حیدر بخش حیدری کا تعارف،حالاتِ زندگی،تصانیف اور ادبی خدمات
حیدر بخش حیدری اردو داستانی ادب کے اہم اور معتبر ناموں میں شمار ہوتے ہیں، جن کی شخصیت اور فن کا مطالعہ برصغیر کی ادبی روایت کو سمجھنے میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ حیدر بخش حیدری کے تعارف اور حالاتِ زندگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کلاسیکی داستان گوئی کے دور میں ابھرنے والے وہ فنکار تھے جنھوں نے روایتی حکایات میں نیا اسلوب، زندہ مکالمہ اور علامتی عمق پیدا کیا۔ حیدر بخش حیدری کی داستان نگاری میں کردار نگاری، منظر کشی اور بیانیہ تسلسل ایک خاص فنکارانہ رچاؤ کے ساتھ سامنے آتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی داستانیں نہ صرف عوام میں مقبول رہیں بل کہ ادبی حلقوں میں بھی ان کی قدر افزائی ہوئی۔ ان کی ادبی وراثت کو جاننے کے لیے حیدر بخش حیدری کی تصانیف اور ادبی خدمات کا جائزہ ضروری ہے، جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ انھوں نے داستان کو محض تفریح کا وسیلہ نہیں رہنے دیا بل کہ اسے سماجی، اخلاقی اور فکری اظہار کا مؤثر ذریعہ بنا دیا۔ یوں حیدر بخش حیدری کا نام اردو داستانی ادب میں ایک مستند، توانا اور ہمیشہ زندہ رہنے والی روایت کی علامت بن گیا ہے۔
سید حیدر بخش حیدری کی پیدائش کے متعلق تاریخ میں کوئی ثبوت نہیں ملتے ہیں لیکن ان کی وفات کے متعلق دو طرح کی روایات موجود ہیں۔ ایک کے مطابق ان کی وفات ۱۳۳۹ھ میں ہوئی جب کہ دوسری روایت کے مطابق حیدر بخش حیدری نے ۱۸۳۳ھ کو وفات پائی۔ ان کا تخلص ” حیدری“ تھا اور یہ شاہجہان آباد کے رہنے والے تھے۔ ”گلدستہ حیدری کے دیباچے میں حیدری نے خود کو’’ سید حیدر بخش حیدری متخلص بہ حیدری شاہ جہاں آبادی“ لکھا ہے۔
ان کے والد سید ابو الحسن جب دلی چھوڑ کر لالہ سکھ دیو رائے کے ہم راہ بنارس آئے تو اس وقت وہ نہایت’’ خورد سال“ تھے۔ حد بلوغت کو پہنچے تو نواب علی ابرہیم خان بہادر خلیل کی نوکری اختیار کی اور خود حیدر بخش حیدری کو تربیت و خوشہ چینی کے لیے ان کے سپرد کر دیا۔ نواب علی ابرہیم خلیل نے انھیں اپنے ما تحت قاضی عبد الرشید کی خدمت گزاری میں دے دیا۔
حیدری نے مولوی غلام حسین غازی پوری سے حدیث، فقہ و تفسیر کی تعلیم حاصل کی اور قاضی عبد الرشید سے عربی و فارسی پڑھی۔ اسی زمانے میں حیدری نے اپنے دوست سید جمیعت علی رضوی سے بھی استفادہ کیا۔ بنارس میں معاشی الجھنوں اور بزرگوں و دوستوں کی خدمت گزاری کے باعث وہ اپنے تصنیفی کاموں کو مرتب نہ کر سکے۔ اپنی تعلیم و تربیت اور شاگردی و دوستی کا اعتراف حیدری نے اپنی تالیفات کے دیباچوں میں بار بار ” خوشہ چینی خرمن ِ علم کو نین مولوی غلام حسین غازی پوری مولویٔ عدالت“ کے الفاظ میں ذکر کیا ہے۔ حیدری اور حیدری سے متعلق تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نیک دل اور مثبت سوچ کے انسان تھے۔ ذو الفقار علی مست نے ریاض الوفاق میں لکھا ہے کہ ” موزونیت و لطافت و ظرافت“ ان کی گھٹی میں پڑے تھے۔
بنارس میں قیام کے وقت وہ معاشی دباؤ کا شکار تھے اس لیے نوکری کی تلاش میں مصروف تھے۔ قصہ ”مہر و ماہ ‘‘کے دیباچے میں حیدری نے لکھا ہے کہ “۱۲۱۴ھ میں یہ خبر فیض اثر پہنچی کہ صاحبان عالی شان گفتگو اردوئے معلی کو مرغوب رکھتے ہیں اور اہل سخن کو از راہ قدر دانی کے زیادہ بزرگی دیتے ہیں۔ خصوصا ۔۔۔۔۔۔ عالی مقام صدر نشین محفل اہل کلام مستر جان گل کرسٹ صاحب بہادر۔۔۔۔“ اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے انھوں نے قصہ ”مہر و ماہ“ تیار کیا اور اسے گل کرسٹ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ گل کرسٹ نے حیدری کی صلاحیتوں کو بھانپ کر ۴ مئی ۱۸۰۱ھ کو چالیس روپے ماہوار پر بحیثیت منشی شعبہ ہندوستانی میں ملازم رکھ لیا۔
فورٹ ولیم کالج سے منسلک ہو کر جیسے ہی معاشی فراغت میسر آئی حیدری کے قلم کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا اور اس کی تخلیقی صلاحیتیں تیزی سے ابھر کر سامنے آئیں۔ انھوں نے ”قصہ مہروماہ“ کے علاوہ ”قصہ حاتم طائی، طوطی نامہ ، قصہ لیلی مجنوں“ وغیرہ لکھے اور ساتھ ہی شعر وشاعری کا سلسلہ بھی تازہ دم رہا۔ حیدری کی ایک اور تالیف ”گل مغفرت“ ہے۔ اس کے سرورق پر موجود سال اشاعت سے معلوم ہوتا ہے کہ حیدری ۱۸۱۲ء تک ولیم کالج سے وابستہ اور کلکتہ میں مقیم تھے۔ حیدری بڑی ذہنی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ فورٹ ولیم کالج کے شعبئہ ہندوستانی میں جتنا تالیفی کام حیدری نے کیا شاید ہی کسی دوسرے منشی نے کیا ہو۔ کالج آکر ان کی ذہنی و تخلیقی صلاحیتوں کا دروازہ کھل گیا تھا۔ ان کی کل تیرہ تالیفات( قصہ مہر و ماہ، قصہ لیلی مجنوں، تو تا کہانی، گلدستہ حیدری، مختصر کہانیاں، گلشن ہند ، جامع القوانین ، گلزار دانش ، هفت پیکر ، تاریخ نادری، گل مغفرت ، دیوان حیدری) منظر عام پر آئی ہیں جن میں سے کچھ شایع ہو چکی ہیں اور کچھ اب تک غیر مطبوعہ ہیں۔
تصنیفات کی فہرست
قصہ مہر و ماہ: ۱۷۹۹ءیہ کتاب مفقود ہے۔ اس کا دیباچہ گلدستہ حیدری میں شامل ہے۔
قصہ لیلی مجنوں: امیر خسرو کی فارسی مثنوی کا اردو ترجمہ ، تکمیل ۱۲۱۴ھ ۔ مفقود ہے۔
تو تا کہانی: کالج کی رودادوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۲جنوری ۱۸۰۲ءتک ٹیلی گراف پریس کلکتہ میں چھپنی شروع ہو گئی تھی اور پانچ سو جلدوں کی اشاعت کا پروگرام تھا۔ صفحات ۳۵۲اور اخراجات کا تخمینہ ۵۵۰۰روپے تھا۔ ۱۹۔اگست ۱۸۰۳ءمیں جن کتابوں پر انعام تجویز ہوا، تو تا کہانی“ ان میں شامل نہیں ہے ۔ ۲۹۔اگست ۱۸۰۳ءتک زیر اشاعت تھی۔ دوسری کتابوں کی طرح اس کی اشاعت روک دی گئی اور گلکرسٹ کے ہندی مینول میں چاپ شده اجزا شامل ہو گئے ۔ ۱۸۰۴ءمیں یہ کتاب علاحدہ طور پر اردو رسم الخط میں شائع ہوئی۔
آرائش محفل : ( قصہ حاتم طائی) فارسی نثر سے اردو میں ترجمہ ہوئی۔ اصل قصے میں خاصار دو بدل کیا گیا۔۱۸۰۱ء میں فارسی سے اردو میں لکھی گئی۔ تاریخ تکمیل ۹۔اگست ۱۸۰۳ءتک طباعت کے مرحلے طے کر رہی تھی۔۱۸۰۵ء میں چھپی۔
ہفت پیکر : ۱۸۰۵ءمیں مکمل ہوئی۔ نظامی گنجوی کی مثنوی ہفت پیکر کا ترجمہ ہے۔ نایاب ہے۔
تاریخ نادری: محمد مہدی استر آبادی کی فارسی تصنیف ” جہاں کشائے نادری “ کا ترجمہ ۱۸۰۹ءمیں تکمیل ہوئی۔
گل مغفرت: ملا حسین واعظ کاشفی کی ” روضۃ الشہدا ‘‘ہے۔ حیدری نے پہلے ہی اس کا ترجمہ ” گلشن شہیداں“ کے نام سے کر رکھا تھا۔ اس میں سے کچھ حصے منتخب کر کے ”گل مغفرت “ کے نام سے ترتیب دیا گیا۔
گلزار دانش: ” بہار دانش‘‘ از عنایت اللہ کا ترجمہ ۔ نایاب کتاب ہے۔
گلشن ہند: شعرائے اردو کا تذکرہ ۱۲۱۴ھ میں تکمیل کو پہنچی۔ یہ ایک قلمی نسخہ ہے۔ڈاکٹر مختار الدین احمد اور مالک رام نے مرتب کر کے شایع کیا ہے۔
گلدستہ حیدری: حیدری کے متفرق مضامین، حکایات ، دیباچوں اور منظومات کا مجموعہ ۔ بقول سید محمد ۱۲۱۷ھ میں ترتیب دیا گیا۔ ( صاحب ” ارباب نثر اردو“ اسے غیر مطبوعہ قرار دیتے ہیں لیکن ۹۔اگست ۱۸۰۳ھ کی روداد میں مطبوعہ
جامع القوانین:اس کا ذکر فورٹ ولیم کالج کی رپورٹ میں درج ہے۔ اس کی ضخامت دو سو صفحات بیان کی گئی ہے۔اس پر حیدری کو مبلغ سو روپے انعام ملا۔
تو تا کہانی :تو تا کہانی سید حیدر بخش حیدری کی تیسری تصنیف ہے جو انھوں نے فورٹ ولیم کالج میں تحریر کی تھی۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے تین ایڈیشن ہاتھوں ہاتھ بک گئے اور یہ آج بھی اسی دلچسپی سے پڑھی جاتی ہے۔ حیدری نے جان گلکرسٹ کی فرمائش پر اسے ۱۲۱۵ھ / ۱۸۰۱ءمیں میں لکھا۔ حیدری نے ” خاتمہ “ میں لکھا ہے کہ ” یہ قصہ بتاریخ بیست و ششم شہر ذی قعدہ سنہ مذکور اور پنج شنبہ بوقت شام ۔۔۔۔ انجام کو پہنچا اور اس کا نام ” تو تا کہانی“ رکھا۔
حیدری نے یہ اردو ترجمہ سید محمد قادری کی کتاب ”طوطی نامہ” سے کیا ہے جس کا اظہار اپنے دیباچہ میں کیا ہے کہ محمد قادری کے طوطی نامے کا، جس کا ماخذ طوطی نامہ ضیاء الدین بخشی ہے ، زبان ہندوی (اردو) میں موافق محاورے اردوئے معلیٰ کے نثر میں عبارت سلیس و خوب و الفاظ رنگیں و مرغوب سے ترجمہ کیا اور نام اس کا ” تو تا کہانی“ رکھا تا کہ صاحبانِ نو آموز کی فہم میں جلد آوے۔(بحوالہ قصہ حاتم طائی موسوم آرائشِ محفل،سید حیدر بخش حیدری ،تصحیح و ترتیب اطہر پرویز،مکتبہ جامعہ نئی دہلی ،ص۹۔۱۰)
حیدری کو شعری کا بھی شوق تھا جسے ڈاکٹر عبادت بریلوی نے مرتب کیا ہے، ملاحظہ ہو
برابری کا تیری گل نے جب خیال کیا
صیا نے مار طمانچہ ، مونہ اس کا لال کیا
وھیں ھو چین بہ چین غصے سے کہا ’مت بک‘
کبھی جو بوسے کا اس سے میں ٹک سوال کیا
نہ آئی کچھ بھی مسیحائی تیری کام میرے
بدن سے روح نے آخر کو انتقام کیا
گرا تھا کٹ کے زمین پر کبھی تیرا ناخن
فلک نے اس کو اٹھا کر وھیں ھلال کیا
ادا کا اس کی نہ دیکھا مین حیدری محبوب
خدا نے اس کو زمانے میں بے مثال کیا
(ص ۶۷)
تو تا کہانی یا طوطا کہانی
پہلی بار اردو میں لفظ ”طوطا‘‘’’ت“ سے لکھا گیا ہے جس کی وجہ حیدری نے یہ بتائی ہے کہ ”ہندی میں حرف “طوئے“ نہیں ہے اور اس احقر نے ”طوطی نامہ“ فارسی کو زبان ریختہ میں لکھا اس واسطے طوطی کی ” طوئے “ کو ” تے“ سے بدل کیا۔
سراج الدین علی خان آرزو کی تالیف “نوادر الالفاظ “ میں لفظ ” تو تا “ ، ”ت“ ہی سے ملتا ہے۔
اصل سنسکرت کتاب ”شک سپ تتی
تو تا کہانی کی اصل سنسکرت کی کتاب ” شک سپ تتی “ ہے۔ اس کے معنی ہیں ” طوطے کی کہی ہوئی ستر کہانیاں۔“ اس کتاب کے دو نسخے پائے جاتے ہیں۔
پہلا مر صع: مصنفہ چلتا منی بھٹ۔ اس نے’’ پنچ تنتر “ اور بعض دوسری سنسکرت کتابوں سے اخذ کر کے عورتوں کی آوارگی کی کچھ کہانیاں جمع کیں اور ان کو طوطے کی زبانی کہلوا کر اس کتاب میں جمع کر دیا۔
دوسر اسادہ: یہ نسخہ سو تیامبر جین کا مرتبہ ہے جو کسی قدیم پراکرت یا سنسکرت نظم ہو سامنے رکھ کر مرتب کیا گیا ہے۔
یہ دونوں نسخے کس زمانے میں لکھے گئے کوئی نہیں جانتا مگر اتنا معلوم ہے کہ ۱۲۰۰بکرمی سے پہلے کسی زمانے میں ان کی ترتیب عمل میں آئی کیوں کہ سنسکرت کا مشہور فاضل ھیم چند اپنی کتاب ” یوگ شاستر “ میں طوطی نامے کا ذکر کرتا ہے۔
تو تا کہانی کا خلاصہ
حیدری کی تمام تصانیف و تراجم میں، اردو نثر کے اعتبار سے تو تاکہانی اور آرایش محفل خاصی اہمیت رکھتی ہیں۔ ” تو تا کہانی“ سید محمد قادری کے فارسی ”طوطی نامہ‘‘ کا اردو روپ ہے۔ اس کی ہیئت و تیکنیک وہی ہے جو نخشبی یا قادری کے ’’طوطی نامہ‘‘میں استعمال ہوئی ہے جن میں تو تاہر رات ایک کہانی سناتا ہے۔ اس پر الف لیلیٰ کی تکنیک کا واضح اثر ہے۔ تو تا کہانی میں احمد سلطان نامی ایک دولت مند شخص ہے جس کا کوئی لڑکا نہیں ہے۔ دعاؤں سے لڑکا پیدا ہوتا ہے تو اس کا نام میمون رکھا جاتا ہے اور جب بڑا ہوتا ہے تو ایک حسین و جمیل دوشیزہ سے اس کا عقد کر دیا جاتا ہے۔ ایک دن میمون بازار گیا تو ایک تو تا دیکھا جس کو اس نے ہزار ہن دے کر خرید لیا۔ تو تے کی خاص بات یہ تھی کہ وہ ماضی اور مستقبل کی باتیں زمانہ حال میں بتا سکتا تھا۔ تو تے کی عقل، دانش اور بصیرت کی وجہ سے میمون اسے بہت عزیز رکھتا تھا۔ توتے کی دُسراہت کے لیے اس نے ایک مینا خرید کر توتے کے ساتھ رکھ دی تھی۔ ایک دن میمون نے خجستہ سے کہا کہ وہ سفر پر جارہا ہے۔ اس کے پیچھے وہ جو بھی کام کرے تو تو تے اور مینا سے مشورے کے بعد کرے۔ میمون چلا گیا تو خجستہ اُس کے فراق میں بے چین ہو گئی۔ اس عرصے میں توتا اسے کہانیاں سنا کر دلا سا دیتا رہا۔ اتفاق سے ایک دن خجستہ سیر کے لیے کوٹھے پر گئی تو اور وہاں سے ایک شہزادہ اسے دیکھ کر عاشق ہو گیا اور ایک مکارہ عورت کو اس کے پاس بھیجا۔ خجستہ اُس کے جھانسے میں آگئی اور رات کو اس کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔ سج بن کر جب تیار ہوئی تو مشورے کے لیے مینا کے پاس آئی۔ مینا نے اسے منع کیا تو غصے میں آکر اُس کی گردن مروڑ دی۔ پھر وہ توتے کے پاس گئی۔ تو تا مینا کا انجام دیکھ چکا تھا اس نے اس کی ہاں میں ہاں میں ہاں ملائی اور کہا اگر تیرے وہاں جانے کی بات شوہر کو معلوم ہو بھی گئی تو وہ اسے اس طرح اس کے شوہر سے ملادے گا جیسے فرخ بیگ سوداگر سے اس کی جو رو کو دوبارہ ملادیا تھا۔ خجستہ نے پوچھا کہ وہ کیا بات تھی۔ یہ سوال سن کر تو تے نے سارا قصہ اسے کہ سنایا اور یوں رات گزر گئی اور اس کا جانا موقوف رہا۔ اس طرح وہ ہر رات سج سنور کر توتے کے پاس آتی اور تو تا اس کے پوچھنے پر اسے وہ کہانی سناتا جس کا ذکر اس کی زبان پر آیا تھا لیکن جب کہانی ختم کو جاتی تو صبح ہو جاتی اور خجستہ کا جاناٹل جاتا۔ تو تا اسی طرح ہر رات اسے ایک نیا قصہ سناتا رہا اور ۳۵ ویں رات کہانی ختم ہوئی تو میمون واپس آگیا۔ مینا کا پنجرہ خالی دیکھ کر اس نے پوچھا کہ مینا کہاں گئی۔ ابھی خجستہ کچھ کہنے نہ پائی تھی کہ تو تے نے کہا: ” پیرومر شد ! آپ ادھر تشریف لائیں اور مینا و خجستہ کا حال مجھ سے پوچھیں۔ مینا کو آپ کی بیگم صاحبہ نے گردن مروڑ کر اپنے یار کے واسطے مار ڈالا اور مجھے بھی مارا چاہتی تھی کہ میں نے آپ کے قدم دیکھے تھے ۔ “ اس بات کو سنتے ہی میمون تاب نہ لا سکا اور ایک ہی وار میں خجستہ کا کام تمام کر دیا۔ اس کے ساتھ تو تا کہانی ختم ہو جاتی ہے ” ۔ سنسکرت میں تو تا کہانی کے مرکزی کردار آخر میں ایک دوسرے سے مفاہمت کر لیتے ہیں اور امن و آشتی سے رہنے سہنے لگتے ہیں۔ یہاں در گذر کو بدل کر نیکی کی فتح اور بدی کی شکست دکھائی گئی ہے۔ ہر محبت جنسی محبت ہے اور ہر کردار دوسرے کو پہلی نظر میں ہی اپنا ہم راز اور محبت کا امانت دار بنالیتا ہے۔ انسان کی بدی کا پہلو بار بار نیکی سے رجوع کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور بدی ملتی رہتی ہے اور آخر میں نیکی کامیاب ہوتی ہے۔
تخیل کی پرواز کی اس کہانی میں بھی فروانی ہے جس پر ہر نا ممکن بات ممکن ہو جاتی ہے۔ ان باتوں کو اس طرح بیان اور نمایاں کیا جاتا ہے کہ پڑھنے والے کی توجہ اس کے نا ممکن ہونے کے طرف نہیں جاتی۔ پہلے قصے میں تو تا جسے بلی کھا گئی تھی، دوبارہ سامنے آتا ہے تو مالک کے پوچھنے پر بتاتا ہے کہ تم نے چوں کہ اپنی بے گناہ بی بی کو نکال دیا تھا تو حق سبحانہ تعالی نے مردے کو زندہ کر دیا۔ عقیدے کے مطابق اللہ قادر مطلق ہے اور اس پر ہر شخص پورا ایمان رکھتا ہے۔
حیدر بخش حیدری: اردو نثر میں سادگی، روایت اور فنی شعور کا امتزاج
اردو نثر کی ارتقائی تاریخ میں اگر چند ایسے نام تلاش کیے جائیں جنھوں نے نثر کو داستان کی صورت میں نہ صرف جِلا بخشی بل کہ اسے فنی سطح پر بھی مضبوط بنیاد فراہم کی، تو حیدر بخش حیدری کا نام ان میں نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کا دور وہ تھا جب اردو نثر فارسی اسلوب کی جھلک سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہوئی تھی، مگر حیدری نے اپنے طرزِ نگارش سے ایک ایسا میانہ روی کا راستہ اختیار کیا جس میں روایت کی شائستگی اور فطری اظہار کی تازگی یکجا دکھائی دیتی ہے۔
نثری اسلوب اور لسانی شعور
حیدری کی نثر کا بنیادی جوہر سادگی، صفائی اور قدرتی روانی ہے۔ ان کے ہاں عبارت نگاری میں لفظوں کی تراش خراش اور فکری وضاحت دونوں کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ وہ مقفع و مسجع انداز سے اجتناب کرتے ہیں، لیکن اس وقت کے ادبی ذوق کے تحت فارسی و عربی الفاظ کے مناسب استعمال سے اپنی نثر میں ایک وقار اور شائستگی پیدا کرتے ہیں۔ ان کا یہ اسلوب نہ صرف ان کے زمانے کے لیے قابلِ قدر تھا بلکہ بعد کے نثر نگاروں کے لیے بھی ایک رہنما نمونہ بن گیا۔
ترجمہ نگاری میں فنی مہارت
حیدری کو اپنی ترجمہ نگاری کے منفرد انداز کے باعث اردو نثر میں خاص مقام حاصل ہے۔ وہ ترجمے کو محض لفظی تبدیلی نہیں سمجھتے بل کہ اسے لسانی، فکری اور تہذیبی ترسیل کا عمل قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایک کامیاب ترجمہ وہی ہے جو نہ صرف اصل متن کے مفہوم کو برقرار رکھے بل کہ قاری کے ذوق، زبان کے محاورے، اور ثقافتی پس منظر سے بھی ہم آہنگ ہو۔ ان کے تراجم میں یہ خصوصیت نمایاں ہے کہ وہ مطالب و معانی کو اردو کے رائج محاورات اور روزمرہ کی زبان میں ڈھالتے ہیں، جس سے ان کی تحریر میں دلچسپی اور فطری بہاؤ پیدا ہو جاتا ہے۔
داستانی اسلوب اور فنی بیانیہ
اردو داستان نگاری کی روایت میں بے ساختگی، تخیل اور بیانیہ روانی کو ہمیشہ کلیدی اہمیت حاصل رہی ہے۔ حیدری کی داستانوں میں یہ تینوں خصوصیات نمایاں ہیں، مگر ان میں ایک اضافی وصف بھی ہے — یعنی فنی ٹھہراؤ اور فکری سنجیدگی۔ ان کی تحریر میں جذباتی جوش کے ساتھ ایک علمی توازن پایا جاتا ہے، جو انہیں محض قصہ گو نہیں بل کہ ادبی معمار کے درجے پر فائز کرتا ہے۔ ان کے جملے اگرچہ طویل ہیں، مگر ان میں معنیاتی تسلسل اور جملہ سازی کی صحت برقرار رہتی ہے، جو ان کے لسانی ذوق کی پختگی کی دلیل ہے۔
تہذیبی و سماجی شعور
حیدری کی داستانوں کو ان کے عہد کی سماجی و ثقافتی تاریخ کے آئینے کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ انھوں نے اپنے زمانے کے عقائد، رسوم، طبقاتی رویّوں، اور روزمرہ زندگی کو نہایت باریکی سے پیش کیا۔ ان کی تحریروں میں ایک ایسا تہذیبی شعور جھلکتا ہے جو محض مشاہدے کا نتیجہ نہیں بل کہ ایک گہری فکری وابستگی کا مظہر ہے۔ ان کی زبان اس عہد کی زندہ بول چال کی عکاس ہے، جس میں سادگی کے ساتھ اظہار کی مؤثریت بھی موجود ہے۔
ادبی مقام اور اثرات
حیدر بخش حیدری کی ادبی شہرت ان کی دو معروف داستانوں، “تو تا کہانی“ اور “آرایشِ محفل“ سے وابستہ ہے۔ یہ دونوں تخلیقات نہ صرف ترجمہ نگاری کی عمدہ مثالیں ہیں بل کہ ان میں فکری وسعت، بیانیہ حسن اور تخلیقی روانی کا امتزاج بھی پایا جاتا ہے۔ حیدری نے اپنے ترجموں میں تہذیبی ترمیم اور بیانیہ تنظیم کے ذریعے داستان کو نئی معنویت عطا کی۔ ان کا یہی طرزِ بیان بعد کے مصنفین کے لیے ایک مثالی سانچہ بن گیا، جس نے اردو نثر کو جدید اسلوب کی طرف گامزن کیا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو حیدر بخش حیدری کی نثر میں سادگی اور تہذیب، روایت اور جدت، اور جذبہ و شعور کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ ان کا نام ان داستان نویسوں میں شامل ہے جنھوں نے اردو نثر کو زبان کی سطح سے بلند کر کے ایک فنی تجربے میں بدل دیا۔ ان کے اسلوب میں نہ صرف ماضی کی جھلک بل کہ مستقبل کی سمت بھی پوشیدہ ہے۔ یہی سبب ہے کہ وہ اردو کے ان چند نثر نگاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نثر کو محض اظہار نہیں بل کہ فنِ بیان کا استعارہ بنا دیا۔
کتابیات
رفیع الدین ہاشمی، اصنافِ ادب ، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور ۲۰۱۸ء
ڈاکٹر ، جمیل جالبی، تاریخ ادب اردو ، جلد سوم ، باب پنجم
حیدر بخش حیدری، تو تا کہانی، مرتبہ۔ کارکنان مجلس ترقی ادب، ناشر سید امتیاز علی تاج، مطبع، مدنی پر نٹنگ پریس، لاہور، مطبع اکتوبر ۱۹۶۳ء
ہماری داستانیں،سید وقار عظیم، مکتبہ عالیہ یوپی ،نومبر ۱۹۶۸ء
گل کرسٹ اور اس کا عہد،انجمن ترقی اردو، نئی دہلی،۱۹۷۹ء
اردو کی نثری داستانیں،ڈاکٹر گیان چند جین،۱۹۵۴ء
اربابِ نثر اردو،سید محمد قادری،۱۹۲۷ء
دیوانِ حیدری، داکٹر عبادت بریلوی،پنجاب ادبی اکادمی پریس، لاہور