ولی دکنی: حیات، تعلیم، عہد اور ادبی خدمات
تخلص ’’ولی‘‘ اور اصل نام کے حوالے سے محققین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض نے ان کا نام شمس الدین محمد ولی، بعض نے ولی
پریم چند کے افسانوی مجموعے اردو فکشن کی وہ مضبوط بنیاد ہیں جنھوں نے حقیقت نگاری کو نئی جہت عطا کی۔ پریم چند کے افسانے دیہی معاشرت، غربت، اخلاقی کشمکش اور انسانی قدروں کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ قاری براہِ راست زندگی کی تلخیوں سے روبرو ہو جاتا ہے۔ ان مجموعوں پر پریم چند کے افسانوں کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تحریروں میں سماجی شعور، کرداروں کی نفسیاتی گہرائی اور ماحول کی جیتی جاگتی تصویریں ان کی تخلیقی قوت کا ثبوت ہیں۔ یہی خصوصیات پریم چند کے افسانوں کی خصوصیات کے طور پر نمایاں ہوتی ہیں، جن میں سادگی، فطری پن اور حقیقت پسندانہ اسلوب سب سے زیادہ اہم ہیں۔ دراصل پریم چند کی افسانہ نگاری نے اردو نثر کو نہ صرف نئی سمت دی بل کہ افسانے کو سماجی اصلاح کا مؤثر ذریعہ بھی بنایا، اسی لیے پریم چند کے افسانوی مجموعے آج بھی ادب کے سنجیدہ قارئین کے لیے ایک بے مثال سرمایہ سمجھے جاتے ہیں۔
تخلص ’’ولی‘‘ اور اصل نام کے حوالے سے محققین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض نے ان کا نام شمس الدین محمد ولی، بعض نے ولی
عابد اللہ انصاری غازی (۶۔جولائی۱۹۳۶ء۔۱۱۔اپریل ۲۰۲۱ء) ایک ہندوستانی امریکی مصنف، ماہر تعلیم اور شاعر تھے۔
محمد امین الدین ،جو ہم عصر پاکستانی افسانہ نگاروں میں ممتاز اور اہم مقام رکھتے ہیں ، ان کی مختصر افسانو ں کی کتاب ’’آدم اور خُدا‘‘
ذوقِ ادب ایک آن لائن ادبی دنیا ہے جہاں اردو کے دلدادہ افراد کو نثر و نظم کی مختلف اصناف، کلاسیکی و جدید ادب، تنقید، تحقیق، اور تخلیقی تحریریں پڑھنے اور لکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد اردو زبان و ادب کے فروغ، نئی نسل میں مطالعہ کا ذوق بیدار کرنے اور قاری و قلم کار کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنا ہے۔
+923214621836
lorelsara0@gmail.com