے امتحان کے لیے پندرہ روز کی چھٹی لی اور گورکھپور سے الہٰ آباد چلے گئے۔ الہٰ آباد یونیورسٹی سے نومبر ۱۹۱۹ء میں یہ امتحان انگریزی ادب، فارسی، اور تواریخ میں دوسرے درجے میں پاس کیا۔۱۱ ۔اور ۱۵ ستمبر کے دروان ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی مگر کچھ عرصے بعد وفات ہوگئی ،اس سے پہلے ایک بیٹی کی بھی پیدائش کے بعد ہی وفات ہوئی تھے۔ شیو رانی سے ان کے ایک بیٹی کملا اور دو بیٹے شری پت رائے اور امرت رائے پیدا ہوئے۔
۔۱۹۲۲ء کے دوران گاندھی کی تحریک کا اثر ان کی زندگی کے ساتھ ان کی تحریروں میں بھی نظر آتا ہے۔اس بنا پر انھوں نے اپنی ملازمت سے بھی استعفیٰ دیا۔اس دوران دوسرے کاروبار کرنے کی ٹھانی بالآخر۱۹۲۳ء میں بنارس مد ھیہ میشور کے علاقے میں ایک مکان کرائے پر لیا اور پریس مشین لگا کر ’’سرسوتی پریس‘‘ کا آغاز کیا۔مگر یہ پریس گھاٹے میں گیا اور ناول ، افسانے لکھتے رہے۔’’مادھوری‘‘ میں ملازمت بھی کی۔ ۱۹۲۹ءمیں انھوں نے ہندی/اردو رسالہ ’’ہنس‘‘ نکالا۔ حکومت نے کئی بار اس کی ضمانت ضبط کی لیکن وہ اسے کسی طرح نکالتے رہے۔ ۱۹۳۴ءمیں وہ ایک فلم کمپنی کے بلاوے پر بمبئی آئے اور فلم ’’مزدور‘‘ کی کہانی لکھی لیکن بااثر لوگوں نے بمبئی میں اس کی نمائش پر پابندی لگوا دی۔ یہ فلم دہلی اور لاہور میں ریلیز ہوئی لیکن بعد میں وہاں بھی پابندی لگ گئی کیوں کہ فلم سے صنعتوں میں بے چینی کا خدشہ تھا۔ اس فلم میں انھوں نے خود بھی مزدوروں کے لیڈر کا رول ادا کیا تھا۔ بمبئی میں انھیں فلموں میں اور بھی تحریری کام مل سکتا تھا لیکن انھیں فلمی دنیا کے طور طریقے پسند نہیں آئے اور وہ بنارس لوٹ گئے۔ ۱۹۳۶ءمیں پریم چند کو لکھنؤ میں انجمن ترقی پسند مصنفین کا صدرچنا گیا۔ پریم چند کی زندگی کے آخری ایّام تنگدستی اورمسلسل علالت کے سبب بہت تکلیف سے گزرے۔انھین والدہ کی طرح دائمی ہاضمے کا مرض تھا۔ ۸۔اکتوبر ۱۹۳۶ءکو ان کا انتقال ہو گیا۔
پریم چند برصغیر کے ان گنے چنے ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے اردو اور ہندی دونوں زبانوں کو نہ صرف تخلیقی وسعت عطا کی بل کہ ان کے ذریعے سماجی اور اخلاقی اصلاح کی بنیاد بھی رکھی۔ ان کا اصل نام دھنپت رائے تھا، مگر ’’پریم چند‘‘ کے نام سے انھوں نے جو ادبی شناخت قائم کی، وہ آج بھی برصغیر کی فکری و ادبی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
تحقیقی اعتبار سے دیکھا جائے تو پریم چند کی زندگی اور فن دونوں ایک ارتقائی سفر کی کہانی ہیں۔ ابتدائی دور میں وہ رومانی اور داستانوی اسلوب سے متاثر نظر آتے ہیں، لیکن رفتہ رفتہ ان کی تحریروں میں حقیقت نگاری، معاشرتی اصلاح، اور سیاسی شعور کے گہرے نقوش ابھرتے ہیں۔ ان کی تحریروں پر تحریکِ آزادی، گاندھی ازم، اور عدم تعاون کی تحریک کے اثرات نمایاں ہیں، جس کا ثبوت ان کا بیس سالہ ملازمت سے استعفیٰ دینا ہے۔ یہ عمل نہ صرف ان کی سیاسی وابستگی بلکہ قومی وفاداری اور قربانی کے جذبے کی بھی علامت ہے۔
’’اُردو افسانہ‘‘ میں ابنِ کنول نے ان کے فن کا یوں احا طہ کیا ہے:ص ۱۵
’’ پریم چند کے افسانے اُن کے وسیع مشاہدے اور گہرے نفسیاتی مطالعے کے سبب فطرت انسانی کے بہترین مرقعے بن گئے ہیں۔ ان کے افسانوں میں ہندستان کے سماجی ، سیاسی اور معاشی حالات کی بھر پور عکاسی کی گئی ہے۔ وہ اپنے پہلے ہی ناول’’ اسرار معابد ‘‘میں مذہبی پیشواؤں کے سبب معاشرے میں پیدا ہونے والی خرابیوں کو بیان کرتے ہیں۔ متوسط طبقہ کی زندگی کی الجھنیں’’ جلوہ ایثار ‘‘میں نمایاں طور پر نظر آتی ہیں ۔’’ بازار حسن ‘‘میں پریم چند نے ایک طوائف کی زندگی کو پیش کر کے سماج کے ایک اور تاریک پہلو کی طرف اشارہ کیا ہے ۔’’ گوشتہ عافیت‘‘ میں کسانوں اور دیہات میں بسنے والوں کے مسائل کو ’’گؤدان‘‘ کی طرح پیش کرتا ہے۔ پریم چند کے طویل ناول ” چوگان ہستی اور میدان عمل‘‘ میں اُن کے عہد کی سیاسی سرگرمیاں بھی شامل ہو جاتی ہیں۔ غرض یہ کہ پریم چند نے اپنے تمام ناولوں میں اپنے عہد کے ہندستان کے مختلف گوشوں کو پیش کر کے مکمل ہندستان کو پیش کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ پریم چند کی حقیقت نگاری کے قریب ان کا کوئی ہم عصر ادیب نہیں پہنچ سکا۔ ‘‘(۵)
تنقیدی نقطہ نظر سے پریم چند کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اردو افسانے کو محض رومان و جذبات کی تخیلاتی فضا سے نکال کر زندگی کے حقیقی مسائل کی زمین پر کھڑا کیا۔ ان کے کردار عام زندگی سے لیے گئے مگر ان میں داخلی کشمکش، اخلاقی بحران، اور طبقاتی تصادم کے ایسے پہلو نمایاں ہیں جنھوں نے افسانے کو محض تفریح نہیں بل کہ فکری و سماجی اصلاح کا ذریعہ بنا دیا۔ ان کے افسانوں میں کسان، مزدور، عورت، اور محروم طبقے کے مسائل اس شدت سے ابھرے کہ افسانہ ایک عہد کا تاریخی و سماجی دستاویز بن گیا۔
بقول جعفر رضا
پریم چند کا تخلیقی عمل مختلف ادوار میں ترقی کے مختلف مدارج سے گزرتا رہا ہے۔ان کی کہانیوں کی ماہیت نامیاتی و حرکی رہی ہے، جن کی نوعیتیں زمان و مکان کی تبدیلی اور امکانات و تجربات کے اعتبار سے تبدیل ہوتی رہتی ہیں کیوں کہ کہانی کار اپنے تخلیقی اظہار کے طریقہ میں نیا پن پیدا کرنے کی کوشش میں کئی طرح کے تجربات سے دوچار ہوتا رہتا ہے(۶)۔
ان کے ناول ’’گؤدان‘‘ کو اردو و ہندی فکشن کا سنگ میل کہا جا سکتا ہے، کیوں کہ اس میں سماجی ڈھانچے، طبقاتی ناہم واری، اور انسانی المیے کی جامع عکاسی ملتی ہے۔ پریم چند نے عورت کو مظلوم نہیں، باعزت اور خوددار وجود کے طور پر پیش کیا، جو ان کی نسائی شعور کی بلند ترین مثال ہے۔
تنقیدی طور پر اگر دیکھا جائے تو پریم چند کا فن مقصدیت، حقیقت نگاری، اور اخلاقی توازن کا حسین امتزاج ہے۔ انھوں نے نہ صرف ادبی جمالیات کو نئے معنی دیے بل کہ کہانی کو قوم کی اجتماعی روح سے جوڑ دیا۔ ان کے اسلوب میں سادگی، سلاست، اور مکالماتی فطری پن نے زبان کو عوامی سطح پر پہنچایا۔بقول مانک ٹالا
عام طور پر ناول نویسوں ور افسانہ نگاروں نے شہری زندگی کو اپنا موضوع رکھا ہے۔ اپنے پلاٹ اسی محور کے گرد چکر کھائے ہوئے رکھے ہیں۔ پریم چند نے اس کے بر خلاف اصل موضوع دیہاتی زندگی رکھی اور طبقۂ عوام کو اپنے ہاں خاص جگہ دی۔(۷)
نتیجتاً، پریم چند کی تخلیقات اردو افسانہ نگاری کی بنیاد اور ترقی دونوں کی نمائندہ ہیں۔ ان کا فن محض ادب نہیں بل کہ عہدِ نو کی اجتماعی شعور کی تاریخ ہے۔ ان کی حقیقت نگاری نے اردو افسانے کو داستان سے حقیقت تک، اور رومان سے انسان تک کا سفر طے کرایا۔ پریم چند صرف ایک ادیب نہیں بلکہ اردو فکشن کے فکری معمار اور سماجی حقیقت کے آئینہ گر ہیں۔
اسرار معا بد ۱۹۰۲ء
کشنا۱۹۰۷ء
ہم خرما و ہم ثواب۱۹۰۶ء،ترجمہ بیوہ کے عنوان سے شایع ہوا
جلوۂ ایثار۱۹۱۲ء
بازارِ حسن (۱۹۱۷ء۔۱۹۲۲ء)
گوشۂ عافیت(۱۹۱۸ء۔۱۹۲۰ء)
چوگانِ ہستی(۱۹۲۲ء۔۱۹۲۴ء)
کایا کلپ (ہندی)۱۹۲۶ء، اردو ترجمہ:پردۂ مجاز ۱۹۳۱ء
نرملا(ماہنامہ چاند میں ۱۹۲۵ء تا ۲۶ء قسط وار شایع ہوا، ۱۹۲۷ میں چاند پریس سے کتابی شکل میں شایع ہوا)
غبن ۱۹۳۱ء
کرم بھومی(ترجمہ۔میدانِ عمل)۱۹۲۸ء میں شروع کیا اور ۱۹۳۲ء میں شایع ہوا
پریم چند کے ناول اور افسانوں کے انگریزی زبان میں کثرت سے تراجم بھی ہوئے۔
سوزِ وطن اپریل ۱۹۰۸ء
پریم پچیسی(حصہ اوّل)۱۹۱۴ء
پریم پچیسی(حصہ دوّم)۱۹۱۸ء
پریم بتیسی ۱۹۲۰ء سے پہلے مکمل ہو چکی تھی
خاک ِ پروانہ ۱۹۲۰ء
سپت سروج(ہندی افسانے)۱۹۱۷ء
پریم پرسون،پریم دوادشی،پریم پرتکیا،پریم پرمود،اگنی سمادھی،شانتی(ہندی مجموعے ۱۹۲۰ء کے بعد شایع ہوئے)
خواب وخیال۱۹۲۸ء
فردوس خیال۱۹۲۹ء
پریم چالیسی ۱۹۳۰ء
آخری تحفہ ۱۹۳۴ء
زادِ راہ ۱۹۳۶ء
میرے بہترین افسانے ۱۹۳۳ء
واردات ۱۹۳۵ء(زیرِ اشاعت)
دودھ کی قیمت(وفات کے بعد)۱۹۳۷ء
مدن گوپال کے مطابق ان کی وفات سے قبل اردو اور ہندی میں ان کی پچاس تصانیف شایع ہو چکی تھیں(کلیات۱۳،دیباچہ)
پریم چند کی وفات سے قبل اردو اور ہندی میں ان کی لگ بھگ پچاس تصانیف شایع ہو چکی تھیں۔ تاریخ وار فہرست پیش ہے۔ ۱۔ سوز وطن،۲۔ سیر درویش، ۳۔ روٹھی رانی ۴۔ پریم پچیسی(حصہ اول)، ۵۔سپت سروج، ۶۔ نو ندھی،۷۔ پریم پور نما، ۸۔ پریم پچیسی(حصہ دوم)، ۹۔پریم بتیسی(حصہ اول)، ۱۰۔پریم بتیسی(حصہ دوم)،۱۱۔ پریم پر تِما،۱۲۔ نمک کا داروغہ ،۱۳۔ پنچ پر میشور،۱۴۔ پریم پچیسی(ہندی)، ،۱۵۔ٹالسٹائے کی کہانیاں، ۱۶۔ پریم پرسون،۱۷۔بینک کا دیوالہ، ۱۸۔ پریم دوادشی،۱۹۔ پریم پر تکیا،۲۰۔ پریم پر مود،۲۱۔ شانتی ۲۲۔ اگنی سمادھی،۲۳۔ خاک پروانہ،۲۴۔ خواب و خیال، ۲۵۔ فردوس خیال، ۲۶۔ پریم چتر تھی،۲۷۔ پریم تیر تھ ،۲۸۔ پانچ پھول،۲۹۔ سپت سُمن، ۳۰۔ سمر یاترا، ۳۱۔ پریم پالیسی (حصہ اول)،۳۲۔ پریم چالیسی (حصہ دوم)،۳۳۔ پریم گنج، ۳۴۔پر یرنا، ۳۵۔ سروسریشٹھ کہانیاں،۳۶۔ میرے بہترین افسانے،۳۷۔نیچ ،پرسون، ۳۸۔ آخری تحفہ،۳۹۔ نوجیون، ۴۰۔ پریم پی یوش، ۴۱۔ مرتک بھوج۴۲۔ نجات،۴۳۔ مان سروور (حصہ اول)،۴۴۔ مان سروور (حصہ دوم)، ۴۵۔زاد راه۴۶۔ دودھ کی قیمت، ۴۷۔ واردات،۴۸۔ دیہات کے اضافے،۴۹۔ جیل،۵۰۔ گرامیہ( جیون کی کہانیاں)۔
۔۱۹۱۹ء میں انھوں نے بیلجیم کے ایک ڈرامہ نویس ماٹرلنک کے ڈرامے ’’سائٹ لیس‘‘ کا اردو ترجمہ کیا تھا۔(کلیات، جلد ۱۵ دیباچہ)
سنگرام(ہندی ڈرامہ)۱۹۲۰ء
کربلا(پہلے ہندی میں لکھا پھر اردو ترجمہ ہوا)
شبِ تار، روحانی شادی،انصاف
نیائے،ہڑتال،چاندی کی ڈبیا
خطوط
مضامین
باکمالوں کے درشن (خاکے)
میری کہانی(سوانح)
برتھ کنٹرول اور دیگر افسانے،مترجم پریم چند،ہندوستانی کتاب گھر، لاہور،
طوفان،مترجم پریم چند،بھارت ، پستگ، امرتسر
کوچوان اور دیگر افسانے،جین بک اسٹال، لاہور
خاموش محبت اور دیگر افسانے(رابندر ناتھ ٹیگور کے افسانے)،نیشنل لٹریچر کمپنی، لاہور
قرونِ وسطیٰ میں ہندوستانی تہذیب(لیکچرز کا مجموعہ از رائے بہادر مہا مھوپا دھیاے گوری شنکر،ہندوستانی اکیڈمی الہۃ آباد، ۱۹۳۱ء
بھگوت گیتا کا اردو ترجمہ مع تشریح ، ٹیکا کار مہاتما گاندھی، راجپال پبلشرز لاہور
جیون پربھات،رابندر ناتھ ٹیگور کے ’’چوکھیر والی‘‘ کا ترجمہ،بھارت پُستک امرتسر
پریم چند کےکلیات(۲۲ جلدیں)، مرتبہ مدن گوپان،قومی کونسل برائے فروغِ اردو
پریم چند ۔کہانی کا رہنما، ڈاکٹر، جعفر رضا،،نیشنل آرٹ پرنٹرس، ۱۹۳۹ء
پریم چند ، ہنس راج رہبر،مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، ۱۹۵۸ء
چٹھی پتر،امرت رائے اور مدن گوپال،(دو جلدیں)،ہنس پرکاش،الہٰ آباد،۱۹۶۲ء
پریم چند کے خطوط، مدن گوپال،مکتبہ جامعہ، نئی دہلی ،جون ۱۹۶۷ء
پریم چند ۔ہندوستانی ادب کے معمار،پرکاش چندر گپت،ساہتیہ اکادمی،دہلی،۱۹۷۶ء
پریم چند فن اور تعمیرِ فن،، ڈاکٹر، جعفر رضا،،نیشنل آرٹ پرنٹرس، ۱۹۷۷ء
پریم چند ۔تنقیدی مطالعہ،داکٹر قمر رئیس،سر سید بک ڈپو، علی گڑھ، ۱۹۷۷ء
پریم چند فکر و فن،قمر رئیس،پبلیکیشنز دویژن ،دہلی،۱۹۸۰ء
پریم چند حیات اور فن،اصغر علی انجینئر،نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹرینگ ، نئی دہلی، انڈیا، ۱۹۸۱ء
پریم چند کا فکری و فنی مطالعہ، سید محمد عصیم،غالب اکیڈمی،دہلی،۱۹۸۴ء
پریم چند کا فن،شکیل الرحمٰن،ماڈرن پبلشنگ ہاؤس نئی دہلی، ۱۹۹۳ء
پریم چند حیات نو، مانک ٹالا، ماڈرن پبلشنگ ہاؤس نئی دہلی، ۱۹۹۳ء
صاحبِ نظر پریم چند،للت شکل، مترجم محمد دراز قریشی،معیار پبلی کیشنز،دہلی
پریم چند متفرقات،خدا بخش لائبریری،پٹنہ،۱۹۹۵ء
پریم چند کے افسانے، خالد حیدر،ایجوکیشنل بک ہاؤس،۱۹۹۶ء
پریم چند ۔ایک نقیب،صغیر افراہیم،ایجوکیشنل بک ہاؤس ،علی گڑھ،۱۹۹۹ء
پریم چند کا سیکیولر کردار اور دیگر مضامین، مانک ٹالا،مکتبہ جدید، دہلی،۲۰۰۱ء
فوقیت پریم چند، مانک ٹالا،مکتبہ جدید،دہلی،۲۰۰۲ء
پریم چند کا تنقیدی مطالعہ بہ حیثیت ناول نگار ، قمر رئیس، ایجوکیشنل بک ہاؤس،۲۰۰۷ء
پریم چند گھر میں، شیو رانی دیوی، مترجم سید حسن منظر، انجمن ترقی اردو ،دہلی،۲۰۰۷ء
پریم چند شناسی،پریم مدن گوپال،موڈرن پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی،۲۰۰۸ء
پریم چند ،عبد القوی دسنوی، مکتبہ جامعہ، نئی دہلی،۲۰۱۱ء
اردو ہندی میں گؤدان تنقید، تریب و ترجمہ جاوید عالم، نیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی، ۲۰۲۰ء
پریم چند ۔مزید افسانے،خدا بخش اوریئنٹل پبلک لائبریری،پٹنہ،
قلم کا مزدور،مدن گوپال،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی،۱۹۹۴ء
پریم چند شناسی، پروفیسر آفاق احمد،مدھیہ پردیش اردو اکادمی،۱۹۹۴ء
پریم چند قلم کا سپاہی،امرت رائے،ساہتیہ اکادمی،۱۹۹۲ء
پریم چند نئے تناظر میں،علی احمد فاطمی،تخلیق کا پبلشرز،۲۰۰۶ء
اردو ہندی میں گؤدان،ترتیب جاوید عالم، ایجوکیشنل بک ہاؤس ،علی گڑھ ،۲۰۲۰ء
ماہنامہ سہیل،پریم چند۔فن اور شخصیت،جلد۴۲،شمارہ۱۔۲،جنوری۔فروری،۱۹۸۰ء
نیا ورق،(گوشۂ پریم چند)،جلد ۳، شمارہ ۱۱، نومبر تا جون ۲۰۰۱ء
اُردو اکادمی مجلہ ،پریم چند نمبر، جلد۳،شمارہ،۱۔۲،جولائی۔ اتر پردیش ،دسمبر،۲۰۰۵ء
اردو اکادمی مجلّہ،اتر پردیش،پریم چند نمبر،جلد۴،شمارہ۱۔۲،جولائی تا دسمبر،۲۰۰۶ء
سہ ماہی تکمیل،پریم چند کی یاد میں ،جلد ۲۱،شمارہ ۸۴،اکتوبر۔دسمبر،۲۰۰۸ء
سہ ماہی، جہانِ اردو،جلد۱۰،شمارہ۳۷،جنوری تا مارچ،۲۰۱۰ء،دربھنگہ
فروغ اردو، پریم چند نمبر،۱۹۳۷ءاپریل تا اگست
ایوانِ اردو،پریم چند نمبر،جلد۲۰،،شمارہ ۷،نومبر۲۰۰۶ء،دہلی
آج کل(پریم چند نمبر)،جلد۵، شمارہ ۳، اکتوبر ۱۹۹۱ء، نئی دہلی
آج کل(پریم چند کے فن پر چند مقالات)،جلد۶۹، شمارہ ۳، اکتوبر ۲۰۱۰ء، نئی دہلی
۔(۱)توقیت پریم چند، مانک ٹالا،مکتبہ جدید،دہلی،۲۰۰۲ء،ص۲۰
۔(۲)توقیت پریم چند،ص۲۳
۔(۳)ایضاً ص۳۳
۔(۴)ایضاً،ص۴۸
۔(۵)اُردو افسانہ، پروفیسر ابن کنول،غالب اکیڈمی ،دہلی،۲۰۱۱ء،ص۱۵
۔(۶)پریم چند ۔ کہانی کار،جعفر رضا،شبستان الہٰ آباد،۱۹۶۹ء،ص۳۰
۔(۷)کچھ نئے تحقیقی گوشے۔پریم چند اور تصانیف پریم چند، مانک ٹالا،موڈرن پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی،نومبر ۱۹۸۵ء، ص۳۰
داستانِ امیر حمزہ اردو ادب کی عظیم اور کلاسیکی داستانوں میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ داستانِ امیر حمزہ کا سب سے مشہور اور مقبول حصہ طلسمِ
باغ و بہار‘‘ اردو کلاسیکی نثر کا ایک شاہکار ہے، جس کا خلاصہ، تنقیدی جائزہ اور کردار نگاری آج بھی ادب کے طلبا اور محققین کے لیے
مرزا اسداللہ خان غالب (پ: ۱۷۹۶ء، آگرہ) اردو اور فارسی کے اُن نابغۂ روزگار اہلِ قلم میں سے ہیں جنھوں نے برِّصغیر کی فکری و ادبی روایت
’’قطب مشتری‘‘ محمد قلی قطب شاہ اور مشتری کے عشق کی داستان ہے اور اسی مناسبت سے اس کا نام ’’قطب مشتری‘‘ رکھا گیا ہے۔ یہ ’’مشتری‘‘
شیخ امام بخش، جنھیں دنیائے ادب میں ناسخؔ کے تخلص سے شہرت حاصل ہوئی، اردو شاعری کے ان درخشاں ستاروں میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے لکھنؤ
ان کا اصل نام شیخ غلام ہمدانی اور تخلص مصحفی ؔتھا۔ وہ ۱۷۵۰ء میں ضلع مرادآباد کے نواحی علاقے امروہہ (بعض روایات میں امرودہ) کے ایک معزز
ذوقِ ادب ایک آن لائن ادبی دنیا ہے جہاں اردو کے دلدادہ افراد کو نثر و نظم کی مختلف اصناف، کلاسیکی و جدید ادب، تنقید، تحقیق، اور تخلیقی تحریریں پڑھنے اور لکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد اردو زبان و ادب کے فروغ، نئی نسل میں مطالعہ کا ذوق بیدار کرنے اور قاری و قلم کار کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنا ہے۔
+923214621836
lorelsara0@gmail.com