سجاد حیدر یلدرم اُردو ادب کے ایک مایہ ناز افسانہ نگار، انشا پرداز اور جدید اُردو نثر کے معماروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی اور فن کے اہم پہلو درج ذیل ہیں۔
سجاد حیدر یلدرم ۱۸۸۰ءمیں یوپی کے ضلع بجنور کے قصبے نہٹور میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان نسبی طور پر سادات تھا اور ان کا شجرہ نسب حضرت علیؓ کی تیسری نسل حضرت زید شہیدؒ سے جا ملتا ہے ۔ اُن کے اجداد وسطی ایشیا (ترمذ) سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے تھے۔ اُن کے والد کا نام سید سجاد حیدر تھا۔انھوں نے ادبی سفر کےآغاز میں اپنے مضامین ’’سجاد حیدر‘‘ کے نام سے لکھے لیکن ملازمت کے سلسلے میں جب بغداد میں قیام کیا اس وقت قلمی نام ’’یلدِرم‘‘ اختیار کرلیا۔
یلدرم کی ابتدائی تعلیم بنارس میں ہوئی، جس کے بعد وہ ۱۸۹۴ءمیں ایم اے او کالج علی گڑھ میں داخل ہوئے۔ وہ ایک ذہین طالب علم تھے اورعلامہ شبلی کے پسندیدہ شا گردوں میں شمار ہوتے تھے۔ انھیں انگریزی، فارسی اور عربی پر مکمل عبور حاصل تھا، تاہم وہ ریاضی میں کم ز ور تھے جس کی وجہ سے انھیں ایف اے اور بی اے کے امتحانات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ایف اے کے دوران اُن کےتعلقات نواب حاجی اسما عیل خان رئیس دتا ؤلی سے ہو گئے اور سجاد حیدر ان کے سیکریٹری بن گئے۔یلدرم ان کو انگریزی پڑھاتے تھے اور ان سے تُرکی سیکھتے تھے۔ آخر کار ۱۹۰۱ءمیں انھوں نے بی اے مکمل کیا۔ علی گڑھ میں قیام کے دوران وہ کالج کی یونین اور مباحثوں میں بہت سرگرم رہے اور ‘انجمن اخوان الصفا’ کے رکن بھی رہے ۔
یلدرم کی پیشہ ورانہ زندگی بہت متنوع رہی۔۱۹۰۴ءمیں انھیں بغداد میں برطانوی قونصل خانے میں مترجم (ٹرانسلیٹر) کے طور پر مقرر کیا گیا، جہاں انھوں نے تین سال خدمات انجام دیں۔وہ امیر افغانستان کے کابل مشن میں اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ بھی رہے۔۱۹۲۰ءمیں وہ علی گڑھ یونیورسٹی کے پہلے رجسٹرار مقرر ہوئے۔ انھوں نے وہاں شعبہ اُردو کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کیا۔انھوں نے یوپی میں ڈپٹی کلکٹر اور جزائر انڈمان (پورٹ بلیئر) میں ریونیو کمشنر کے طور پر بھی فرائض انجام دیے۔
سجاد حیدر یلدرم کو اُردو میں رومانی تحریک کا نقیب مانا جاتا ہے۔ ان کے فن کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں۔
انھوں نے بغداد میں قیام کے دوران “یلدرم” کا قلمی نام اختیار کیا، جو ایک ترکی لفظ ہے اور اس کے معنی “بجلی” (برق) کے ہیں۔ پطرس بخاری کے مطابق انھوں نے اُردو میں ترکی قلمی نام رکھنے کے نئے فیشن کی بنیاد ڈالی۔یلدرم ترکی زبان و ادب سے بہت متاثر تھے اور انھوں نے کئی ترکی افسانوں اور ڈراموں کے ترجمے اُردو میں کیے۔انھیں اُردو کا پہلا باقاعدہ افسانہ نگار بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا پہلا افسانہ “نشہ کی پہلی ترنگ” (اکتوبر۱۹۰۰ء) مانا جاتا ہے۔ ان کا مشہور مجموعہ “خیالستان” ۱۹۱۰ءمیں شائع ہوا۔ان کا مضمون “مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ” اُردو انشا پردازی کا ایک شاہ کار نمونہ ہے۔وہ علی گڑھ تحریک کے زیر اثر مسلمانوں کی معاشرتی اصلاح، خاص طور پر تعلیمِ نسواں اور حقوقِ نسواں کے بڑے حامی تھے۔
یلدرم کی شادی ۱۹۱۲ءمیں سید ممتاز علی کی صاحبزادی نذر زہرا بیگم سے ہوئی، جو خود بھی ایک صاحبِ قلم خاتون تھیں اور ‘بنتِ نذر الباقر’ کے نام سے لکھتی تھیں۔ ان کی اولاد میں مشہور ناول نگار قرة العین حیدر اور سید مصطفیٰ حیدر شامل ہیں ۔
زندگی کے آخری ایام میں وہ ذیابیطس کے عارضے میں مبتلا ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے انھوں نے وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ لے لی اور دہرادون میں سکونت اختیار کی۔
سجاد حیدر یلدرم قد آور، دبلے پتلے اور پھرتیلے شخص تھے۔ ان کا رنگ گورا، ناک کھڑی اور چہرے پر ہمیشہ شگفتگی و بشاشت رہتی تھی۔ وہ ہمیشہ بنا تیلیوں والی عینک لگاتے تھے ۔ وہ ایک نہایت متواضع، منکسر المزاج اور مخلص انسان تھے، جن کے مزاج میں بڑی سنجیدگی اور متانت بھی پائی جاتی تھی۔ وہ دوسروں کی مدد کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے اور شہرت سے دور گمنامی میں رہنا پسند کرتے تھے۔
یلدرم اُردو کے ایک بہترین انشا پرداز، افسانہ نگار اور مترجم تھے ۔ان کی تحریروں میں جدت پسندی اور تخیل کی بلندی پائی جاتی ہے ۔انھوں نے ترکی ادب سے اُردو کو روشناس کرایا اور کئی ترکی افسانوں و ڈراموں کے کامیاب ترجمے کیے ۔ان کا افسانوی مجموعہ “خیالستان” اُردو ادب میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
وہ اپنی نجی زندگی کو سرکاری یا عوامی زندگی سے بالکل الگ رکھتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں ان کی نجی زندگی کی جھلکیاں کم ہی ملتی ہیں۔
یلدرم کا مزاج نہایت شگفتہ، زندہ دل اور خوش طبع تھا۔طالب علمی کے زمانے میں وہ کافی شوخ اور کھلنڈرے تھے، لیکن عملی زندگی میں وہ ایک مہذب اور شائستہ انسان ثابت ہوئے۔وہ گفتگو میں نہایت باادب تھے اور کسی کو “تم” کہہ کر مخاطب نہیں کرتے تھے۔ان کی قوتِ برداشت بہت زیادہ تھی اور وہ شدید تکلیف میں بھی مسکراتے رہتے تھے۔وہ اپنے خاندان اور رشتہ داروں سے گہرے لگاؤ کے حامل تھے اور ان سے گھنٹوں باتیں کرتے تھے۔
یلدرم لباس کے معاملے میں نہایت نفیس تھے۔وہ ہمیشہ اعلیٰ قسم کے سوٹ پہنتے تھے اور اکثر سر پر ترکی ٹوپی سجاتے تھے۔سفر کے دوران وہ سولاہیٹ کا استعمال کرتے تھے۔سرکاری تقریبات میں وہ دم والا کوٹ اور ٹیل کوٹ استعمال کرتے تھے۔ ان کے پورے طرزِ معاشرت میں مغربی تہذیب کی واضح جھلک نمایاں تھی۔
انھیں بچپن سے ہی مطالعے کا بے حد شوق تھا، خاص طور پر انٹرمیڈیٹ کے زمانے سے وہ وسیع مطالعہ کے عادی تھے۔انھیں گولف کھیلنے کا بہت شوق تھا۔ اس کے علاوہ وہ شطرنج کے بھی کھلاڑی تھے۔یلدرم سیاحت کے بڑے شوقین تھے، انھوں نے بغداد، قسطنطنیہ، قاہرہ کے علاوہ کئی یورپی ممالک (لندن، پیرس، روم وغیرہ) کا سفر کیا ۔وہ سائنس اور جدید ایجادات (جیسے واشنگ مشین وغیرہ) میں گہری دلچسپی رکھتے تھے اور چاہتے تھے کہ ان کا ملک بھی ترقی کرے ۔انھیں ریڈیو پر خبریں سننے کا بہت شوق تھا اور اگرچہ وہ خود موسیقی نہیں جانتے تھے، لیکن اپنے بچوں کو موسیقی کی تعلیم دلوانے کے حامی تھے۔وہ سگریٹ پینے کے بھی عادی تھے۔
سجاد حیدر یلدرم اردو ادب کے ایک مایہ ناز ادیب، مترجم اور افسانہ نگار ہیں۔
مضامین اور افسانے سجاد حیدر یلدرم کے افسانوی اور انشائیہ مجموعوں میں دو کتب نمایاں ہیں
ان کا پہلا افسانہ’’نشہ کی پہلی ترنگ‘‘رسالہ’’معارف‘‘میں اکتوبر ۱۹۰۰ء میں شائع ہوا۔
خیالستان: (افسانوں اور انشائیوں کا مجموعہ )یہ ان کی سب سے مشہور کتاب ہے، یہ ۱۹۱۰ء میں منظر عام پر آیا۔
حکایات و احساسات: اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ۱۳۵۲ھ میں مسلم یونیورسٹی پریس علی گڑھ ہی سے منظرِ عام پر آیا۔
طویل اور مختصر ناول یلدرم نے ناول نگاری اور خاص طور پر تراجم کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔یلدرم کی ناول نگاری کا آغاز ۱۹۰۲ءسے ہوتا ہے۔انھوں نے تین تُرکی ناولٹ ’’زہرا،ثالث بالخیر، اور مطلوب حسیناں‘‘کا ترجمہ کیا جو کالج بک ڈپو علی گڑھ سے شائع ہوئے۔’’زہرا‘‘نبی زادہ ناظم کا مختصر ناول تھا۔
ثالث بالخیر: یہ احمد حکمت کی تحریر کا ترجمہ ہے، جس کا دوسرا ایڈیشن ۱۹۲۱ءمیں دارالاشاعت پنجاب، لاہور سے شائع ہوا۔
زہرا: ایک ترکی ناول کا ترجمہ ہے جو ۱۹۱۷ء میں مسلم یونیورسٹی بک ڈپو علی گڑھ سے شائع ہوا۔
مطلوبِ حسیناں: یہ بھی ایک ترکی ناول کا ترجمہ ہے، جس کا تیسرا ایڈیشن ۱۹۳۷ءمیں شائع ہوا۔
آسیبِ الفت: ترکی زبان سے ترجمہ کردہ یہ ناول پہلی بار نیرنگ خیال میں ۱۹۲۹ء اور مسلم یونی ورسٹی پریس علی گڑھ میں ۱۹۳۰ء میں شائع ہوا۔
ہما خانم: یہ محمد حجازی کے ایک فارسی ناول کا ترجمہ ہے۔ یہ پہلے رسالہ “نیرنگِ خیال” میں قسط وار شائع ہوتا رہا اور پھر ۱۹۳۲ء میں ادارہ ادبِ جدید حیدرآباد نے اسے کتابی صورت میں شائع کیا۔
ایک کہانی چھ ادیبوں کی زبانی: اس منفرد کتاب میں سجاد حیدر یلدرم کے ساتھ نیاز، علی عباس حسینی، ایل احمد، امتیاز علی تاج اور حکیم احمد شجاع نے بھی حصہ لیا۔ یہ ۱۹۳۹ءمیں کتب خانہ علم و ادب دہلی سے شائع ہوئی۔
ڈرامے یلدرم نے ڈرامے کی صنف میں بھی اہم تراجم کیے ہیں
جلال الدین خوارزم شاہ: یہ نامق کمال کے ایک تاریخی تُرکی ڈرامے کا ترجمہ ہے،جو رسالہ’’کہکشاں ‘‘لاہور میں ستمبر ۱۹۱۸ء سے مارچ ۱۹۲۰ء تک شائع ہوا۔کتابی شکل میں ۱۹۲۰ء میں دارالاشاعت پنجاب لاہور سے ۲۵ ستمبر ۱۹۲۵ء میں شائع ہوا۔
پرانا خواب:۱۹۳۰ء میں مسلم یونی ورسٹی پریس علی گڑھ سے چھپ کر منظر عام پر آیا۔
جنگ و جدل: یہ ایک ترکی ڈرامے کا ترجمہ ہے جو ۱۹۳۳ءمیں مسلم یونیورسٹی پریس علی گڑھ سے شائع ہوا۔
یلدرم نے دو رپورتاذ بعنوان’’سفرنامہ بغداد‘‘اور’’زیارت قاہرہ و قسطنطنیہ‘‘ لکھے۔ ’’سفرنامہ بغداد‘‘۱۹۰۴ء میں علی گڑج منتھلی میں شائع ہوا تھا۔ ’’زیارت قاہرہ و قسطنطنیہ‘‘ جولائی اگست ۱۹۱۱ء میں رسالہ ’’تمدن‘‘ دہلی سے شائع ہوا تھا۔
یلدرم کے خطوط ان کی بیٹی قرۃ العین حیدر نے مجموعہ’’دامانِ باغبان‘‘ میں شائع کیے ہیں ۔اس میں کل ۷۰ خطوط ہیں۔
سجاد حیدر یلدرم کے لکھے گئے خطوط کی تفصیل درج ذیل ہے
سجاد حیدر کا خط بنام شمس العلماء مولوی سید ممتاز علی ۹
سجاد حیدر کا خط بنام نذر سجاد حیدر ۴۰
سجاد حیدر کا خط بنام جلیل احمد قدوائی ۷
سجاد حیدر کا خط بنام خواجہ غلام السیدین ۵
سجاد حیدر کا خط بنام قرۃ العین حیدر ۳
سجاد حیدر کا خط بنام مصطفیٰ حیدر ۱
سجاد حیدر کا خط بنام مظہر عمر ۲
سجاد حیدر کا خط بنام شمس العلماء تاجور نجیب آبادی ۱
سجاد حیدر کا خط بنام قاضی عبدالغفار ۱
سجاد حیدر کا خط بنام جناب دلگیر ایڈیٹر نقاد ۱
شمس العلماء مولوی سید ممتاز علی کے نام لکھے گئے نو خطوط (جو دہرہ دون اور مسوری سے لکھے گئے) سجاد حیدر اور نذر سجاد حیدر کے رشتے اور ان کی شادی کے سلسلے میں ہونے والی بات چیت اور ان حالات کو ظاہر کرتے ہیں جن میں وہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے ۔جب کہ ذاتی و سرکاری مصروفیات کے تحت نذر سجاد حیدر کے نام لکھے گئے چالیس خطوط میں یلدرم کے روز و شب کے تمام معاملات، ان کی گوناگوں مصروفیات، مہاراجہ آف محمود آباد کے ساتھ ہونے والی میٹنگز کے تذکرے اور ان کے مختلف دوروں کے احوال ملتے ہیں۔تاریخی و مکانی حوالے سے متعلق خطوط ان کی نقل و حرکت کا پتہ دیتے ہیں۔
یہ تمام کتب سجاد حیدر یلدرم کی علمی اور ادبی وسعتِ نظر کا منہ بولتا ثبوت ہیں، جن میں طبع زاد تخلیقات کے ساتھ ساتھ ترکی اور فارسی ادب کے بہترین تراجم بھی شامل ہیں۔