پریم چند کے افسانوی مجموعے اردو فکشن کی وہ مضبوط بنیاد ہیں جنھوں نے حقیقت نگاری کو نئی جہت عطا کی۔ پریم چند کے افسانے دیہی معاشرت، غربت، اخلاقی کشمکش اور انسانی قدروں کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ قاری براہِ راست زندگی کی تلخیوں سے روبرو ہو جاتا ہے۔ ان مجموعوں پر پریم چند کے افسانوں کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تحریروں میں سماجی شعور، کرداروں کی نفسیاتی گہرائی اور ماحول کی جیتی جاگتی تصویریں ان کی تخلیقی قوت کا ثبوت ہیں۔ یہی خصوصیات پریم چند کے افسانوں کی خصوصیات کے طور پر نمایاں ہوتی ہیں، جن میں سادگی، فطری پن اور حقیقت پسندانہ اسلوب سب سے زیادہ اہم ہیں۔ دراصل پریم چند کی افسانہ نگاری نے اردو نثر کو نہ صرف نئی سمت دی بل کہ افسانے کو سماجی اصلاح کا مؤثر ذریعہ بھی بنایا، اسی لیے پریم چند کے افسانوی مجموعے آج بھی ادب کے سنجیدہ قارئین کے لیے ایک بے مثال سرمایہ سمجھے جاتے ہیں۔