ولی دکنی: حیات، تعلیم، عہد اور ادبی خدمات

تخلص ’’ولی‘‘ اور اصل نام کے حوالے سے محققین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض نے ان کا نام شمس الدین محمد ولی، بعض نے ولی محمد، بعض نے محمد ولی اللہ اور بعض نے ولی اللہ شاہ لکھا ہے۔ تذکرہ نگاروں اور محققین میں اس بارے میں یکسانی نہیں ملتی۔ تاہم اردو کے ابتدائی اور اہم شاعر کی حیثیت سے ولی کی شہرت مسلم ہے۔

ولی کی پیدائش میں اختلاف ہے تاہم   ان کی وفات ۲۰ اکتوبر ۱۷۰۷ء احمد آباد میں ہوئی ،اس بات پر سب کو اتفاق ہے۔ولی کے وطن کے بارے میں بھی اختلاف ہے۔ بعض مؤرخین اورنگ آباد کو ان کا وطن قرار دیتے ہیں، جب کہ کئی محققین گجرات کو ان کا اصل وطن ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ولی کی زندگی کا بڑا حصہ دکن اور گجرات دونوں میں گزرا، اسی لیے دونوں مقامات ان کے لیے یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔

ولی کو علم حاصل کرنے کا بے پناہ شوق تھا۔ وہ نہ صرف مذہبی اور علمی علوم سے واقف تھے بل کہ فارسی اور علومِ متداولہ پر بھی گہری دسترس رکھتے تھے۔ انھوں نے مختلف شہروں کا سفر کیا، خصوصاً گجرات، احمد آباد اور دہلی گئے۔ ان کے بارے میں یہ بھی روایت ہے کہ وہ حج اور زیارتِ مدینہ منورہ کے لیے بھی گئے تھے۔

ادبی ماحول اور عہد

ولی کا زمانہ عادل شاہی حکمرانوں کا دور تھا، جو علم و ادب اور فنونِ لطیفہ کے بڑے سرپرست تھے۔ ان کے دربار میں علما، شعرا، موسیقار اور ماہرین فن کو عزت و مقام حاصل تھا۔

ابراہیم عادل شاہ اول: اگرچہ خود شاعر نہ تھے مگر علم و فن کے دلدادہ تھے۔

علی عادل شاہ اول: ایران و عراق تک سے علما کو بلایا اور ایک عظیم کتب خانہ قائم کیا۔

ابراہیم عادل شاہ ثانی: خود شاعر اور موسیقی کے ماہر تھے، ’’کتابِ نورس‘‘ ان کی تصنیف ہے۔

علی عادل شاہ ثانی (شاہی): نہ صرف خود شاعر تھے بل کہ ان کے دربار میں نصرتی، مرزا اور ہاشمی جیسے عظیم شعرا موجود تھے۔

عادل شاہی دور کو بجا طور پر اردو ادب کا زریں دور کہا جا سکتا ہے۔ اس وقت غزل، قصیدہ، مثنوی اور ریختی جیسی اصناف نے عروج پایا۔ نصرتی کی رزمیہ مثنوی ’’علی ناصرہ‘‘، ہاشمی کی ’’یوسف زلیخا‘‘ اور مرزا کے مرثیے اس دور کی نمایاں تخلیقات ہیں۔

ولی کی شاعری میں دکنی اور گجراتی تہذیب کے اثرات نمایاں ہیں۔ ان کے کلام میں ہندوستانی تشبیہات، تلمیحات، رسم و رواج، لباس اور تہذیبی مظاہر جھلکتے ہیں۔ انھوں نے بیجاپور اور گولکنڈہ کے شعرا سے اثر قبول کیا، خصوصاً حسن شوقی بیجا پوری اور علی عادل شاہ ثانی شاہی کے رنگ ان کے کلام میں جھلکتے ہیں۔

ولی کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ انھوں نے دکن کی شعری روایت کو آگے بڑھایا اور اردو غزل کو ایک نئی جہت دی۔ ان کے کلام نے دہلی کے شعرا کو متاثر کیا اور شمالی ہند میں اردو شاعری کے فروغ کی بنیاد رکھی۔ اسی لیے انھیں بجا طور پر ’’اردو غزل کا باوا آدم‘‘ کہا جاتا ہے۔

ولی دکنی کی تصانیف

ولی دکنی کا اصل ادبی سرمایہ ان کا کلیاتِ ولی ہے، جو ان کے کلام کا جامع ذخیرہ ہے۔ ان کی دیگر تصانیف کے بارے میں بھی تذکرہ نگاروں نے ذکر کیا ہے۔

 کلیاتِ ولی میں غزلیں، قصائد، مثنویاں اور رباعیات شامل ہیں۔کلیاتِ ولی پہلی مرتبہ دہلی میں 1720ء کے لگ بھگ پہنچا اور دہلی کے شعرا پر گہرا اثر ڈالا۔اردو غزل کے فروغ میں یہ کتاب سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

بعض محققین کے مطابق ’’دیوان‘‘ اور ’’کلیات‘‘ دونوں ایک ہی مجموعے کے نام ہیں۔بعض اسے الگ تذکرہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ غزلوں پر مشتمل مختصر انتخابی مجموعہ تھا۔ولی کے کلام میں متعدد قصائد اور مثنویاں بھی شامل ہیں۔ان مثنویوں میں موضوعات زیادہ تر اخلاقی اور صوفیانہ رنگ لیے ہوئے ہیں۔اگرچہ تعداد میں کم ہیں لیکن ولی کی رباعیات میں سادگی، جذبہ اور صوفیانہ کیفیت پائی جاتی ہے۔ولی دکنی کی اصل شہرت اور اہمیت ان کی کلیات کی وجہ سے ہے۔ یہی کتاب دہلی پہنچی اور وہاں کے شعرا نے اس سے متاثر ہو کر اردو غزل کو باقاعدہ صنفِ سخن بنایا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ ولی کی یہ کتاب اردو ادب میں ایک انقلاب لے کر آئی۔

 

ولی دکنی کا کلام

غزل

خوبی میں گل رخاں سوں ممتاز ہے سراپا

عاشق کے مارنے کا انداز ہے سراپا

تجھ قد کوں دیکھ بولے یو نا ز ہے سراپا

تو حسن ہو ر ادا میں اعجاز ہے سراپا

جاں بخش مجھ کوں تیرا آواز ہے سراپا

ہر چند حسب ِظاہر طنّاز ہے سراپا

وو نازنیں ادا میں اعجاز ہے سراپا                    

اے شوخ تجھ نَین میں دیکھا نگاہ کر کر                  

جگ کے اداشناساں ہے جن کی فکر عالی             

کیوں ہو سکیں جگت کے دلبر ترے برابر            

گا ہے اسے عیسوی دم یک بات لطف  سوں کر        

مجھ پر ولیؔ ہمیشہ دلدار مہرباں ہے                    

غزل

آتش عشق پڑی عقل کے سامان میں آ

اے چمن زارِ حیا دل کے گلستان میں آ

شمع روشن کیا مجھ دل کے شبستان میں آ

اشک کرتے ہیں مکاں گوشتۂ دامان میں آ

 جب بسی زلفِ صنم طبعِ  پریشان میں آ

دفترِ در دبسا عشق کے دیوان میں آ

 چاک دل تب سو ں بسا  چاکِ گریبان میں آ

 رنگِ یا قوت چھپا ہے خطِ ریحان میں آ

طالبِ عشق ہو ا صورتِ انسان میں آ

عقل کوں چھوڑ کے مت مجلسِ رندان میں آ

 اے شہ ِملک ِجنوں غم کے بیابان میں آ

دیو مختار ہوا ملکِ سلیمان میں آ

 یوسفِ حسن ترے چاہِ زنخدان میں آ

 چھپ  رہا آکے ترے لب کے نمک دان میں آ

وو صنم جب سوں بسا دیدہ حیران میں آ

ناز دیتا نہیں گر رخصتِ گل گشتِ چمن

عیش ہے عیش کہ اُس مہ کا خیالِ روشن

یاد آتا ہے مجھے جب وو گلِ باغ وفا

موجِ بے تابی دل اشک میں ہوئی جلوہ نما

نالہ و آہ کی تفصیل نہ پوچھو مجھ سوں

پنجۂ  عشق نے بے تاب کیا جب سوں مجھے

دیکھ اے اہِل نظر سبزہ ٔخط میں لبِ لعل

حسن تھا پردہ ٔتجرید میں سب سوں آزاد

شیخ یہاں بات تری پیش نہ جاوے ہرگز  

درد منداں کو بجز درد نہیں صید مراد

حاکم وقت ہے تجھ گھر میں رقیبِ بدخو

چشمۂ  آب بقا جگ میں کیا ہے حاصل

جگ کے خوباں کا نمک ہو کے نمک پروردہ

ولی دکنی کا اصل ادبی سرمایہ ان کا کلیاتِ ولی ہے، جو ان کے کلام کا جامع ذخیرہ ہے۔ ان کی دیگر تصانیف کے بارے میں بھی تذکرہ نگاروں نے ذکر کیا ہے۔

 کلیاتِ ولی میں غزلیں، قصائد، مثنویاں اور رباعیات شامل ہیں۔کلیاتِ ولی پہلی مرتبہ دہلی میں 1720ء کے لگ بھگ پہنچا اور دہلی کے شعرا پر گہرا اثر ڈالا۔اردو غزل کے فروغ میں یہ کتاب سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

بعض محققین کے مطابق ’’دیوان‘‘ اور ’’کلیات‘‘ دونوں ایک ہی مجموعے کے نام ہیں۔بعض اسے الگ تذکرہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ غزلوں پر مشتمل مختصر انتخابی مجموعہ تھا۔ولی کے کلام میں متعدد قصائد اور مثنویاں بھی شامل ہیں۔ان مثنویوں میں موضوعات زیادہ تر اخلاقی اور صوفیانہ رنگ لیے ہوئے ہیں۔اگرچہ تعداد میں کم ہیں لیکن ولی کی رباعیات میں سادگی، جذبہ اور صوفیانہ کیفیت پائی جاتی ہے۔ولی دکنی کی اصل شہرت اور اہمیت ان کی کلیات کی وجہ سے ہے۔ یہی کتاب دہلی پہنچی اور وہاں کے شعرا نے اس سے متاثر ہو کر اردو غزل کو باقاعدہ صنفِ سخن بنایا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ ولی کی یہ کتاب اردو ادب میں ایک انقلاب لے کر آئی۔

 

ولی دکنی کے کلام کا سرمایہ،کتب کی شکل میں

کلیاتِ ولی۔مرتبہ مولانا احسن مارہروی،مطبوعہ انجمن ترقی اردو ہند،۱۹۲۷ء

دیوانِ ولی، حیدر ابراہیم سایانی، ۱۹۲۲۔۲۳ء،پونا

علی گڑھ تاریخ ادب اُردوجلد اول،علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی، ۱۹۲۶ء

دیوانِ ولی، گارساں دتاسی،۲ جلدیں،۱۸۳۳ء،پیرس

یادگارِ ولی۔مرتبہ سید محمد صاحب،۱۸۳۷ء        (اس کے مقدمے میں ولی کے حالاتِ زندگی پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے)

دیوانِ ولی،محمد منظور،مطبع حیدری ممبئی  (یہ نسخہ نایاب ہے)

کلیات و لی طبع دوم و سوم ، مرتبہ ڈاکٹر نورالحسن ہاشمی،انجمن ترقی اُردو، پاکستان،۱۹۵۴ء

دیوان ِولی، نولکشور ،۱۸۷۸ء

ریختہ ولی یعنی دیوان ولی کا  انتخاب مع مقدمہ و فرہنگ، مرتبہ ڈاکٹر نور الحسن ہاشمی، ساہی پریس لکھنؤ،۱۹۵۴ء

انتخابِ ولی،تصحیح و ترتیب :ڈاکٹر سید ظہیر الدین مدنی ،لبرٹی آرٹ پریس،دہلی،ستمبر،۱۹۷۱ء

انتخاب ولی ،ناصر کاظمی،ترتیب و تعارف :باصر سلطان کاظمی،آغاز پبلشرز ،لاہور،جولائی ،۱۹۹۱ء

ولی دکنی کے فن اور حیات پر کتب

آبِ حیات۔مولانا  محمد حسین آزاد      (اردو کے ابتدائی تذکروں میں شامل، اس میں ولی کے حالات اور کلام کا ذکر ملتا ہے)

مقالاتِ ہاشمی۔نصیر الدین ہاشمی         (ولی دکنی کی حیات اور کلام پر تحقیقی مباحث پر مقالات یک جا کیے گئے ہیں۔)

تذکرۂ شعرائے دکن۔محبوب الزمن(جلد دوم)،مولوی ابو التراب محمد عبد الجبار صوفی ملکا پوری براری حیدر آبادی، مطبع رحمانی، حیدر آباد، ۱۹۱۳ء

نذرِ ولی، طالبات جامعہ عثمانیہ،حیدر آباد،۱۹۳۷

دکن میں اُردو،نصیر الدین ہاشمی،۱۹۳۶ء

ولی گجراتی،ظہیر الدین مدنی،۱۹۵۰ء

نور المعرفت ،مرتبہ سید ظہیر الدین مدنی اردو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بمبئی،۱۹۵۱ء

ولی گجراتی ،مرتبہ سید ظہیر الدین مدنی، اُردو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بمبئی،۱۹۵۲ء

تحفتہ الشعراء ،مرزا افضل بیگ قاقشال ،مرتبہ حفیظ قتیل، ادارہ ادبیات اردو ،حید ر آباد، ۱۹۶۱ء

تاریخ ادب اردو ،محی  الدین قادری زور ،ادارہ ادبیات اردو ،حیدر آباد، ۱۹۶۳ء

تذکره ٔ گلشن گفتار، خواجہ خان حمید اورنگ آبادی ،مترجم : ایم کے۔ فاطمی ، دانش محل لکھنو، ۱۹۶۳ء

اردو ئے قدیم ،حکیم شمس اللہ قادری،مطبع  تیج کمار وارث ، مطبع نول کشور لکھنو، ۱۹۶۷ء

مطالعہ ولی تنقید و انتخاب۔شارب ردولوی،نصرت پبلشرز وکٹوریہ اسٹریٹ،لکھنؤ،جنوری ۱۹۷۲ء

ولی دکنی، ڈاکٹر جمیل جالبی،فصل ششم،باب اول،تاریخ ادب اُردو،جلد اول،ایجوکیشن پبلشنگ ہاؤس،دہلی،۱۹۷۷ء

ولی سے اقبال تک،ڈاکٹر سید عبداللہ،۱۹۸۵ء

ولی تحقیقی و تنقیدی مطالعہ ۔مرتب محمد خان اشرف          (ولی کی حیات و فن پر تحقیقی و تنقیدی مضامین مرتب کیے گئے ہیں)

تاریخِ ادبِ اردو (علی گڑھ) ڈاکٹر ظہیر الدین برنی و سخاوت مرزا    (اردو ادب کی تاریخ کے پس منظر میں ولی کے مقام اور اہمیت پر گفتگو۔)

ولی دکنی: حیات و شاعری پروفیسر مسعود حسین خاں      (ولی کی حیات، ادبی خدمات اور ان کی غزل گوئی پر ایک جامع تحقیقی کتاب۔)

اردو کی پہلی کتاب (کلیات ولی کا مقدمہ) مولوی عبدالحق   (مولوی عبدالحق نے ولی کے کلام کو اردو کی پہلی باقاعدہ “کتاب” قرار دیا اور اس پر تحقیقی مقدمہ لکھا۔)

ولی اور ان کے معاصرین ڈاکٹر جمیل جالبی       (ولی کو ان کے عہد اور معاصر شعرا کے ساتھ رکھ کر تحقیقی و تنقیدی مطالعہ۔)

اردو غزل ولی تک: تاریخی و تنقیدی جائزہ،مرتبہ ڈاکٹر سید ظہی الدین مدنی،مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،بمبئی،

ولی — ہندوستانی ادب کے معمار نور الحسن ہاشمی

سخنورانِ گجرات،ڈاکٹر سید ظہیر الدین مدنی،ترقی  اردو  بیورو ،نئی دہلی،۱۹۸۱ء

تاریخ شاہ جہان،ڈاکٹر بنارسی پرشاد سکسینہ(اردو ترجمہ:ڈاکٹر سید اعجاز حسین)،ترقی اردو بیورو،نئی دہلی،۱۹۸۵ء

اور نگ زیب کے عہد میں مغل امراء ،محمد اطہر علی، ترقی اردو بیورو نئی دہلی، ۱۹۸۵ء

دکنی ادب کی تاریخ، محی الدین قادری زور، ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ، ۱۹۸۹ء

نوادرات ِتحقیق ، ڈاکٹر محمد علی اثر ، ادارہ ادبیات اُردو، حیدر آباد ، ۱۹۹۲ء

کتب خانہ جامع مسجد بمبئی کے اردو مخطوطات ، حامد اللہ ندوی ،ماڈرن پبلشنگ ہاؤس، ۱۹۹۵ء

شیخ چاند حیات اور ادبی خدمات ، ڈاکٹر سید منیر الدین سحر سعیدی ،اور نگ آباد ، ۱۹۹۸ء

اُردو کا ابتدائی زمانہ۔ ادبی تہذیب و تاریخ کے پہلو ، شمس الرحمٰن فاروقی ، آج کی کتابیں ۔کراچی ، ۱۹۹۹ء

ملفو ضاتِ نقشبندیہ،مرتبہ حضرت با با شاه محمود، اُردو ترجمہ: محمد محب اللہ فاروقی ، ۱۹۹۹ء

اور نگ زیب عالمگیر پر ایک نظر ،علامہ شبلی نعمانی، دارالمصنفین ،شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ، ۱۹۹۹ء

اُردو غزل اور ہندوستانی ذہن و تہذیب ،ڈاکٹر گوپی چند نارنگ، قومی کونسل برائے فروغ زبان ِ اُردو،دو نئی دہلی، ۲۰۰۳ء

آئینہ ٔ معنی نما(ولی اورنگ آبادی۔بعض حقائق)،اسلم مرزا،نوائے دکن پبلیکیشنز،اورنگ آباد،اکتوبر ۲۰۰۳ء

ولی دکنی کے فن و حیات کےبارے میں مختلف رسائل و جرائد میں شایع ہونے والے مضامین

دیوانِ ولی کے قلمی نسخے، محمد اکرام چغتائی،رسالہ اُردو، انجمن ترقی اُردو ، پاکستان،کراچی، شمارہ جولائی و اکتوبر،۱۹۲۲ء

دیوانِ ولی کا غیر مطبوطہ کلام ، محمد اکرام چغتائی،رسالہ اُردو، انجمن ترقی اُردو ، پاکستان،کراچی، شمارہ جنوری،۱۹۲۷ء

الموسیٰ،جشنِ ولی، یاد گار نمبر،سٹی کالج میگزین،حیدر آباد،۱۹۳۷ء

مضمون از ڈاکٹر سیدعبداللہ، برگِ گل میگزین، اُردو کالج کراچی،۱۹۵۳ء

دکنی ادب نمبر،مجلۂ عثمانیہ،۱۹۶۳۔۶۴ء

ولی کا سالِ وفات،ڈاکٹر جمیل جالبی، رسالہ تحریر،دہلی،شمارہ نمبر ۱۸، ۱۹۷۶ء

 

The Experiments of Radeef in Ghazliat of Wali Dakni, M. N. A. Shahid (2023),zaban o adab, GCU, Uni, Pakistan

اس مقالے میں ولی دکنی کی غزلوں میں ردِیف (ردیف استعمال کرنے کے تجربات) کا مطالعہ کیا گیا ہے۔

ولی دکنی کا پیکر محبوب، عائشہ سلیم،تحقیق نامہ، جی سی یونیورسٹی، لاہور۔

(اس مضمون میں ولی دکنی کی  غزلوں  میں محبوب کا تصور اور اس کی تشبیہات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

Metaphysical Elements in Wali Deccani’s Poetry,N Ali, 2021,makhz.org

ولی کی شاعری میں مابعد الطبیعیاتی (metaphysics)عناصر کا مطالعہ

دکنی غزل کے عشقیہ کرداد اور ولی۔ڈاکٹر خوشتر زریں ملک

بتایا گیا ہے کہ ولی نے دکنی غزل کی عشقیہ صنف کو کس طرح سنوارا۔

“Wali Dakhanī and the development of Dakhani-Urdu Sufi poetry” JA Haywood / Acta Orientalia, Wisdom Library

اس مضمون میں ولی کے فن کو صوفیانہ اُردو شاعری کے ارتقا کے پس منظر میں دیکھا گیا ہے۔

 

A book on the work of classical Urdu poet, Wali Dakni, compiled by Gopi Chand Narang
ولی دکنی۔تصوف انسانیت اور محبت کا شاعر۔مرتبہ گوپی چند نارنگ

ولی دکنی۔مرتبہ گوپی چند نارنگ

یہ بھی پڑھیں۔

داستان امیر حمزہ اور طلسم ہوش ربا کا تعارف ،تجزیہ ،کہانی اور کرداروں کا مطالعہ

داستانِ امیر حمزہ اردو ادب کی عظیم اور کلاسیکی داستانوں میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ داستانِ امیر حمزہ کا سب سے مشہور اور مقبول حصہ طلسمِ ہوشربا ہے اُردو ادب میں ایک مستقل داستان کی حیثیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں

باغ و بہار  کا خلاصہ، تنقیدی جائزہ ،کردار نگاری اور پی ڈی ایف کتب

باغ و بہار‘‘ اردو کلاسیکی نثر کا ایک شاہکار ہے، جس کا خلاصہ، تنقیدی جائزہ اور کردار نگاری آج بھی ادب کے طلبا اور محققین کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس کتاب میں میر امن دہلوی کی روایت کردہ داستان نہ صرف اسلوبِ بیان کی خوبصورتی دکھاتی ہے بل کہ کرداروں کی نفسیاتی پرتیں بھی واضح کرتی ہےزیرِ نظر تحریر میں ’’باغ و بہار پی ڈی ایف‘‘اور اس داستان سے متعلق پی ۔ڈی ۔ایف مواد بھی شامل کردیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں

مثنوی قطب مشتری کا خلاصہ،اسلوب اور ملا وجہی کا تعارف

’’قطب مشتری‘‘ محمد قلی قطب شاہ اور مشتری کے عشق کی داستان ہے اور اسی مناسبت سے اس کا نام ’’قطب مشتری‘‘ رکھا گیا ہے۔ یہ ’’مشتری‘‘ وہی ہے جو بھاگ متی کے نام سے مشہور تھی اور اپنے رقص و موسیقی اور حسن و جمال کی وجہ سے شہرت رکھتی تھی۔

مزید پڑھیں

امام بخش ناسخؔ

شیخ امام بخش، جنھیں دنیائے ادب میں ناسخؔ کے تخلص سے شہرت حاصل ہوئی، اردو شاعری کے ان درخشاں ستاروں میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے لکھنؤ کی ادبی فضا کو جِلا بخشی۔

مزید پڑھیں

ہمارے بارے میں

ذوقِ ادب  ایک آن لائن ادبی دنیا ہے جہاں اردو کے دلدادہ افراد کو نثر و نظم کی مختلف اصناف، کلاسیکی و جدید ادب، تنقید، تحقیق، اور تخلیقی تحریریں پڑھنے اور لکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد اردو زبان و ادب کے فروغ، نئی نسل میں مطالعہ کا ذوق بیدار کرنے اور قاری و قلم کار کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنا ہے۔

Contact

+923214621836

lorelsara0@gmail.com

Scroll to Top