تجزیات
تجزیات، تبصرے اور مقالات کے لیے
داستان امیر حمزہ اور طلسم ہوش ربا کا تعارف ،تجزیہ ،کہانی اور کرداروں کا مطالعہ
داستانِ امیر حمزہ اردو ادب کی عظیم اور کلاسیکی داستانوں میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ داستانِ امیر حمزہ کا سب سے مشہور اور مقبول حصہ طلسمِ ہوشربا ہے اُردو ادب میں ایک مستقل داستان کی حیثیت رکھتا ہے۔
باغ و بہار کا خلاصہ، تنقیدی جائزہ ،کردار نگاری اور پی ڈی ایف کتب
باغ و بہار‘‘ اردو کلاسیکی نثر کا ایک شاہکار ہے، جس کا خلاصہ، تنقیدی جائزہ اور کردار نگاری آج بھی ادب کے طلبا اور محققین کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس کتاب میں میر امن دہلوی کی روایت کردہ داستان نہ صرف اسلوبِ بیان کی خوبصورتی دکھاتی ہے بل کہ کرداروں کی نفسیاتی پرتیں بھی واضح کرتی ہےزیرِ نظر تحریر میں ’’باغ و بہار پی ڈی ایف‘‘اور اس داستان سے متعلق پی ۔ڈی ۔ایف مواد بھی شامل کردیا گیا ہے۔
مرزا غالب کے حالات زندگی،شاعری،نثر اورپی۔ڈی۔ایف تصانیف
مرزا اسداللہ خان غالب (پ: ۱۷۹۶ء، آگرہ) اردو اور فارسی کے اُن نابغۂ روزگار اہلِ قلم میں سے ہیں جنھوں نے برِّصغیر کی فکری و ادبی روایت کو غیر معمولی وسعت بخشی۔
مثنوی قطب مشتری کا خلاصہ،اسلوب اور ملا وجہی کا تعارف
’’قطب مشتری‘‘ محمد قلی قطب شاہ اور مشتری کے عشق کی داستان ہے اور اسی مناسبت سے اس کا نام ’’قطب مشتری‘‘ رکھا گیا ہے۔ یہ ’’مشتری‘‘ وہی ہے جو بھاگ متی کے نام سے مشہور تھی اور اپنے رقص و موسیقی اور حسن و جمال کی وجہ سے شہرت رکھتی تھی۔
امام بخش ناسخؔ
شیخ امام بخش، جنھیں دنیائے ادب میں ناسخؔ کے تخلص سے شہرت حاصل ہوئی، اردو شاعری کے ان درخشاں ستاروں میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے لکھنؤ کی ادبی فضا کو جِلا بخشی۔
غلام ہمدانی مصحفی کا تعارف، تصانیف اور شعری خصوصیات
ان کا اصل نام شیخ غلام ہمدانی اور تخلص مصحفی ؔتھا۔ وہ ۱۷۵۰ء میں ضلع مرادآباد کے نواحی علاقے امروہہ (بعض روایات میں امرودہ) کے ایک معزز اور علم دوست خاندان میں پیدا ہوئے۔
خواجہ حیدر علی آتشؔ کی شعری خصوصیات اور کلیات
خواجہ حیدر علی، جنھیں دنیائے ادب میں آتش ؔکے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اردو شاعری کے اُن باکمال فنکاروں میں سے ہیں جنھوں نے دبستانِ لکھنؤ کو اپنی انفرادیت اور فنّی توانائی سے ایک خاص وقار بخشا۔
انشا اللہ خان انشا کا تعارف، تصانیف اور رانی کیتکی کی کہانی کا خلاصہ
انشا تخلص سید انشا اللہ خا ں نام تھا اور سید حکیم میر ماشا اللہ خاں کے فرزند تھے ۔ ان کا خاندان سلطنت مغلیہ کے زوال کے زمانے میں یہ مرشد آباد پہنچے اور وہیں انشا کی پیدائش ۱۷۵۶ء ۔۵۷ء میں ہوئی ۔
میر حسن کی منثوی نگاری اور حالات زندگی
اردو ادب کے کلاسیکی شعرا میں میر غلام حسن جن کا تخلص حسنؔ تھا، ایک نمایاں اور منفرد مقام رکھتے ہیں۔ان کی سب سے مشہور مثنوی “سحرالبیان” ہے جو ان کی ادبی زندگی کا شاہکار شمار کی جاتی ہے۔
آنند نرائن ملّا کی شاعری اور خدمات
آنند نرائن ملا ۱۹۰۱ءمیں لکھنؤ کے ایک معزز کشمیری برہمن گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جسٹس جگت نرائن ملا لکھنؤ کے ممتاز وکیل اور بااثر سماجی شخصیت تھے۔
خواجہ میر درد۔شاعری اور حالات زندگی
دردؔ ۱۷۲۰ءمیں دہلی میں پیدا ہوئے۔انھوں نے اپنے دور کی روحانی فضا کو اپنی شاعری میں سمویا اور غزل کی لطافتوں کو روحانی واردات کا آئینہ بنایا۔
مثنوی پھول بن کا خلاصہ اور تنقیدی جائزہ
مثنوی ’’پھول بن‘‘کو ابن نشاطی نے سلامت اور سادگی کے ساتھ ساتھ صناعی کا عمدہ نمونہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس نظم میں انشا پر دازی کے مکمل لوازمات پائے جاتے ہیں ۔
ہمارے بارے میں
ذوقِ ادب ایک آن لائن ادبی دنیا ہے جہاں اردو کے دلدادہ افراد کو نثر و نظم کی مختلف اصناف، کلاسیکی و جدید ادب، تنقید، تحقیق، اور تخلیقی تحریریں پڑھنے اور لکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد اردو زبان و ادب کے فروغ، نئی نسل میں مطالعہ کا ذوق بیدار کرنے اور قاری و قلم کار کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنا ہے۔
ذوقِ ادب
Quick Links
Contact
+923214621836
lorelsara0@gmail.com
